Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

المُبَلِّغین،رَحمۃٌ لِّلْعٰلمِینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا : ’’ فرضوں کے بعد افضل نَماز رات کی نماز ہے۔ ‘‘  (صَحِیح مُسلِم ، ص ۵۹۱ حدیث ۱۱۶۳)

            سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو                         لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو

ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                                پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا علَی الحبیب!                         صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد

             اے ہمارے پیارے  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  !  ہمیں کم سونے اور سنت کے مطابق سونے کی توفیق مرحمت فرما ۔   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَمِیْنصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

٭٭٭٭٭

’’ مسواک کرنا سنت مبارکہ ہے  ‘‘  کے بیس حُرُوف کی نسبت سے مسواک کے 20 مدنی پھول

         پہلیدو فرامینِمصطَفٰیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ملاحظہ ہوں : ٭دو رَکعت مِسواک کر کے پڑھنا بغیرمِسواک کی 70 رَکعتوں سے اَفضل ہے(اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۱ص۱۰۲ حدیث۱۸)٭مِسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو کیونکہ اِس میں منہ کی صفائی اور رب تعالیٰ کی رِضا کا سبب ہے (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۲ ص۴۳۸حدیث ۵۸۶۹)٭ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 288پرصدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیلکھتے ہیں : مَشایخ کِرام فرماتے ہیں : جو شخص مِسواک کا عادی ہو مرتے وَقت اُسیکلمہ پڑھنا نصیب ہوگا  اور جو اَفیون کھاتا ہو مرتے وَقت اسے کلمہ نصیب نہ ہوگا٭حضرتِ  سیِّدُنا ابنِ عبّاسرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم اسے روایت ہے کہ مِسواک میں دس خوبیاں ہیں :منہ صاف کرتی ،  مَسُوڑھے کو مضبوط بناتی ہے، بینائی بڑھاتی ،  بلغم دُور کرتی ہے ،  منہ کی بدبو ختم کرتی ،  سنّت کے مُوافِق ہے ، فرشتے خوش ہوتے ہیں ،  رب راضی ہوتا ہے، نیکی بڑھاتی اور معدہ دُرُست کرتی ہے (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۵ ص۲۴۹حدیث ۱۴۸۶۷)٭ حضرتِ  سیِّدُنا عبدا لوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نقل کرتے ہیں : ایک بار حضرت ِسیِّدنا ابو بکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھادِیکو وضوکے وَقت مِسواک کی ضَرورت ہوئی، تلاش کی مگر نہ ملی،لہٰذا ایک دینار (یعنی ایک سونے کی اشرفی) میں مِسواک خرید کر استعمال فرمائی۔ بعض لوگوں نے  کہا : یہ تو آپ نے بَہُت زیادہ خرچ کر ڈالا!  کہیں اتنی مہنگی بھی مِسواک لی جاتی ہے؟  فرمایا: بیشک یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے نزدیک مچھّر کے پر برابر بھی حیثیَّت نہیں رکھتیں ، اگر بروزِ قِیامت  اللہ عَزَّوَجَلَّ   نے مجھ سے یہ پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا کہ  ’’  تو نے میرے پیارے حبیب کی سنّت (مِسواک) کیوں ترک کی؟  جو مال و دولت میں نے تجھے دیاتھااُس کی حقیقت تو(میرے نزدیک) مچھر کے پر برابر بھی نہیں تھی ، توآخر ایسی حقیر دولت اِس عظیم سنّت( مِسواک) کو حاصل کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی؟  ‘‘ (مُلَخَّص ازلواقح الانوار ص ۳۸)٭سیِّدنا امام شافِعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :چار چیزیں عقل بڑھاتی ہیں : فضول باتوں سے پرہیز، مِسواک کا استِعمال،صُلَحا یعنی نیک لوگوں کی صحبت اور اپنے علم پر عمل کرنا(اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۲۷)٭ مِسوا ک پیلو یا زیتون یا نیم وغیرہ کڑوی لکڑی کی ہو٭مِسواک کی موٹائی چھنگلیا یعنی چھوٹی اُنگلی کے برابر ہو٭ مِسوا ک ایک بالِشت سے زیادہ لمبی نہ ہو ورنہ اُس پر شیطان بیٹھتا ہی٭اِس کے رَیشے نرم ہوں کہ سخت رَیشے دانتوں اور مَسُوڑھوں کے درمیان خَلا (GAP)کا باعث بنتے ہیں ٭ مِسواک تازہ ہوتوخوب(یعنی بہتر) ورنہ کچھ دیر پانی کے گلاس میں بِھگو کر نرم کرلیجئے٭ مناسب ہے کہ اِس کے رَیشے روزانہ کاٹتے رہئے کہ رَیشے اُس وقت تک کارآمد رہتے ہیں جب تک ان میں تَلخی باقی رہے ٭ دانتوں کی چَوڑائی میں مِسواک کیجئی٭ جب بھی مِسواک کرنی ہو کم از کم تین بار کیجئے ٭ ہر بار دھو لیجئی٭مِسواک سیدھے ہاتھ میں اِس طرح لیجئے کہ چھنگلیا یعنی چھوٹی اُنگلی اس کے نیچے اور بیچ کی تین اُنگلیاں اُوپر اور انگوٹھا سِرے پر ہو٭پہلے سیدھی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر اُلٹی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر سیدھی طرف نیچے پھر اُلٹی طرف نیچے مِسواک کیجئے ٭ مٹھی باندھ کرمِسواک کرنے سے بواسیر ہوجانے کا اندیشہ ہے ٭ مِسواک وضو کی سنَّتِ قَبلیہ ہے البتّہسنَّتِ مُؤَکَّدَہ اُسی وقت ہے جبکہ منہ میں بدبو ہو ( ما خوذ از فتاویٰ رضویہ ج۱ ص ۶۲۳ ) ٭ مِسواک جب ناقابلِ اِستعمال ہوجائے تو پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنّت ہے، کسی جگہ اِحتیاط سے رکھ دیجئے یا دَفن کردیجئے یا پتھروغیرہ وزن باندھ کر سمندر میں ڈبود یجئے ۔

            حضرتِ  ابودرداء     رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : مسواک کو لازِم کرلو، اس میں غَفلت نہ کرو، کیونکہ مِسوَاک میں چوبیس خُوبیاں ہیں ۔ اِن میں سب سے بڑی خُوبی یہ ہے کہ  اللہ   عَزَّوَجَلَّ ر اضی ہوتا ہے ،  مالداری اور کُشادگی پیدا ہوتی ہے، مُنہ میں خُوشبو پیدا ہوتی ہے، مَسُوڑھے مَضبوط ہوجاتے ہیں ،  دردِ سَر کو سُکون ہوتاہے، داڑھ کا درد دُور ہوتا ہے اورچہرے کے نُور اور دانتوں کی چمک کی وجہ سے فِرشتے مُصافحہ کرتے ہیں ۔  (فیض القدیر ، ج۴،ص۵۹۳،تحت الحدیث:۵۹۳۰) ( مزیدمعلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صفحہ294تا  295کا مطالعہ فرما لیجئے )

 ’’ قبور کی زیارت سنَّت ہے  ‘‘  کے سولہ حُرُوف کی نسبت سے قبرِستان کی حاضِری کے 16 مدنی پھول

          ٭ تا جدا ر مد ینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظیم ہے: ’’  میں تمہیں زیارتِ قُبُور سے منع کیاکرتا تھا، لیکن اب تم قبروں کی زیارت کرو کیونکہ یہ دُنیا میں بے رغبتی کا سبب اور آخِرت کی یاد دلاتی ہے   ( اِبن ماجہ ج۲ص۲۵۲حدیث۱۵۷۱) ٭قبورِمسلمین کی زیارت سنّت اور مزاراتِ اولیاء ِکرام و شُہَدائِ عظام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلا مُکی حاضری سعادت بَر سعادت اور انہیں ایصالِ ثواب مَندُوب (یعنی پسندیدہ) و ثواب (فتاوٰی رضویہ ج ۹ص۲ ۳ ۵)٭(ولیُّ اللّٰہ کے مزار شریف یا) کسی بھی مسلمان کی قَبْر کی زیارت کو جانا چاہے تو مُستَحَبیہ ہے کہ پہلے اپنے مکان پر (غیر مکروہ



Total Pages: 194

Go To