Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

زُلفیں رکھنے کی سنتیں اورآداب

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  

             ہمارے پیارے مدنی آقا،مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سنت کریمہ ہے کہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیشہ اپنے سر مبارک کے بال شریف پورے رکھے ۔ کبھی نصف کان مبارک تک تو کبھی کان مبارک کی لوتک اوربعض اوقات آپصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے گیسو شریف بڑھ جاتے تو مبارک شانوں کوجھوم جھوم کر چومنے لگتے ۔

گو ش تک سنتے تھے فریاد اب آئے تا دوش

کہ بنیں خانہ بدوشوں کو سہارے گیسو

(حدائق بخشش)

            ٭ چاہیں توآدھے کانوں تک گیسورکھئے کہ حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مدینے والے آقا ،  شب اسراء کے دولہا، محمد مصطفی   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بال مبارک آدھے مبارک کانوں تک تھے ۔ (جامع الترمذی،الشمائل باب ماجاء فی شعر رسول اللّٰہ،الحدیث:۲۴،ج۵، ص۵۰۷)

دیکھو قراٰں میں شب قد ر ہے تا مطلع فجر

یعنی نزدیک ہیں عا رض کے وہ پیارے گیسو

(حدائق بخشش،ص۸۹)

             چونکہ بال بڑھنے والی چیز ہے ۔اس لئے جس صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے جیسا دیکھا وہی روایت کردیا ۔چنانچہ حضرت سیدنا انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے نصف کانوں تک دیکھا تواسی کو روایت کیا اور جس نے اس سے زیادہ بڑے دیکھے اس نے اسی مقدار کو روایت کیا ۔

            ٭چاہیں توپورے کانوں تک گیسورکھییٔ کہ حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سلطان مدینہ ،  راحت قلب وسینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قد مبارک درمیانہ تھا ،  دو نوں مبارک شانوں کے درمیان فاصلہ تھااور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گیسو مبارک مقدس کانوں کو چومتے تھے ۔(شمائل ترمذی ، باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ ، الحدیث۳،ص۱۷)

           ٭چاہیں توشانوں تک گیسوبڑھائیے کہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں کہ میرے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سر اقد س پرجوبال مبارک ہوتے وہ کان مبارک کی لو سے ذرا نیچے ہوتے اور مبارک شانوں کو چومتے ۔ (المرجع السابق،الحدیث۲۵،ص۳۵)

        ٭سر کے بیچ میں مانگ نکالئے کہ سنت ہے۔

          مکتبۃ المد ینہ کی مطبوعہ بہارشریعت جلدسوم،حصہ16،صفحہ587 پر ہے:بعض لوگ دائیں یابائیں جانب مانگ نکالتے ہیں ، یہ سنت کے خلاف ہے۔

’’ گیسو رکھنا نبی پاک کی سنَّت ہے  ‘‘      کے بائیس حُرُوف کی نسبت سے زُلفوں اور سر کے بالوں وغیرہ  کے 22مَدَ نی پھول

        ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو  ’’ سنّتِ رسول  ‘‘  نہیں کہہ سکتے۔

  {1}  خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰـلَمِیْنصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک زُلفیں کبھی نصف (یعنی آدھے)کان مبارَک تک تو {2}  کبھی کان مبارَک کی لَوتک اور {3} بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں یعنی کندھوں کوجھوم جھوم کر چومنے لگتیں ۔(الشمائل المحمدیۃ للترمذی ص۳۴،۳۵،۱۸)

 {4} ہمیں چاہئے کہ موقع بہ موقع تینوں سنّتیں ادا کریں ، یعنی کبھی آدھے کان تک تو کبھی پورے کان تک تو کبھی کندھوں تک زلفیں رکھیں ۔

  {5}  کندھوں کو چُھونے کی حد تک زلفیں بڑھانے والی سنَّت کی ادائیگی عُمُوماً نفس پرزیادہ شاق ( یعنی بھاری) ہوتی ہے مگر زندَگی میں ایک آدھ بار تو ہر ایک کویہ سنَّت ادا کرہی لینی چاہئے ،  اَلبتّہ یہ خیال رکھنا ضَروری ہے کہ بال کندھوں سے نیچے نہ ہونے پائیں ،  پانی سے اچّھی طرح بھیگ جانے کے بعد زُلفوں کی درازی(یعنی لمبائی) خوب نُمایاں ہوجاتی ہے لہٰذا جن دنوں بڑھائیں ان دنوں غسل کے بعد کنگھی کرکے غور سے دیکھ لیا کریں کہ بال کہیں کندھوں سے نیچے تو نہیں جا رہے۔

  {6} میرے آقا اعلیٰ حضرتعَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّتفرماتے ہیں : عورتوں کی طرح  کندھوں سے نیچے بال رکھنا مَرد کیلئیحرام ہے۔( فتاوٰی رضویہج۲۱ص۶۰۰ تسہیلاً)

 {7}   صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہالقَوِیفرماتے ہیں :مرد کویہ جائز نہیں کہ عورَتوں کی طرح بال بڑھائے، بعض صوفی بننے والے لمبی لمبی لٹیں بڑھا لیتے ہیں جو اُن کے سینے پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں اور بعض چوٹیاں گُوندھتے ہیں یا جُوڑے(یعنی عورَتوں کی طرح بال اکٹّھے کر کے گدّی کی طرف گانٹھ) بنالیتے ہیں یہ سب ناجائز کام اور خِلاف شَرع ہیں ۔ تصوُّف بالوں کے بڑھانے اور رنگے ہوئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ حُضورِ اقدسصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پوری پَیروی کرنے اور خواہِشاتِ نفس کو مٹانے کا نام ہے۔    (بہارِشریعت،جلد سوم،حصّہ ۱۶،ص۵۸۷)

 {8}  عورت کا سر مُنڈوانا حرام ہے۔( خلاصہ ازفتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۶۶۴)

 {9} عورت کو سر کے بال کٹوانے جیسا کہ اِس زمانے میں نصرانی عورتوں نے کٹوانے شروع کردیے ناجائز و گناہ ہے اور اس پر لعنت آئی۔ شوہر نے ایسا کرنے کو کہا جب بھی یہی حکم ہے کہ عور ت ایسا کرنے میں گنہگار ہوگی کیونکہ شریعت کی نافرمانی کرنے میں کسی کا (یعنی ماں باپ یا شوہر وغیرہ کا)کہنا نہیں مانا جائے گا۔ (بہارِشریعت،جلدسوم،حصّہ۱۶،ص۵۸۸)

 



Total Pages: 194

Go To