Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                                ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو

            اے ہمارے پیارے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ!  ہمیں سنت کے مطابق اپنے سراور داڑھی میں تیل لگانے اور کنگھا کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

زینت کی سنتیں اورآداب

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  

            ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طبیعت مبارکہ میں بے حد نفاست تھی اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صفائی اور پاکیز گی کو بے حد پسند فرماتے تھے۔ اسی ضمن میں گزشتہ صفحات میں ناخن ومونچھیں تراشنے ،  سر اور داڑھی شریف میں تیل لگانے او رکنگھا کرنے کی سنتیں اور آداب پیش کئے گئے ۔ اب اسی ضمن میں  ’’ زینت کی سنتیں اور آداب  ‘‘ بیان کئے جاتے ہیں تا کہ ہمارے اسلامی بھائیوں او راسلامی بہنوں کو معلوم ہوکہ کون سی زینت بمطابق سنت ہے اور کون سی زینت سنت کا دائر ہ تو ڑ کر فرنگی فیشن کے اندھیرے گڑھے میں جاپڑتی اور دنیااور آخرت کی تباہی کاسبب بنتی ہے ۔

            ٭ انسان کے بالوں کی چوٹی بنا کر عورت اپنے بالوں میں گوندھے، یہ حرام ہے۔ حدیث مبارکہ میں اس پر لعنت آئی بلکہ اس پر بھی لعنت آئی جس نے کسی دوسری عورت کے سر میں انسانی بالوں کی چوٹی گوندھی ۔ ( درمختار،کتاب الحظروالاباحۃ،باب فی النظرِ والمس،ج۹،ص۶۱۴تا ۶۱۵ )

            ٭ اگر وہ بال جس کی چوٹی بنائی گئی خود اس عورت کے اپنے بال ہیں جس کے سر میں جوڑی گئی جب بھی ناجائز ہے۔ ( المرجع السابق )

            ٭ اُون یاسیاہ دھاگے کی چوٹی اسلامی بہنوں کوسر میں لگانا جائز ہے ۔ ( درمختار،کتاب الحظروالاباحۃ،باب فی النظرِ والمس،ج۹،ص۶۱۴تا ۶۱۵ )

            ٭لڑکیوں کے کان ناک چھیدناجائز ہے ۔( ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،ج۹،ص۵۹۸ )

            ٭ بعض لوگ لڑکوں کے بھی کان چھدواتے ہیں او ربالی وغیرہ پہناتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔یعنی کان چھدوانا بھی ناجائز او راسے زیور پہنانا بھی ناجائز ۔(المرجع السابق،ص۵۹۸،ملخصاً)

            ٭عورتو ں کو ہاتھ پاؤ ں میں مہند ی لگانا جائز ہے ۔ چھوٹے بچوں کے ہاتھ پاؤ ں میں مہندی لگانا ناجائزہے،بچیوں کو مہندی لگانے میں حرج نہیں ۔  (المرجع السابق،ص۵۹۹ ملتقطاً)

            حضرت سیدنا ابو ہریرہ   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ مدینے کے تاجدار، سرکار ِابد قرار ، شفیعِ رو زِ شمار  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس ایکمُخَنَّث (یعنی ہیجڑا ) حاضر کیاگیا جس نے اپنے ہاتھ اورپاؤ ں مہندی سے رنگے ہوئے تھے ۔ ارشاد فرمایا:اس کاکیا حال ہے؟  (یعنی اس نے کیوں مہندی لگائی ہے ؟ ) لوگوں نے عرض کی ،  یہ عورتوں کی نقل کرتا ہے ۔ ہمارے میٹھے مدنی آقا  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حکم فرمایا: ’’  اسے شہر بد ر کردو۔لہٰذا اس کو شہربد ر کردیا گیا،مدینۂ منورہ سے نکال کر  ’’ نقیع  ‘‘ کو بھیج دیاگیا۔ (سننِ ابی داود،کتاب الأدب ، باب فی الحکم فی المخنثین،الحدیث: ۴۹۲۸،ج۴،ص۳۶۸)

            پیارے اسلامی بھائیو!  

            دیکھا آپ نے!  مُخَنَّثنے عورتوں کی نقل کی یعنی ہاتھ پاؤ ں میں مہندی لگائی تو ہمارے مکی مدنی سر کار  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس سے کس قدر ناراض ہوئے کہ اسے شہر بدر کردیا۔اس مبارک حدیث سے ہمارے وہ بھائی درس حاصل کریں جو شادی یا عیدین وغیرہ کے مواقع پراپنے ہاتھوں یا انگلیوں پرمہندی لگا لیا کرتے ہیں ۔او رہاں !  جس طر ح مردو ں کو عورتوں کی نقل جائز نہیں اسی طرح عورتیں بھی مردوں کی نقل نہیں کرسکتیں ۔جیسا کہ حضرت سیدنا ابن عباس   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمَاسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ ،  راحت ِقلب وسینہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے لعنت فرمائی زنانہ مردوں پر جو عورتوں کی صورت بنائیں اور مرد انی عورتوں پرجومردوں کی صورت بنائیں ۔ (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبد اللّٰہ بن عباس ، الحدیث:۲۲۶۳،ج۱ص۵۴۰)

            ٭جاندار کی تصاویر والے لباس ہرگز نہ پہنا کریں نہ ہی جانوروں یا انسانوں کی تصاویر والے اسٹیکر ز اپنے کپڑو ں پر لگائیں ، نہ ہی گھروں میں آویز اں کریں ۔

            ٭ اپنے بچوں کو ایسے  ’’ بابا سوٹ  ‘‘  نہ پہنا ئیں جن پر جانوروں اور انسانوں کے فوٹو بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔

            ٭ خواتین اپنے شوہر کے لئے جائز اشیاء کے ذریعے ، مگر گھر کی چار دیواری میں زینت کریں لیکن میک اپ کر کے اور بن سنور کے گھر سے باہر نہ نکلا کریں کہ ہمارے پیارے آقا  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’  عورت پوری کی پوری عورت(یعنی چھپانے کی چیز) ہے جب کوئی عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کوجھانک جھانک کردیکھتا ہے ۔ ‘‘

(جامع الترمذی،کتاب الرضاع،باب(۱۸الحدیث:۱۱۷۶،ج۲،ص۳۹۲)

            ٭ ننگے سر پھرنا سنت نہیں ہے ۔ لہٰذا اسلامی بھائیوں کوچاہیے کہ اپنے سر پر عمامہ شریف کا تاج سجائے رکھیں کہ یہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نہایت ہی میٹھی سنت ہے ۔( ماخوذ بہارشریعت،جلد سوم ، حصہ۱۶،ص۴۱۸)

                        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بس زینت وہی کیجئے جس کی شریعت مطہرہ نے اجازت مرحمت فرمائی اور ہرگز ہرگز فرنگی فیشن نہ اپنائیے جس سے  اللہ عَزَّوَجَلَّ   َ کاقہروغضب جوش پر آئے ۔

            اے ہمارے پیارے  اللہ  عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں فرنگی فیشن کی آفت سے چھڑا کر اپنے پیارے حبیب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سنتوں کا دیوانہ بنادے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 194

Go To