Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

حکیم میں ارشاد فرمایا:

وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِۚ-فَاِذَا  عَزَمْتَ  فَتَوَكَّلْ  عَلَى  اللّٰهِؕ- (پ۴،آل عمران:۱۵۹)

     ترجمۂ کنزالایمان: اورکاموں میں ان سے مشورہ لو اور جس کسی بات کا ارادہ پکاکر لو تو اللّٰہ(عَزَّوَجَل)  پر بھروسہ کرو۔

سرکار ِ مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : ’’  جو شخص کسی کام کا ارادہ کرے اوراس کے بارے میں کسی سے مشورہ کرے اور اللّٰہ (عَزَّ وَجَلَّ)کی رضا  کے لئے فیصلہ کرے تو اسے سب سے بہتر کام کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے۔ ‘‘  (شعب الایمان للبیھقی، الحادی والخمسون ، باب فی الحکم بین الناس،الحدیث:۷۵۳۸،ج۶،ص۷۵)

            حضرت سیدنا حسن بصری   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کا ارشاد ہے :  ’’ کوئی قوم جب بھی آپس میں مشورہ کرتی ہے        اللّٰہ تعالٰی اُسے ان کی افضل رائے کی طرف ہدایت دے دیتاہے ۔ ‘‘   (تفسیر قرطبی، سورۃ آل عمران ،  تحت الآیۃ :۱۵۹،ج۲،ص ۱۹۳)

            مشورے سے پہلے امیرِ قافلہ تمام شرکا کو اس بات کا ضرور احسا س دلائے کہ ہم ایک اہم مقصد کے لئے مدنی قافلے میں سفر کررہے ہیں لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ سنجیدگی کادامن تھامے رکھیں ،  کسی کی بات کاٹ کر درمیان میں بولنا یا کئی اسلامی بھائیوں کا ایک ساتھ بولنا یا گفتگو کے دوران طنز و مذاق کا سلسلہ شروع کردینا انتہائی غیر مناسب ہے۔

            امیرِ قافلہ کو چاہئے کہ مشورہ کے دوران سب کی تجاویز توجہ سے سنے تاکہ اسلامی بھائیوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو کیونکہ اگر کسی کی تجویز یا مشورہ توجہ سے نہ سنا گیا تو ممکن ہے کہ وہ آئندہ مشورہ دینے سے ہی گریز کرے ۔ اس طرح امیر قافلہ اس کی فکری صلاحیتوں سے استفادہ نہ کر پائے گا۔پھر اگرکسی کی تجویز قابل عمل نہ ہوتب بھی اس کے اچھے پہلوؤں کی تعریف کرے اور ممکن ہو توحوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھائے کہ اس کی تجویز کے کون سے پہلو کن وجوہات کی بنا پر قابل عمل نہیں ۔ شرکائے قافلہ کا یہ بھی ذہن بنا یاجائے کہ جب ایک ہی موضوع پر مشورہ دینے والے کثیر ہوں تو ہر ایک کی رائے پر عمل ممکن نہیں ہوتالہٰذا کوئی بھی اسلامی بھائی اسے ہرگز اَنا کا مسئلہ نہ بنائے کہ میرا مشورہ کیوں نہیں ماناگیا؟

(۴)  شرکائے قافلہ سے اچھا برتاؤ :

             اچھا امیرو ہی ہوتا ہے جو  اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کواپنے پیش نظر رکھے،

اپنے مقصد سے مخلص ہو ،  اپنے زیرِ تربیت اسلامی بھائیوں سے پرخلوص محبت کرنے والا ہو، اپنے اسلامی بھائیوں کی تربیت کے لئے ہروقت کوشاں رہے اور ان کے دل میں ایسا گھر کر جائے کہ شریعت کے دائرے میں رہ کر انہیں خواہ کیسا ہی کام کرنے کو کہے وہ بے چون وچرا اس کے حکم کو بجا لائیں ۔

            بعض ا میرِ قافلہ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ شرکائے قافلہ اطاعت نہیں کرتے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ امیرقافلہ کواطاعت کروانا ہی نہیں آتا ،  ہر وقت حکم دینے کے انداز میں گفتگو کرنا، خود کو اسلامی بھائیوں سے برترجاننا، اسلامی بھائیوں کی معمولی غلطیوں پر انہیں سخت الفاظ اور حقارت بھرے لَہجہ میں ڈانٹنا وغیرہ یہ سب چیزیں مل کر شرکا ئے قافلہ کو امیرقافلہ سیمُتَنَفِّر کردیتی ہیں ۔

            یاد رکھئے!  کسی کی محبت اس کی اطاعت کرواتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ امیرقافلہ اور شرکائے قافلہ کے درمیان اَخوت و محبت کا مضبوط رشتہ قائم ہو ۔اس کے علاوہ امیرِ قافلہ خود بھی جدول کی پابندی کرنے میں بے حد چُستی کا مظاہر ہ کرے  کیونکہ امیرِ قافلہ کے عمل کا اثر پورے قافلے پر پڑتا ہے۔اس لئے اگر امیرِ قافلہ، مدنی قافلوں میں سفرکا پابند، مدنی انعامات کاعامل، تقویٰ و پرہیزگاری سے آراستہ ہوگا تو پورا قافلہ مدنی انعامات پر عمل پیرا ہوجائے گا۔لیکن اگر امیر قافلہ خودبے عمل ہوگا یا جدول پر عمل میں سستی کا مظاہرہ کرے گا تو شرکائے قافلہ کا سست ہوجانا بعید ازگمان نہیں ۔

             شرکائے قافلہ کے دل نازک آبگینوں کی طرح ہوتے ہیں ،  جومعمولی سی ٹھیس سے ٹوٹ سکتے ہیں ، لہٰذا !  ا میرِ قافلہ کو چاہئے کہ ہرایک سے اس کے نفسیاتی تقاضوں کے مطابق سلوک کرے اور انہیں بوریت سے بچانے کے لئے خشک مزاجی اور افسردگی سے کوسوں دور بھاگے بلکہ شرعی اجازت کے تحت خوش طبعی بھی کرے ۔

            ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بھی اپنے شایان شان خوش طبعی فرماتے چنانچہ حضرت عبد اللّٰہ بن حارث رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :

 ’’  میں نے آقا و مولیٰ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ‘‘   (جامع الترمذی،شمائل ،  باب ماجاء فی ضحک رسول اللّٰہ، الحدیث:۲۲۶،ج۵، ص۵۴۲)

            شرکائے قافلہ کی تربیت کے لئے مذکورہ بالا طریقوں کو اپنانے سے آپ کا قافلہ ایک یادگار قافلہ کہلائے گا ۔اِنْ شَاءَ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ

٭ ٭ ٭ ٭ ٭

 (7) مد نی قافلے کو سفر کروانے کے مد نی پھول

( شروع سے آخر تک قافلے کا سفرکیسا ہونا چاہئے؟ )

از امیر اہلسنت ابو بلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرکَاتُھم العَالِیۃ

 سفرسے قبل مدنی پھول:

(۱) روانگی سے پہلے ہی مقامِ سفر، وقت اور سامان سفر کے بارے میں شرکائے قافلہ کو اطلاع کردی جائے۔

(۲) شرکائے قافلہ روانگی کے مقررہ وقت سے پہلے پہلے مقررہ جگہ مثلاً  ’’ مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ‘‘  میں پہنچ جائیں تا کہ تربیت بھی ہوجائے اور دیگرحاجات سے فراغت پالینے کے بعد



Total Pages: 194

Go To