Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

بچے کہ  تکبُّر بَہُت بُری صِفَت ہے۔ (رَدُّالْمُحتارج ۹ ص ۵۷۹ )

مدنی حُلیہ

            داڑھی ،  زلفیں ،  سر پر سبز سبز عمامہ شریف( سبز رنگ گہر ا یعنی ڈارک نہ ہو )  سفید کرتا کلی والاسنَّت کے مطابِق آدھی پنڈلی تک لمبا، آستینیں ایک بالِشت چوڑی ،  سینے پر دل کی جانب والی جیب میں نُمایاں مسواک، پاجامہ یا شلوار ٹخنوں سے اُوپر۔(سر پر سفید چادر اور پردے میں پردہ کرنے کیلئے مدنی انعامات پر عمل کرتے ہوئے کتھی ٔ چادر بھی ساتھ رہے تو مدینہ مدینہ )

                                                دعائے عطّار! یا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے اور مدنی حُلیے میں رہنے والے تمام اسلامی بھائیوں کو سبز سبز گنبد کے سائے میں شہا دت ،  جنَّتُ البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں اپنے پیارے محبوبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاپڑوس نصیب فرما۔

 ’’ عمامہ باندھنا سنّت ہے ‘‘  کے سترہ حُرُوف کی نسبت سے عمامے  کے17 مدنی پھول

چھ فرامِینِ مصطَفٰیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   :

 { 1 } عمامے کے ساتھ دو رَکعت نَمازبِغیر عمامے کی ستّر (70) رَکعتوں سے اَفضل ہے(اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخَطّاب ج۲ص۲۶۵ حدیث۳۲۳۳) { 2} ٹوپی پر عمامہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ہے ہر پیچ پرکہ مسلمان اپنے سر پر دے گا اس پر روزِ قیامت  ایک نور عطا کیا جائے گا(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِی ص۳۵۳حدیث۵۷۲۵) { 3}   بے شک اللہ    عَزَّوَجَلَّاور اس کے فرِشتے دُرُود بھیجتے ہیں جمعے کے روز عمامے والوں پر (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخَطّاب ج۱ص۱۴۷ حدیث۵۲۹) { 4} عمامے کے ساتھ نَماز دس ہزار  نیکیوں کے برابر ہے(ایضاً ج۲ص۴۰۶ حدیث۳۸۰۵ وفتاوٰی رضویہ ج۶ص۲۲۰) { 5}  عمامے کے ساتھ ایک جُمُعہ بغیر عمامے کے ستّر (70)جُمعوں کے برابر ہے (تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکِر ج۳۷ ص۳۵۵) { 6} عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھوتمہاراوقاربڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اُس کے لئے ہر پیچ پر ایک نیکی ہے(جَمْعُ الْجَوامِع للسیوطی ج۵ص۲۰۲حدیث ۱۴۵۳۶) {7}  دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1334 صَفحات پرمشتمل کتاببہارِ شریعت،جلد سوم حصّہ16 صَفْحَہ 660پر ہے: عمامہ کھڑے ہوکر باندھے اور پاجامہ بیٹھ کر پہنے، جس نے اس کا الٹا کیا (یعنی عمامہ بیٹھ کر باندھا اور پاجامہ کھڑے ہو کرپہنا)وہ ایسے مرض میں مبتَلا ہوگا جس کی دوا نہیں {8}  مناسِب یہ ہے کہ عمامے کا پہلا پیچ سر کی سیدھی جانب جائے(فتاوی رضویہ ج۲۲ ص ۱۹۹) {9} نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلاۃُوَالتَّسْلِیمکے مبارَک عِمامے کا شِملہ عُمُوماً پُشت (یعنی پیٹھ مبارک) کے پیچھے ہوتا تھا  اور کبھی کبھی سیدھی جانب،کبھی دونوں کندھوں کے درمِیان دو شملے ہوتے ،  اُلٹی جانب  شملہ کا لٹکاناخلافِ سنّت ہے(اشعۃ اللّمعات ج۳ ص۵۸۲)  {10}  عمامے کے شملے کی مقدارکم از کم چار انگل اور زیادہ سے زیادہ (آدھی پیٹھ تک یعنی تقریباً) ایک ہاتھ (فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ص۱۸۲) { 11 }  عمامہ قبلہ رُو کھڑے کھڑے باندھئے (کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس ص۳۸)  {13-12} عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی  گز سے کم نہ ہو، نہ چھ گز سے زیادہ اور اس کی بندِش گنبد نُما ہو (فتاوی رضویہ ج۲۲ص۱۸۶) {15-14}  رومال اگربڑا ہو کہ اتنے پیچ آسکیں جو سر کو چھپالیں تووہ عمامہ ہی ہوگیا اور چھوٹا رومال جس سے صرف  دو ایک پیچ آسکیں لپیٹنا مکروہ ہے( ایضاً ج۷ ص ۲۹۹ ) {16}  عمامہ اُتارتے وَقت (بندھا بندھایا رکھ دینے کے بجائے) ایک ایک کر کے پیچ کھولا جائے (فتاوٰی ھندیۃ ج۵ ص۳۳۰)  {17}  علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلَوی رَحِمَہُ اللّٰہُتعالٰی فرماتے ہیں : دَسْتار مُبارَک آنْحَضرَتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دَر اَکْثَر سَفَیْد بُوْد وَ گاہَے سِیاہ اَحیاناً سَبْز۔ ترجمہ:  نبیِّ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا عمامہ شریف اکثر سفید ،  کبھی سیاہ اور کبھی کبھیسبز ہوتا تھا۔  (کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس ص۳۸)

            سنَّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافِلوں میں سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

جوتا پہننے کی سنتیں اورآداب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            نعلین پہننا سرکار ِمدینہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت ہے ۔ جوتے پہننے سے کنکر ،  کانٹے وغیرہ چبھنے سے پاؤ ں کی حفاظت رہتی ہے ۔ نیز موسم سرما میں سردی سے بھی پاؤ ں محفوظ رہتے ہیں اور گر میوں میں دھوپ میں چلنے کے لئے جوتے نہایت ہی کار آمد ہیں ۔ جوتا پہننے کی چند سنتیں اور آداب ملاحظہ ہوں :

            ٭ کسی بھی رنگ کا جوتا پہننا اگرچہ جائز ہے لیکن پیلے رنگ کے جوتے پہننا بہتر ہے کہ مولا مشکل کشا ، علی المرتضیٰ   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں جو پیلے جوتے پہنے گا اس کی فکروں میں کمی ہوگی ۔(کشف الخفائ،الحدیث:۲۵۹۵،ج۲،ص۲۴۶ )

            ٭ پہلے سیدھا جوتا پہنیں پھر الٹا اور اتارتے وقت پہلے الٹا جوتا اتاریں پھر سیدھا ۔حضرت سیدناابوہریرہ   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب ، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ (کوئی شخص)جب جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں میں پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کا اتارے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، کتاب اللباس ، باب لبس النعال وخلعھا ، الحدیث ۳۶۱۶،ج۴،ص۱۶۶)



Total Pages: 194

Go To