Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ہواور زنانہ خوشبو وہ ہے کہ اس کا رنگ تو ظاہر ہو مگر خوشبو ظاہر نہ ہو ۔(جامع الترمذی ، کتاب الأدب، باب ما جاء فی طیب الرجال والنسائ،الحدیث: ۲۷۹۶،ج۴،ص۳۶۱)

معلوم ہوا کہ اسلامی بہنوں کو ایسی خوشبو نہیں لگانی چاہیے جس کی خوشبواُڑ کرغیر مردوں تک پہنچ جائے ۔

اسلامی بہنیں حدیث ذیل سے عبرت حاصل کریں ۔

چنانچہ حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم، رؤوف رحیم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا: ’’ عورت جب خوشبو لگا کر کسی مجلس کے پاس سے گزرتی ہے تووہ ایسی اور ایسی ہے ‘‘  یعنی زانیہ ہے۔(المرجع السابق،باب ماجاء فی کراہیۃ خروج المرأۃ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۹۵،ج۴، ص۳۶۱)

          ٭خوشبوکی دھونی لینا سنت سے ثابت ہے۔حضرت سیدنا نافع   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہعبد   اللّٰہ بن عمر    رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھما      کبھی کبھی خالص عود (یعنی اگر)  کی دھونی لیتے ۔ یعنی عود کے ساتھ کسی دو سری چیز کی آمیزش نہیں کرتے اور کبھی عود کے ساتھ کافور ملا کر دھونی لیتے اور فرمایا کہ میٹھے میٹھے مدنی آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی اسی طر ح دھونی لیا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم،کتاب الالفاظ والادب وغیرھا، باب استعمال المسک ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۲۵۴،ص۱۲۳۷)

            اے ہمارے پیارے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ!  ہمیں ہمارے پیارے سر کار ، مہکے مہکے مدینے کے غمخوار، دو عالم کے تا جدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے صدقے میں مدینہ منورہ کی معطر معطر فضاؤ ں اور معنبر معنبر ہواؤ ں میں سانس لینے کی سعادت نصیب فرما اور پھر انہیں معطر معطر فضاؤ ں میں معطر معطر حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے جلوؤ ں میں عافیت کیساتھ ایمان پر موت نصیب فرما اور جنت البقیع کی مہکی مہکی سر زمین میں مد فن نصیب فرما۔

ٹوٹ جائے دم مدینے میں مرا یارب بقیع

کاش!  ہوجائے میسرسبزگنبد دیکھ کر

(مغیلان مدینہ،ص۹۹)

خوشبو لگانے کی46 نیّتیں

(از شیخِ  طریقت ، امیرِ اہلسنت بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی)

          فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  : مسلمان کی نیّت اسکے عمل سے بہتر ہے۔( المعجم الکبیرللطَبَرانی،حدیث:۵۹۴۲،ج۶،ص۱۸۵)

(۱)نبی کریم،رؤوف رحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت ہے اس لئے خوشبو لگاؤ ں گا(۲) لگانے سے قبل بِسْمِ اللّٰہ(۳) لگاتے ہوئے دُرُود شریف اور (۴) لگانے کے بعدادائے شکرِ نعمت کی نیّت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہوں گا(۵)ملائکہ اور (۶) مسلمانوں کو فرحت پہنچاؤ ں گا(۷)عقل بڑھے گی تواحکا مِ شرعی یاد کرنے اور سنّتیں سیکھنے پر قُوَّت حاصِل کروں گا، امام شافِعی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :عمدہ خوشبولگانے سے عقل بڑھتی ہے (۸)لباس وغیرہ سے بدبو دُور کرکے مسلمانوں کو غیبت کے گناہوں سے بچاؤ ں گا(کیونکہ بلا اجازتِ شَرعی کسی مسلمان کے بارے میں پیچھے سے مَثَلاً اس طرح سے کہنا کہ ’’ اِس کے لباس یا ہاتھوں یا مُنہ سے بدبو آرہی تھی، ‘‘  غیبت ہے)  موقع کی مُناسَبَت سے یہ نیّتیں بھی کی جا سکتی ہیں مَثَلاً (9)  نَماز کیلئے زینت حاصِل کروں گا (۱۰)مسجِد(۱۱) نَمازِ تہجُّد (۱۲ جُمعہ (۱۳) پیرشریف(۱۴)  رَمَضانُ المُبارَک(۱۵عیدُالفطر (۱۶)   عیدُ الاَضحی(۱۷)    شبِ مِیلاد (۱۸) عیدِمِیلادُ النَّبی(۱۹) جُلوسِ میلاد (۲۰)  شبِ مِعراجُ النّبی(۲۱)  شبِ براء ت (۲۲) گیارہویں شریف(۲۳)یومِ رضا (۲۴،۲۵) درسِ قراٰن وحدیث (۲۶)تِلاوت (۲۷)اَورادووظائف (۲۸)دُرُودشریف (۲۹) دینی کتاب کا مُطالَعہ (۳۰)تدریسِ علمِ دین (۳۱) تعلیمِ علمِ دین(۳۲) فتویٰ نویسی(۳۱) دینی کُتُب کی تصنیف و تالیف (۳۴) سُنّتوں بھرے اجتِماع(۳۵) وا جتِماعِ ذکرو نعت(۳۶) قراٰن خوانی(۳۷)درسِ فیضانِ سنّت(۳۸) عَلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت(۳۹)سُنّتوں بھرا بیان کرتے وَقت (۴۰) عالم (۴۱) ماں (۴۲) باپ(۴۳) مومنِ صالح(۴۴)پیر صاحِب(۴۵) موئے مبارک کی زیارت اور(۴۶) مزار شریف کی حاضِری کے مواقع پر بھی تعظیم کی نیّت سے خوشبو لگائی جاسکتی ہے ۔

             جتنی اچّھی اچّھی نیّتیں کریں گے اُتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا۔ جبکہ نیّت کا موقع بھی ہو اور وہ نیّت شرعاً دُرُست بھی ہو۔زیادہ یاد نہ بھی رہیں تو کم از کم دو تین نیّتیں کر ہی لینی چاہئیں ۔

            اے ہمارے پیارے  اللہ عَزَّوَجَلَّ  ! ہمیں اچھی نیتوں کے ساتھ خوشبو لگانے کی توفیق عطافرما اوراپنے پیارے حبیب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ



Total Pages: 194

Go To