Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            ٭ مجلس سے فارغ ہوکر یہ دعا تین بار پڑھ لیں تو گناہ معاف ہوجائیں گے۔ اور جواسلامی بھائی مجلسِ خیر و مجلسِ ذکر میں پڑھے تو اس کیلئے اس خیر پر مہر

 لگا دی جائے گی ۔ وہ دعا یہ ہے:  ’’ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِ کَ لا اِلٰہ اِلا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ ‘‘ ترجمہ : تیری ذات پاک ہے اوراے اللّٰہ!  تیرے ہی لئے تمام خوبیاں ہیں ، تیرے سواکوئی معبود نہیں ،  تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف تو بہ کرتا ہوں ۔(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی کفارۃ المجلس،الحدیث:۴۸۵۷،ج۴،ص۳۴۷)

            ٭جب کوئی عالم با عمل یا متقی شخص یا سید صاحب یا والدین آئیں تو تعظیماً کھڑے ہوجانا ثواب ہے۔

          حکیم الامّت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہالغَنِی لکھتے ہیں :  بزرگوں کی آمد پر یہ دونوں کام یعنی تعظیمی قیام اور استقبال جائز بلکہ سنتِ صحابہ ہے بلکہ حضورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سنّت قولی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۳۷۰)

            اے ہمارے پیارے  اللہ عَزَّوَجَلَّ!

             ہمیں اٹھنے بیٹھنے کی سنّتوں اور آداب پرعمل پیرا ہونے کی توفیقِ رفیق مرحمت فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭

لباس پہننے کے آداب

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں لباس کی دولت عطا کی۔ لباس سے ہم سردی،گرمی کے اثرات سے اپنی حفا ظت کرسکتے ہیں ،  یہ لباس ہماری زینت کا سبب بھی ہے اور سببِ وقار بھی ہے ۔ ہر قوم کا جدا جدا لباس ہوتا ہے ،  مگر مسلمان کا لباس سب سے ممتاز ہے ۔

            ٭  سفید لباس ہر لباس سے بہتر ہے اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس کو پسندفرمایاہے ۔ حضرت سیدناسمرہ   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاکصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’  سفید لباس پہنو کیونکہ یہ زیادہ صاف اورپاکیزہ ہے اور اپنے مُردوں کو بھی اسی میں کفناؤ ۔ ‘‘ ( جامع ترمذی،ج۴،ص۳۷۰،حدیث:۲۸۱۹)

 ’’ مدنی حُلیہ اپناؤ ‘‘  کے چودہ حُرُوف کی نسبت سے لباس  کے 14 مدنی پھول

        ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المبین سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو  ’’  سنّتِ رسول  ‘‘  نہیں کہہ سکتے۔

                پہلے تین فرامینِمصطَفٰے ملاحَظہ ہوں :  {1} جنّ کی آنکھوں اور لوگوں کے سِتْرکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی کپڑے اتارے تو  بِسْمِ اللّٰہکہہ لے(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَطج۱۰ص۱۷۳حدیث ۱۰۳۶۲)حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان نعیمی  علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الغَنِی  فرماتے ہیں : جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ کیلئے آڑ بنتے ہیں ایسے ہی یہ اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ) کا ذکر جنّات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنّات اس کو دیکھ نہ سکیں گے( مراٰۃ المناجیح ، ج۱، ص ۲۶۸ )   {2} جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِحَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍٍ ۔تواس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے(سنن ابی داود ج۴ ص۵۹حدیث ۴۰۲۳) {3} جو باوُجُودِ قدرت اچّھے کپڑے پہننا تواضُع( عاجِزی) کے طور پر چھوڑ دے ،   اللہ  عَزَّوَجَلَّ اس کو کرامت کا حُلّہ پہنائے گا(اَیضاً ص۳۲۶ حدیث  ۴۷۷۸) {4 } نبیٔ پاکصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مبارک لباس اکثر سفید کپڑے کا ہوتا(کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس ص۳۶) {5} لباس حلال کمائیسے ہو اور جو لباس حرام کمائی سے حاصل ہوا ہو، اس میں فرض ونَفل کوئی نَماز قَبول نہیں ہوتی۔(اَیضا ً۴۱) {6} مَنْقُول ہے: جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا ، یا کھڑے ہو کرسَراوِیل (یعنی پا جا مہ یا شلوار ) پہنی تو  اللہ  عَزَّوَجَلَّ اسے ایسے مرض میں مبتَلا فرمائے گا جس کی دوا نہیں (ایضاً ص ۳۹ ) {7}  پہنتے وَقت سیدھی طرف سے شُروع کیجئے(کہ سنّت ہے) مَثَلاً جب کُرتاپہنیں تو پہلے سیدھی  آستین میں سیدھا ہاتھ داخل کیجئے پھر الٹا ہاتھ الٹی آستین میں (اَیضاً۴۳)   {8}  اسی طرح پاجامہ پہننے میں پہلے سیدھے پائنچے میں سیدھا پاؤں داخل کیجئے اور جب (کُرتا یا پاجامہ) اُتارنے لگیں تو اس کے برعکس یعنی اُلٹی طرف سے شروع کیجئے  {9} دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1334 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ بہارِشریعت،جلد سوم ‘‘ حصّہ 16 صَفْحَہ 409پر ہے: سنّت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پَوروں تک اور چوڑائی ایک بالِشت ہو (رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۵۷۹)  {10}  سنّت یہ ہے کہ مرد کا تہبند یا پاجامہ ٹخنے سے اُوپر رہے(مراٰۃالمناجیح ج۶ ص۹۴)  {11} مرد مردانہ اور عورت زَنانہ ہی لباس پہنے۔چھوٹے بچّوں اور بچیوں میں بھی اِس بات کا لحاظ رکھئے  {12} :مرد کیلئے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک  ’’  عورت  ‘‘ ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے، ناف اس میں داخل نہیں اور گھٹنے داخل ہیں ۔( درمختار و ردالمحتار ج۲ ص۹۳ )

            اس زمانہ میں بَہُتِیرے ایسے ہیں کہ تہبند یا پاجامہ اِس طرح پہنتے ہیں کہ پَیڑُو(یعنی ناف کے نیچے)

Total Pages: 194

Go To