Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

٭٭٭٭٭٭

خوشبو لگاناسنت ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

                ہمارے میٹھے میٹھے سر کار، مدینے کے تاجدار،دوعالم کے مختار ، شفیع روز شما ر صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کوخوشبوبے حد پسند تھی۔ لہٰذاآپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہر وقت معطر معطر رہتے۔ آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  خوشبو کا بہت استعمال فرمایاکرتے تھے تا کہ غلام بھی ادائے سنت کی نیت سے خوشبو لگایا کریں ورنہ اس بات میں کس کو شک و شبہ ہوسکتاہے کہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا وجود مسعود تو قدرتی طو ر پر خو دہی مہکتا رہتا او رتاجدارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا مبارک پسینہ بذات خود کائنات کی سب سے بہترین خوشبو ہے ۔

مشک وعنبر کیاکرو ں ؟  اے دوست خوشبو کے لئے

مجھ کو سلطانِ مدینہ (علیہ الصَّلاۃُ وَالسَّلام) کاپسینہ چاہیے

            حضر تِ سیدنا جابر بن سمرہ          رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار میٹھے میٹھے سرکار  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنا دستِ پُرانوار میرے چہرے پر پھیرا میں نے اسے ٹھنڈا اور ایسی خوشبودار ہو اکی طرح پایا جو کسی عطر فرو ش کے عطر دان سے نکلتی ہے ۔(وسائل الوصول الی شمائل الرسول،الفصل الرابع فی صفۃ عرقہ۔۔۔۔الخ،ص۸۵)

            ٭  عمدہ قسم کی خوشبو لگا نا سنت ہے: ہمارے مدینے والے آقا ،  مہکنے اور مہکانے والے مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو عمدہ اور بہترین قسم کی خوشبو بہت پسندتھی اور ناخوشگوار بو یعنی بد بو آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ناپسند فرماتے ۔ آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہمیشہ عمدہ خوشبو استعمال کرتے اور اسی کی دو سرے لوگو ں کو بھی تلقین فرماتے ۔حضرت سیدنا انس بن مالک   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ  ’’ ہمارے معطرمعطر حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس ایک خاص قسم کی خوشبو تھی جسے آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  استعمال فرماتے تھے۔ ‘‘  (وسائل الرسول الی شمائل الرسول،الفصل الخامس فی صفۃطیبہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ص۸۷)

             ٭     سر میں خوشبو لگانا سنت ہے:سرکار مدینہ ،  راحت قلب وسینہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی عادت کریمہ تھی کہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ’’ مشک‘ ‘ سر اقد س کے مقدس بالوں اور داڑھی مبارک میں لگاتے ۔     (المرجع السابق)

            حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنھا سے مروی ہے ،  فرماتی ہیں : میں اپنے سرتاج ،  ماہ نبوت ،  تاجدار ِرسالت  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو نہایت عمدہ سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی یہاں تک کہ اس کی چمک حضور تا جدارِ مدینہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سر مبارک اور داڑھی شریف میں پاتی ۔ (صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب الطیب فی الرأس واللحیۃ،الحدیث:۵۹۲۳،ج۴،ص۸۱)

           میٹھے اسلامی بھائیو!  معلوم ہوا کہ سر اورداڑھی کے بالوں میں خوشبو لگا نا سنت ہے۔مگر یہ خیال رکھیں کہ سر اور داڑھی میں صر ف دیسی خوشبو استعمال کریں ۔ بدقسمتی سے آجکل دیسی خوشبوجات کا ملنا بے حد دشوار ہوگیا ہے ۔ اب عموماً عطریات کیمیکلز سے بنائے جاتے ہیں ۔ ان کالباس میں استعمال کرنا جائز تو ہے

مگر سر اورداڑھی میں لگانا نقصان دہ ہے آج کل ’’ ائیر فریشنر ‘‘  کااستعمال عام ہوتا جارہا ہے ان کا چھڑکاؤ  خاص طو پر ان کمرو ں میں کیاجاتا ہے جو بندرہتے ہیں اس سے وقتی طو ر پر کمرے میں خوشبو تو ہوجاتی ہے مگر اس کے کیمیاوی مادے فضا میں پھیل جاتے ہیں جو سانس کے ساتھ پھیپھڑوں میں داخل ہو کر صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق  ’’ ائیر فریشنر  ‘‘  کے استعمال سے چمڑی کاکینسر ہوجاتاہے ۔ چند لمحوں کی خوشبو کے حصول کی خاطر اتنا بڑا خطرہ مول لینا عقلمند ی نہیں ۔ لہٰذا  ’’ ائیر فر یشنر ‘‘ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

خوشبو کا تحفہ رد نہ کریں

حضرت سیدنا انس بن مالک         رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ خوشبوکا تحفہ رد نہیں فرماتے تھے آپ   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبیوں کے سردار،ہمارے معطر معطر سرکارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی خدمت بابر کت میں جب خوشبوتحفۃ ًپیش کی جاتی تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  رد نہ فرماتے ۔(جامع الترمذی ، الشمائل ، باب ماجاء فی تعطر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیہ وَسَلَّم،الحدیث ۲۱۶، ج۵، ص۵۴۰)

             ’’ شمائل ترمذی  ‘‘ میں حضرت عبد   اللّٰہبن عمر   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمَا سے روایت ہے کہ سرکار ِمدینہ، سرورِ قلب وسینہ،باعثِ نزولِ سکینہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمان عالیشان ہے کہ ’’  تین چیزیں واپس نہیں لوٹانی چاہئیں (۱)تکیہ (۲)خوشبوو تیل اور(۳) دو دھ ۔ ‘‘  (المرجع السابق،الحدیث ۲۱۷)

            پیارے اسلامی بھائیو!  خوشبو ،  تکیہ اور دو دھ( اور ان میں تمام کم قیمت کی چیزیں شامل ہیں ) کا ہدیہ قبول کرنے کی حکمت محدثین کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعالٰی یہ بیان کرتے ہیں کہ عموماً یہ چیزیں اتنی قیمتی نہیں ہوتیں اور ظاہر ہے جو سستی چیز ہوتی ہے وہ دینے والے کے لئے زیادہ بو جھ ثابت نہیں ہوتی اورقبول نہ کرنے پر دینے والے کا دل ٹوٹنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے ۔ اورچونکہ ہمارے مدینے والے آقا  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کسی کادل تو ڑنا پسند نہیں کرتے تھے ۔اس لئے آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  خوشبوکا تحفہ رد نہیں فرماتے ۔چنانچہ ہمیں بھی چاہیے کہ اگر ہمیں کوئی خوشبو یا سستی چیز تحفۃً پیش کرے تواسے سنت سمجھ کر قبول کرلیناچاہیے۔ اگر کوئی قیمتی چیز پیش کرے تو اسے بھی قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں مگرغور کرلینامناسب معلوم ہوتاہے کہ کہیں مروَّ ت وغیرہ میں تو نہیں دے رہا کہ یہ دینا بعدمیں خوداسی پر بار پڑجائے ۔

            مردوں کو اپنے لباس پر ایسی خوشبو استعمال کرنی چاہیے جس کی خوشبو پھیلے مگررنگ کے دھبے وغیرہ نظر نہ آئیں ،  جیسا کہ گلاب،کیوڑہ ،  صندل اور اسی قسم کے بے رنگ عطریات۔عورتوں کے لئے مہک کی ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ وہ خوشبو اجنبی مردوں تک پہنچے ، اگر وہ گھر میں عطر لگائیں جس کی خوشبو خاوند یا اولاد،ماں باپ تک ہی پہنچے تو حرج نہیں۔(ماخوذ ازمراٰۃالمناجیح،ج۶،ص۱۱۳)

                 چنانچہ حضرت سیدناابوہریرہ     رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کہ مکی مدنی سرکار  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: مردا نہ خوشبووہ ہے کہ اس کی خوشبو تو ظاہر ہو مگر رنگ ظاہرنہ



Total Pages: 194

Go To