Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

  {10}  بعض لوگ سیدھی یا اُلٹی جانب مانگ نکالتے ہیں یہ سنّتکے خلاف ہے

  {11}  سنّت  یہ ہے کہ اگر سر پربال ہوں تو بیچ میں مانگ نکالی جائے ۔ (المرجع السابق)

 {12} (سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے) بِغیر حج کبھی سرمُنڈوانا ثابت نہیں ۔            (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۶۹۰ )

 {13} آج کل قینچی یا مشین کے ذَرِیعے بالوں کو مخصوص طرز پر کاٹ کر کہیں بڑے تو کہیں چھوٹے کر دیئے جاتے ہیں ،  ایسے بال رکھنا سنَّت نہیں ۔

 {14}  فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :  ’’ جس کے بال ہوں وہ ان کا اِکرام کرے۔ ‘‘   (یعنی ان کو دھوئے، تیل لگائے اور کنگھا کرے )(سُنَنِ ابی داؤد،ج۴،ص۱۰۳،حدیث:۴۱۶۳)

 {15}  حضرت سیِّدُنا ابراہیمخَلِیلُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے سب سے پہلے مہمانوں کی ضِیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھ کے بال تراشے اور سب سے پہلے سفید بال دیکھا۔ عرض کی: اے رب!  یہ کیا ہے؟   اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:  ’’ اے ابراہیم!  یہ وقار ہے۔ ‘‘  عرض کی: اے میرے رب!  میرا       وقار زیادہ کر۔   (موطا ج ۲ ص ۴۱۵ حدیث ۱۷۵۶ )

 {16} دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1334 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ بہارِ شریعت،جلدسوم ‘‘ حصّہ 16 صَفْحَہ581پر ہے: محبوبِ ربُّ العبادصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت بُنیادہے :  ’’ جو شخص قصداً (یعنی جان بوجھ کر)سفید بال اُکھاڑے گا قِیامت کے دن وہ نیزہ ہوجائے گا جس سے اس کو بھونکا جائے گا۔ ‘‘  (کَنْزُ الْعُمّال ج ۶ ص۲۸۱رقم ۱۷۲۷۶)

 {17} بُچّی(یعنی وہ چند بال جو نیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں اس) کے اَغَل بَغَل (یعنی آس پاس)کے بال مُونڈانا یا اُکھیڑنا بدعت ہے۔ (فتاوی ھندیہج۵، ص۳۵۸)

  {18}  گردن کے بال مُونڈنا مکروہ ہے۔ (ایضاًص۳۵۷) یعنی جب سر کے بال نہ مُونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں جیسا کہ بَہُت سے لوگ خط بنوانے میں گردن کے بال بھی مونڈاتے ہیں اور اگر پورے سر کے بال مونڈا دیے تو اِس کے ساتھ گردن کے بال بھی مُونڈا دیے جائیں ۔(بہارِشریعت ، جلد سوم،حصّہ ۱۶ ص ۵۸۷)  

 {19}  چار چیزوں کے مُتَعلِّقحکم یہ ہے کہ دفن کردی جائیں ،  بال، ناخن، حیض کالَتّا (یعنی وہ کپڑا جس سے عورت حیض کا خون صاف کرے) اور خون۔ ( عالمگیری ج۵ ص۳۵۸)

  {20}  مرد کو داڑھی یا سرکے سفید بالوں کو سُرخ یا زرد رنگ کر دینا مُستَحَب ہے،اس کیلئے مہندی لگائی جا سکتی ہے۔

  {21}   داڑھی یا سر میں مہندی لگا کر سونا نہیں چاہئے ۔ ایک حکیم کے بقول اس طرح مہندی لگا کر سوجانے سے سر وغیرہ کی گرمی آنکھوں میں اُتر آتی ہے جو بینائی کیلئے  مُضر یعنی نقصان دہِ ہے۔ حکیم کی بات کی تَوثِیق یوں ہوئی کہ ایک بار سگِ مدینہ عفی عنہ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اُس نے بتایا کہ میں پیدائشی اندھا نہیں ہوں ،  افسوس کہ سر میں مہندی لگا کر سو گیا جب بیدار ہوا تو میری آنکھوں کانُور جا چکا تھا!  

 {22} مہندی لگانے والے کی مونچھ ، نچلے ہونٹ اور داڑھی کے خط کے کَنارے کے بالوں کی سفیدی چند ہی دنوں میں ظاہر ہونے لگتی ہے جو کہ دیکھنے میں بھلی معلوم نہیں ہوتی لہٰذا اگر بار بار ساری داڑھی نہیں بھی رنگ سکتے تو کوشِش کر کے ہر چار دن کے بعد کم از کم ان جگہوں پر جہاں جہاں سفیدی نظر آتی ہو تھوڑی تھوڑی مہندی لگا لینی چاہئے۔

            سنَّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو                         لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو

ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                                پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا علَی الحبیب!                         صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد

               اے ہمارے پیارے  اللہ     عَزَّوَجَلَّ! ہم سب مسلمانوں کوخلافِ سنّت بال رکھنے اور رکھوانے کی سو چ سے نجات دے کر نبی پاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری ،  میٹھی میٹھی سنت زلفیں رکھنے والی  ’’ مدنی سوچ‘‘  عطا فرما۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

تیل ڈالنے اور کنگھاکر نے کی سنتیں اورآداب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

             ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفٰے صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنے سر اقدس اورداڑھی مبارک میں تیل ڈالتے ، کنگھا کرتے، بیچ سر میں مانگ نکالتے۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ     رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ جس کے بال ہوں تو وہ ان کا اکرام کرے۔( یعنی ان کو دھوئے ، تیل لگائے ، کنگھا کرے )(سنن ابی داود،کتاب الترجل ، باب فی اصلاح الشعر،الحدیث۴۱۶۳،ج۴،ص۱۰۳)

 ’’ شانِ امامِ اعظم ابوحنیفہ  ‘‘کے اُنیس حُرُوف کی نسبت سے تیل ڈالنے اور کنگھی کر نے کے19مدنی پھول

      ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین سے منقول مدنی پھول