Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سرمہ لگانے کی سنتیں اور آداب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  

            سرمہ لگانا ہمارے پیارے آقا ،  مدینے والے مصطفی  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نہایت ہی پیاری پیاری اور میٹھی میٹھی سنت ہے ۔ سر کا ر نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جب سونے لگتے تو اپنی مبارک آنکھوں میں سرمہ لگایاکرتے ۔ لہٰذاہمیں بھی سو نے سے پہلے اتباعِ سنت کی نیت سے اپنی آنکھوں میں سرمہ لگانا چاہیے ۔ اس سے ہمیں سرمہ لگانے کی سنت کابھی ثواب حاصل ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ اس کے دنیوی فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔

 سو تے وقت سر مہ ڈالناسنت ہے

            سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سرمہ سوتے وقت استعمال فرماتے تھے چنانچہ حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمَافرماتے ہیں کہ تا جدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سو نے سے پہلے ہر آنکھ میں سرمہ اثمد کی تین سلائیاں لگایا کرتے تھے ۔(جامع الترمذی ، کتاب اللباس،باب ماجاء فی الاکتحال ، الحدیث۱۷۶۳،ج۳،ص۲۹۴)

          پیارے اسلامی بھائیو! حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ سرمہ سو تے وقت استعمال کرنا سنت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ،  ج۶، ص۱۸۰) لہٰذا ہم رات کو جب بھی سویا کریں ہمیں سرمہ لگانا نہ بھولنا چاہیے ۔سوتے وقت سرمہ لگانے میں یہ مصلحت ہے کہ سرمہ زیادہ دیر تک آنکھوں میں رہتا ہے اور آنکھوں کے مسامات میں سرایت کر کے آنکھوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔

سرمہ اِثمد بہتر ہے

                        ابن ماجہ کی روایت میں ہے:  ’’  تمام سرموں میں بہتر سرمہ  ’’ اِثمد ‘‘  ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،کتاب الطب،باب الکحل بالاثمد،الحدیث۳۴۹۷،ج۴،ص۱۱۵)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  سرمہ اثمد کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ سرمہ آمنہ بی بی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھاکے دلارے، ہم بے کسو ں کے سہارے ، محمد   رسولُ    اللّٰہ     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو پسند ہے ۔آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اسے خود بھی استعمال فرمایا او راپنے غلاموں کو اس کے استعمال کی ترغیب بھی دلائی اور اس کے فوائد بھی ارشاد فرمائے ۔ لہٰذا ہوسکے تو سرمہ اثمد ہی استعمال کرنا چاہئے۔احادیث بالاسے یہ بھی معلوم ہواکہ سرمہ اثمد بینائی کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ پلکوں کے بال بھی اُگاتا ہے ۔کہاجاتا ہے کہ اِثمداصفہان میں پایا جاتا ہے ۔

             علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور مشرقی ممالک میں پیدا ہوتا ہے ۔ بہر حال اثمدکا سر مہ میسر آجائے تو یہی افضل ہے ورنہ کسی قسم کابھی سر مہ ڈالا جائے سنت ادا ہوجائے گی ۔

سرمہ لگانے کا طریقہ

            حدیث بالامیں یہ بھی ارشاد فرمایاگیا ہے کہ ہمارے پیارے سر کار، مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دونوں مقد س آنکھوں میں سرمہ کی تین تین سلائیاں استعمال فرماتے تھے اور اکثر اسی پر عمل تھا ۔ تاہم بعض روایات میں سیدھی آنکھ مبارک میں تین سلائیاں اور بائیں میں دو کا بھی ذکر آیاہے اور  ’’  شمائل رسول  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   میں اسی طر ح بیان کیا گیا ہے کہ سر کارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہرآنکھ مبارک میں دودو سلائیاں سرمہ کی ڈالتے اور ایک سلائی کو دو نو ں مبارک آنکھوں میں لگاتے۔(وسائل الوصول الی شمائل الرسول ، الفصل الثانی فی صفۃبصرہ۔۔۔۔الخ،ص۷۷)

            لہٰذاہمیں مختلف اوقات میں مختلف طریقے پرسرمہ استعمال کرناچاہیے ۔یعنی کبھی دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں کبھی دائیں آنکھ میں تین اوربائیں میں دو ،  تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور پھر آخر میں ایک سلائی کوسرمہ والی کر کے باری باری دونوں آنکھوں میں لگائیں ۔ اس طرح کر نے سے تینوں سنتیں ادا ہوجائیں گی ۔

            یہ بات یاد رکھیں کہ تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سیدھی جانب سے شرو ع کیا کرتے،لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سرمہ لگائیں پھر بائیں آنکھ میں ۔ (المرجع السابق،الفصل الثالث،فی صفۃ شعرہ۔۔۔۔الخ،ص۸۱)

’’  اِثمد  ‘‘  کے چار حُرُوف کی نسبت سے سُرمہ لگانے  کے 4 مدنی پھول

     ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو  ’’ سنّتِ رسول  ‘‘  نہیں کہہ سکتے۔

  {1} سُنَنِابن ماجہ کی روایت میں ہے : ’’  تمام سُرموں میں بہتر سرمہ  ’’ اِثمد ‘‘   (اِث۔ مِد) ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ‘‘ (سُنَن ابن ماجہ ج۴ص ۱۱۵  حدیث ۳۴۹۷ )

 {2}  پتھّر کا سُرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں اور سیاہ سرمہ یا کاجل بقصدِ زینت (یعنی زینت کی نیّت سے)مرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں ۔ ( فتاوٰی عالمگیری ج۵ ص۳۵۹)

 {3}  سُرمہ سو تے وقت استِعمال کرنا سنت ہے ۔      (مراٰۃالمناجیح ، ج۶،ص۱۸۰)  {4} سرمہ استعمال کرنے کے تین منقول طریقوں کاخلاصہ پیش خدمت ہے: (۱)کبھی دونوں آنکھوں میں تین تین سَلائیاں (۲) کبھی دائیں (سیدھی ) آنکھ میں تین اور بائیں (الٹی) میں دو ، (۳)تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور پھر آخِر میں ایک سَلائی کو سُرمے والی کر کے اُسی کو باری باری دونوں آنکھوں میں لگایئے ۔ (انظر:شُعَبُ الْاِیمان ، ج۵،ص ۲۱۸۔ ۲۱۹)

اس طرح کر نے سے   اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   تینوں پر عمل ہوتا رہے گا۔

                  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سیدھی جانب سے شرو ع کیا کرتے، لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سُرمہ لگا



Total Pages: 194

Go To