Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

اور اِجابت آسانی سے ہوتی ہی٭ کسی دینی مسئلے پر غور نہ کرے کہ محرومی کا باعث ہے ٭ اس وَقت چھینک٭ سلام یا اذان کا جواب زبان سے نہ دے ٭ اگرخود چھینکے تو زَبان سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ نہ کہے ،  دل میں کہہ لی٭ بات چیت نہ کرے ٭ اپنی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھی٭ اُس نَجاست کونہ دیکھے جو بدن سے نکلی ہے ٭خوامخواہ دیر تک اِستِنجا خانے میں نہ بیٹھے کہ بواسیر ہونے کا اندیشہ ہے ٭ پیشاب میں نہ تھوکے،نہ ناک صاف کرے،نہ بِلاضَرورت کھنکارے،نہ باربار  اِدھر اُدھر دیکھے، نہ بیکار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کرے ، بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہی٭ قضائے حاجت سے فارِغ ہونے کے بعد پہلے پیشاب کامقام دھوئے پھر پاخانے کا مقام ٭ پانی سے اِستِنجا کرنے کا مُستَحَب طریقہ  یہ ہے کہ ذرا کُشادہ (یعنی کُھلا) ہو کر بیٹھے اور سیدھے ہاتھ سے آہِستہ آہِستہ پانی ڈالے اور اُلٹے ہاتھ کی انگلیوں کے پیٹ سے نَجاست کے مقام کو دھوئے اُنگلیوں کا سِرا نہ لگے اور پہلے بیچ کی اُنگلی اونچی رکھے پھر اس کے برابر والی اِس کے بعد چھوٹی انگلی کو اُونچی رکھے،لوٹا اُونچا رکھے کہ چھینٹیں نہ پڑیں ،  سیدھے ہاتھ سے اِستنجا کرنا  مکروہ ہے اور دھونے میں مُبالَغہ کرے یعنی سانس کا دباؤ  نیچے کی جانِب ڈالے یہاں تک کہ اچّھی طرح نَجاست کا مَقام دُھل جائے یعنی اس طرح کہ چِکنائی کا اثر باقی نہ رہے اگر روزہ دار ہو تو پھر مُبالَغہ نہ کری٭طہارت حاصِل ہونے کے بعد ہاتھ بھی پاک ہوگئے لیکن بعد میں صابُن وغیرہ سے بھی دھولے(بہارِ شریعت ج۱ ص۴۰۸تا۴۱۳،رَدُّالْمُحتار ج۱ص۶۱۵) ٭ جب اِستِنجا خانے سے نکلے تو پہلے سیدھاقدم باہَر نکالے اور باہر نکلنے کے بعد (اوّل آخر درود شریف کے ساتھ )یہ دُعا پڑھے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الاَذٰی وَعَافَانِیْترجمہ:  اللہ  تعالٰیکا شکر ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو دور کیا اور مجھے عافیت (راحت) بخشی۔( سُنَن ابن ماجہ ج۱ص۱۹۳حدیث۳۰۱)

            بہتر یہ ہے کہ ساتھ میں یہ دُعا بھی ملا لے اِس طرح دو حدیثوں پر عمل ہو جائیگا : غُفْرَانَکترجمہ : میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلّ  سے مغفِرت کا سُوال کرتا ہوں ۔(سُنَنِ تِرمِذی ج۱ص۸۷حدیث۷)

آب زم زم سے استِنجا کرنا کیسا؟

 ٭زمزم شریف سے استنجا کرنا مکروہ ہے  اور ڈَھیلا نہ لیا ہو تو ناجائز(بہارِشریعت ج۱ص۴۱۳) ٭وُضو کے بقیہ پانی سے طہارت کرنا خلافِ اَولیٰ ہے(اَیْضاً) ٭طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کر سکتے ہیں ،  بعض لوگ جو اس کو پھینک دیتے ہیں یہ نہ چاہیے اِسراف میں داخل ہے۔        (بہارِ شریعت ج۱ص۴۱۳)

اِستِنجا خانے کا رُخ دُرُست رکھئے

            اگرخدانخواستہ آپ کے گھر کے اِستنجا خانے کا رُخ غَلَط ہے یعنی بیٹھتے وَقت قِبلہ کی طرف مُنہ یا پیٹھ ہوتی ہے تو اِس کو دُرُست کرنے کی فوراً ترکیب کیجئے۔ مگر یہ ذِہن میں رہے کہ معمولی سا تِرچھا کرنا کافی نہیں ۔ W.C. اِس طرح ہو کہ بیٹھتے وَقت مُنہ یا پیٹھ قِبلہ سے 45ڈگری کے باہَر رہے۔ آسانی اِسی میں ہے کہ قِبلہ سے 90ڈگری پر رُخ رکھئے یعنی نَماز کے بعد دونوں بار سلام پھیرنے میں جس طرف منہ کر تے ہیں ان دونوں سَمتوں میں سے کسی ایک جانِب W.C.کا رُخ رکھئے

استِنجا کے بعد قدم دھو لیجئے

            پانی سے استِنجا کرتے وقت عُمُوماً پاؤ ں کے ٹخنوں کی طرف چھینٹے آ جاتے ہیں لہٰذا اِحتیاط اِسی میں ہے کہ بعدِ فراغت قدموں کے وہ حصّے دھو کر پاک کرلئے جائیں مگر یہ خیال رہے کہ دھونے کے دَوران اپنے کپڑوں یا دیگر چیزوں پر چھینٹے نہ پڑیں

بِل میں پیشاب کرنا

            رَحمت والے آقا ،  دو جہاں کے داتا،شافِعِ روزِ جزا،مکّی مدنی مصطَفٰے،  محبوبِ کبریاصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شفقت نشان ہے : تم میں سے کوئی شخص سُوراخ میں پیشاب نہ کرے۔       (سُنَنِ نَسائی ص۱۴حدیث۳۴)

حمّام میں پیشاب کرنا

            سرکارِمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا: ’’  کوئی غُسل خانے میں پیشاب نہ کرے، پھر اس میں نہائے یا وُضو کرے کہ اکثر وَسوسے اس سے ہوتے ہیں ۔ (سنن ابی داودج۱ص۴۴حدیث ۲۷)

             مُفَسّرشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :اگر غسل خانے کی زمین پختہ ہو، اور اس میں پانی خارِج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حَرَج نہیں اگر چِہ بہتر ہے کہ نہ کرے، لیکن اگر زمین کچّی ہو، اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت بُرا ہے کہ زمین نَجس ہو جائے گی ،  اور غسل یا وُضُو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔ یہاں دوسری صورت ہی مُراد ہے اِس لیے تاکیدی مُمانَعَت فرمائی گئی ،  یعنی اس سے وَسوسوں اور وَہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تجرِبہ ہے یا گندی چِھینٹیں پڑنے کا وَسوَسہ رہے گا۔       (مِراٰۃ المناجیح ج۱ص۲۶۶)

 استِنجا کے ڈھیلوں کے اَحکام

٭آگے پیچھے سے جب نَجاست نکلے تو ڈھیلوں سے استِنجا کرنا سنّت ہے اور اگر صِرف پانی ہی سے طہارت کر لی تو بھی جائز ہے ،  مگرمُستَحَب یہ ہے کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طَہارت کرے ٭ آگے اور پیچھے سے پیشاب ، پاخانے کے سوا کوئی اور نَجاست ،  مَثَلاًخون، پیپ وغیرہ نکلے، یا اس جگہ خارِج سے نَجاست لگ جائے توبھی ڈَھیلے سے صاف کر لینے سے طہارت ہو جائے گی، جب کہ اس مَوضع (یعنی جگہ ) سے باہَر نہ ہو مگر دھو ڈالنا مُستَحَب ہے ٭ڈَھیلوں کی کوئی تعداد مُعَیَّن (یعنی مقرَّرہ تعداد) سنّت نہیں ،  بلکہ جتنے سے صفائی ہو جائے، تو اگر ایک سے صفائی ہو گئی سنّت ادا ہوگئی اور اگر تین ڈَھیلے لیے اور صفائی نہ ہوئی سنّت ادا نہ ہوئی، البتّہمُستَحَبیہ ہے کہ طاق (مَثَلاً ایک،تین ، پانچ )ہوں اور کم سے کم تین ہوں تو اگر  ایک یا دو سے صفائی ہو گئی تو تین کی گنتی پوری کرے، اور اگر چار سے صفائی ہو توایک اور لے کہ طاق ہو جائیں ٭ڈَھیلوں سے طہارت اُس وَقت ہو گی کہ نَجاست سے  مَخرج (یعنی خارج ہونے کی جگہ )کے آس پاس کی جگہ ایک دِرہم([1])سے زِیادہ آلودہ نہ ہو اور اگر دِرہم سے زِیادہ سَن جائے تودھونا فرض ہے ، مگر ڈَھیلے لینا اب بھی سنّت رہے گا ٭کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا ، یہ سب ڈَھیلے کے حکم میں



[1]   درہم کی مقدار مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ بہار شریعت جلد1حصہ 2صفحہ389پر ملا حَظہ فرمایئے۔

 



Total Pages: 194

Go To