Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            سُبْحٰنَ اللّٰہ!   اللہ   والے راہ چلتے ہوئے بِلا ضَرورت بِالْخُصُوص بھیڑکے موقَع پر اِدھر اُدھر دیکھتے ہی نہیں کہ مَبادا(یعنی ایسا نہ ہو) شرعاًجس کی اجازت نہیں اُس پر نظر پڑجائے ! یہ اُن بزرگ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہکا تقویٰ تھا،مسئلہ یہ ہے کہ کسی عورت پر بے اختیار نظر پڑبھی جائے اور فوراً لوٹالے توگناہ گار نہیں  {8} کسی کے گھر کی بالکونی یاکِھڑکی کی طرف بِلاضَرورت نظر اٹھا کر دیکھنا مناسِب نہیں  {9}  چلنے یا سیڑھی چڑھنے اُترنے میں یہ احتیاط کیجئے کہ جوتوں کی آواز پیدا نہ ہو ہمارے پیارے پیارے آقاصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جوتوں کی دَھمک ناپسند تھی  {10} راستے میں دو عورَتیں کھڑی ہوں یا جارہی ہوں تو ان کے بیچ میں سے نہ گزریں کہ حدیثِ پاک میں اس کی مُمانَعَت آئی ہے  {11}  راہ چلتے ہوئے، کھڑے بلکہ بیٹھے ہونے کی صورت میں بھی لوگوں کے سامنے تھوکنا، ناک سنکنا، ناک میں انگلی ڈالنا،کان کُھجاتے رہنا،بدن کا میل اُنگلیوں سے چُھڑانا، پردے کی جگہ کُھجانا وغیرہ تہذیب کے خلاف ہے  {12} بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ راہ چلتے ہوئے جو چیز بھی آڑے آئے اُسے لاتیں مارتے جاتے ہیں ،  یہ قَطْعاً غیر مہذَّب طریقہ ہے،اِس طرح پاؤ ں زخمی ہونے کا بھی اندیشہ رہتا ہے، نیز اَخبارات یا لکھائی والے ڈِبّوں ،  پیکٹوں اورمِنرل واٹر کی خالی بوتلوں وغیرہ پر لات مارنا بے اَدَبی بھی ہے  {13}  پیدل چلنے میں جو قوانین خلافِ شرع نہ ہوں اُن کی پاسداری کیجئے مَثَلاً گاڑیوں کی آمدورفت کے موقع پر سڑک پار کرنے کیلئے  مُیسَّر ہو تو ’’ زیبرا کراسنگ ‘‘  یا  ’’ اَووَر ہیڈپُل ‘‘  ا ستِعمال کیجئے {14}   جس سَمت  سے گاڑیاں آرہی ہوں اُس طرف دیکھ کر ہی سڑک عُبور کیجئے، اگر آپ بیچ سڑک پر ہو ں اورگاڑی آرہی ہو توبھاگ پڑنے کے بجائے وَہیں کھڑے رہ جایئے کہ اس میں حفاظت زیادہ ہے نیز ریل گاڑی گزرنے کے اَوقات میں پَٹْریاں عُبور کرنااپنی موت کو دعوت دینا ہے،ریل گاڑی کو کافی دور سمجھ کرگزرنے والے کو جلدی یا بے خیالی میں کسی تار وغیرہ میں پاؤ ں الجھ جانے کی صورت میں گرنے اور اوپر سے ریل گاڑی گزر جانے کے خطرے کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے نیز بعض جگہیں ایسی ہوتی  ہیں جہاں پٹری سے گزرنا ہی خلافِ قانون ہوتاہے خُصُوصا اسٹیشنوں پر، ان قوانین پر عمل کیجئے  {15}  عبادت پر قوّت حاصِل کرنے کی نیّت سے حتَّی الامکان روزانہ پَون گھنٹہ  ذِکر ودُرود کے ساتھ پیدل چلئے   اللہ  عَزَّوَجَلّ صحّت اچھّی رہے گی۔

   چلنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ شروع میں 15مِنَٹ تیز تیز قدم ، پھر 15 مِنَٹ درمیانہ، آخِر میں 15مِنَٹ پھر تیز قدم چلئے ، اس طرح چلنے سے سارے جسم کو ورزِش ملیگی ،   اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نظامِ اِنْہِضام (ہاضِمہ ) دُرُست رہے گا، دل کے اَمراض اور دیگربے شمار بیماریوں سے بھی  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ حفاظت ہو گی۔

            اے ہمارے پیارے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں پیا رے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کے مطابق درمیانہ ،  تکبر سے بالکل پاک چال چلنے کی تو فیق عطا فرما اور ہمیں راستے کے ایک طرف ، اِدھر اُدھر جھانکے تا کے بغیر سر جھکا کر شریفانہ  چال چلنے کی تو فیق مرحمت فرما ۔

بیٹھنے کی سنتیں اور آداب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            ہمارا اٹھنا بیٹھنا بھی سنّت کے مطابق ہونا چاہئے ۔ ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اکثر قبلہ شریف کی طر ف روئے انور کر کے بیٹھا کرتے تھے ۔ زہے نصیب ہم بھی کبھی کبھی قبلہ رو ہو کر بیٹھیں تو کبھی مدینہ منوّرہ کی طرف منہ کر کے بیٹھیں کہ یہ بھی بہت بڑی سعادت ہے کا ش !  مدینہ پاک کی طرف رخ کر کے بیٹھتے وقت یہ تصور بھی بندھ جائے اور زبان حال سے یہ اظہار ہونے لگے ۔

دیدار کے قابل تو کہا ں میری نظر ہے

یہ تیری عنایت ہے جو رخ تیرا ادھر ہے

          بیٹھنے کی چند سنّتیں اور آداب ملاحظہ ہوں :

          ٭ سرین زمین پر رکھیں اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا کر کے دونوں ہاتھوں سے گھیر لیں اور ایک ہاتھ سے دوسرے کو پکڑ لیں ،  اس طرح بیٹھنا سنت ہے( لیکن اس دوران گھٹنوں پر کوئی چادروغیرہ اوڑھ لینا بہتر ہے) (مراٰۃالمناجیح ، ج۶،ص۳۷۸)

            ٭ چارزانو (یعنی پالتی مار کر) بیٹھنا بھی نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہے۔

            ٭ جہاں کچھ دھوپ اور کچھ چھاؤں ہو وہاں نہ بیٹھیں ۔حضرت سیدنا ابوہریرہ   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب،  مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو اور اس پر سے سایہ رخصت ہوجائے اور وہ کچھ دھوپ کچھ چھاؤں  میں رہ جائے تو اسے چاہیے کہ وہاں سے اٹھ جائے۔‘‘ (سنن ابی داود،کتابالادب،باب فی الجلوس بین الظل والشمس،الحدیث:۴۸۲۱،ج۴،ص ۳۴۴)

            ٭قبلہ رخ ہو کر بیٹھیں ۔ (رسائل عطاریہ،حصہ۲،ص۲۲۹)

            ٭ بزرگوں کی نشست پر بیٹھنا ادب کے خلاف ہے۔

          اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن لکھتے ہیں : پیر واستاذ کی نشست پر انکی غَیْبَتْ(یعنی غیرموجودگی )میں بھی نہ بیٹھے۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۴،ص۳۶۹؍۴۲۴)

            ٭ کو شش کر یں کہ اٹھتے بیٹھتے وقت بزرگان دین کی طر ف پیٹھ نہ ہونے پائے او ر پاؤ ں تو ان کی طرف نہ ہی کریں ۔

          ٭جب کبھی اجتماع یا مجلس میں آئیں تولوگو ں کو پھلانگ کر آگے نہ جائیں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں ۔

            ٭جب بیٹھیں تو جوتے اُتارلیں آپ کے قد م آرام پائیں گے ۔( الجامع الصغیر ، الحدیث۵۵۴،ص۴۰ )

 



Total Pages: 194

Go To