Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

)مفسرشہیرحکیمُ الْاُمَّتمفتی احمد یار خان     علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : برتن میں سانس  لینا جانوروں کا کام ہے نیز سانس کبھی زہریلی ہوتی ہے اِس لیے برتن سے الگ منہ کر کے سانس لو ، (یعنی سانس لیتے وقت گلاس منہ سے ہٹا لو)گرم دودھ یا چائے کو پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرو بلکہ کچھ ٹھہرو ، قدرے ٹھنڈی ہو جائے پھر پیو(مراٰۃ المناجیح ج۶ ص ۷۷) البتّہ درودِ پاک وغیرہ پڑھ کر بہ نیتِ شفا پانی پر دَم کرنے میں حَرَج نہیں  {3}   پینے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہ پڑھ لیجئے  {4}  چوس کرچھوٹے چھوٹے گُھونٹ سے پیجئے  بڑے بڑے گُھونٹ پینے سے جِگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے  {5} پانی تین سانس  میں پیجئے {7-6} سیدھے ہاتھ سے اور بیٹھ کر پانی نوش کیجئے  {8}  لوٹے وغیرہ سے وضو کیا ہو تو اُس کا بچا ہوا پانی پینا 70مرض سے شفا ہے کہ یہ آبِ زم زم شریف کی مُشابَہَت رکھتا ہے، ان دو (یعنی وضو کا بچا ہوا پانی اورزم زم شریف)کے علاوہ کوئی سابھی پانی کھڑے کھڑے پینا مکروہ ہے (ماخوذ فتاوی رضویہ ج۴ص۵۷۵وج۲۱ ص۶۶۹ ) یہ دونوں پانی قبلہ رُو ہو کر کھڑے کھڑے پئیں  {9}  پینے سے پہلے دیکھ لیجئے کہ پینے کی شے میں کوئی نقصان دہ چیز وغیرہ تو نہیں ہے  ( اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۵ ص۵۹۴)  {10} پی چکنے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہیے {11}  حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ  سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالیعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الوالی فرماتے ہیں :بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر پینا شروع کرے پہلی سانس  کے آخر میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دوسرے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن اور تیسرے سانس کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے( اِحیاءُ الْعُلُوم ج۲ص ۸)  {12} گلاس میں بچے ہوئے مسلمان کے صاف ستھرے جھوٹے پانی کو قابلِ استعمال ہونے کے باوُجُود خوامخواہ پھینکنا نہ چاہئے ۔پی لینے کے چند لمحوں کے بعد خالی گلاس کو دیکھیں گے تو اس کی دیواروں سے بہ کر چند قطرے پیندے میں جمع ہوچکے ہوں گے انہیں بھی پی لیجئے۔

            سنَّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

چلنے کی سنتیں اور آداب

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            مدنی سرکار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی حیات طیبہ زندگی کے ہرشعبہ میں  ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ مسلمان کی چال بھی امتیازی ہونی چاہیے ۔ گر یبان کھول کر ،  گلے میں زنجیر سجائے ، سینہ تان کر،قدم پچھاڑ تے ہوئے چلنااحمقوں اور مغروروں کی چال ہے ۔ مسلمانو ں کودرمیانہ اورپُر وقار طریقے پر چلنا چاہیے ۔

            ٭لفنگوں کی طرح گریبان کھول کر اکڑتے ہوئے ہرگز نہ چلیں کہ یہ احمقوں اور مغروروں کی چال ہے بلکہ نیچی نظریں کئے پروقار طریقے پر چلیں ۔ حضرت سیدنا انس   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جب حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  چلتے تو جھکے ہوئے معلوم ہوتے تھے ۔(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی ھدی الرجل،الحدیث۴۸۶۳،ج۴،ص۳۴۹)

            ٭راہ چلنے میں پریشان نظری سے بچیں اور سڑک عبور کرتے وقت گاڑیوں والی سمت دیکھ کر سڑک عبور کریں ۔ اگر گاڑی آرہی ہو تو بے تحاشا بھاگ نہ پڑیں بلکہ رُک جائیں کہ اس میں حفاظت کا زیادہ امکان ہے۔

            ٭راستے میں اِدھر اُدھرنہ جھانکیں ،  سرجھکاکرشریفانہ چال لیں ۔

’’ راہِ مدینہ کا مسافر ‘‘  کے پند رہ حُرُوف کی نسبت سے چلنے کے15مدنی پھول

  ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو  ’’ سنّتِ رسول  ‘‘  نہیں کہہ سکتے۔

  {1}  پارہ 15سورۂ بنی اسرائیلآیت 37میں ارشاد ِ ربُّ العِباد ہے:

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجَمۂ کنز الایمان:اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بے شک ہر گز زمین نہ  چِیر ڈالے گا اورہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔

 {2}  دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1334 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ بہارِ شریعت،جلدسوم ‘‘ حصّہ 16 صَفْحَہ435پر فرمانِ مصطَفٰے ہے: ایک شخص دو چادریں اوڑھے ہوئے اِترا کر چل رہا تھا اور گھمنڈ میں تھا، وہ زمین میں دھنسادیا گیا، وہ قِیامت تک دھنستا ہی جائے گا(صَحیح مُسلِم، ص۱۱۵۶،حدیث ۲۰۸۸) {3} سرورِکائنات ، شَہَنشاہِ موجود۱ت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بسا اوقات چلتے ہوئے اپنے کسی صَحابی کا ہاتھ اپنے دستِ مبارَک سے پکڑ لیتے   (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرلِلطّبَرانی ج۷ص۱۶۲)اَمْرَدکا ہاتھ نہ پکڑے،شَہوت کے ساتھ کسی بھی اسلامی بھائی کاہاتھ پکڑنا یا مُصافحہ کرنا (یعنی ہاتھ ملانا )یا گلے ملنا حرام  اور جہنَّم میں لیجانے والا کام ہے  {4}  رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  چلتے توکسی قَدَر آگے جھک کر چلتے گویا کہ آپ بُلندی سے اُتر رہے ہیں(الشمائل المحمدیۃ  للترمذی ص۸۷ رقم۱۱۸) {5} گلے میں سونے یا کسی بھی دھات (یعنی مَیٹل کی )چَین ڈالے، لوگوں کو دکھانے کے لئے گِرِیبان کھول کر اکڑتے ہوئے ہرگز نہ چلیں کہ یہ احمقوں ،  مغروروں اور فاسِقوں کی چال ہے۔ گلے میں سونے کی چین پہننا مرد کیلئے حرام اور دیگر دھاتوں (یعنی میٹلز)کی بھی ناجائز ہے  {6} اگر کوئی رُکاوٹ نہ ہو تو راستے کے کَنارے کَنارے درمیانی رفتار سے چلئے، نہ اتنا تیز کہ لوگوں کی نگاہیں آپ کی طرف اٹھیں کہ دوڑے دوڑے کہاں جا رہا ہے !  اور نہ اِتنا آہِستہ کہ دیکھنے والے کو آپ بیمارلگیں  {7} راہ چلنے میں پریشان نظری (یعنی بِلا ضَرورت ادھر اُدھر دیکھنا)سنّت نہیں ،  نیچی نظریں کئے پُروَقار طریقے پر چلئے ۔ حضرتِ  سیِّدُناحَسّان بِن اَبی سِنان  علیہ رحمۃُ الحنّان نَماز عید کے لیے گئے، جب واپَس گھر تشریف لائے تو اہلیہ( بیوی) کہنے لگیں :آج کتنی عورَتیں دیکھیں ؟  آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  خاموش رہے ، جب اُس  نے زیادہ اِصرار کیا تو فرمایا:  ’’  گھر  سے نکلنے سے لے کر،تمہارے پاس واپَس آنے تک میں اپنے ( پاؤ ں کے ) انگوٹھوں کی طرف دیکھتا رہا ‘‘ (کتابُ الْوَرَع  مع موسُوعَۃُ الامام ابن ابی الدُّنیا ج ۱ص۲۰۵)

 



Total Pages: 194

Go To