Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!     جب کبھی سفر پر جائیں تو ذکر ودر ود کا وِرْد رکھیں یا اس عظیم مقصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انفرادی کوشش کرتے رہیں کہ  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ‘‘  اگر ہم دورانِ سفرذِکرُاللّٰہ   میں مصروف رہیں گے توفرشتہ راستے بھر حفا ظت کرے گا اور اگر معاذاللّٰہ گانے باجے سنتے رہے یا فضول ٹھٹھا مسخری کرتے رہے تو شیطان شریک ِسفر ہوگا جیسا کہ تا جدار مدینہ، سُرُورِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا :  ’’ جوشخص سفر کے دوران   اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی طرف توجہ رکھے اور اس کے ذکر میں مشغول  رہے ،   اللہ    عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے ایک فرشتہ محافِظ مقر ر کردیتا ہے ۔ او رجو بیہودہ شعر و شاعری اورفضول باتوں میں مصروف رہے تو  اللہ    عَزَّوَجَلَّ اس کے پیچھے  ایک شیطان لگا دیتا ہے ۔ (الحصن الحصین،کتاب ادعیۃ السفر،ص۸۳)

راہِ خدامیں سفر کرنے کا ثواب

            حضرت ِ سیدناابو اُمَامَہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم،نورِ مجسم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’ جس شخص کا چہرہ راہِ خدا  میں گرد آلود ہوجائے   اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اسے قیامت کے دن جہنم کے دھویں سے امان عطا فرمائے گا اور جس شخص کے قدم راہِ خدامیں گرد آلود ہوجائیں   اللہ   عَزَّوَجَلَّ اس کے قدموں کو قیامت کے دن جہنم کی آگ سے محفوظ فرما دے گا۔ ‘‘ (المعجم الکبیر ،  رقم ۷۴۸۲ ،  ج۸ ،  ص ۹۶)

            ٭جب کبھی قافلہ کی صورت میں سفر پر جائیں تو مل جل کر ایک ہی جگہ اُتریں ۔ کیونکہ حضرت سیدنا ابوثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ لوگ جب منزل پر اُترتے تو منتشر ہو کرٹھہرتے تھے ۔سرکار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’ تمہارا منتشر ہو کر ٹھہرنا شیطان کی جانب سے ہے۔ ‘‘ اس کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان جب کبھی کسی منزل پر اترتے تو مل کر ٹھہرتے۔(سنن ابی داود ، کتاب الجہاد ، باب مایؤمرمن انضمام العسکر،الحدیث۲۶۲۸،ج۳،ص۵۸)

            ٭ دوران سفر اگر کوئی حاجت مندمل جائے تو اس کی حاجت روائی کرنی چاہیے ۔   اللہ عَزَّوَجَلَّ اس میں ثواب زیادہ ہوگا کہ بسا اوقات مسافر خو د بھی تو حاجت مند ہوجاتا ہے پھر بھی وہ دوسروں کی مدد کرے گا تو اس کے اجر وثواب کا کون اندازہ کر سکتا ہے ؟  حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ،  ہم ایک سفر میں   رسولُ  اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر آیا۔ اور دائیں بائیں اسے پھرانے لگا تو مدنی تاجدار حضور سید عالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  جس کے پاس فالتو سواری ہے تو وہ اسے دیدے جس کے پاس سواری نہیں ہے او رجس کے پاس فالتو زادِراہ ہوتووہ اس کو دیدے جس کے پاس زادِراہ نہیں ہے ۔حتی کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہم میں سے کسی کا فالتو مال پر کوئی حق نہیں ہے۔ (سنن ابی داود،ج۲، ص۱۷۵،حدیث ۱۶۶۳)

            ٭جب سیڑھیوں پرچڑھیں یا اونچی جگہ کی طرف چلیں ، یا ہمار ی بس وغیرہ کسی ایسی سڑک سے گزرے جو اونچا ئی کی طر ف جارہی ہوتو  ’’ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ‘‘ کہنا سنت ہے او رجب سیڑھیوں سے اُتریں یا ڈھلان کی طرف چلیں تو ’’ سُبْحٰنَ اللّٰہ ‘‘  کہنا سنت ہے ۔حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرمایا :  ’’ جب ہم بلندی پرچڑھتے تو  ’’  اَللّٰہُ اَکْبَرُ ‘‘ کہتے او ر جب پست(ڈھلان والی) جگہ پر اُترتے تو  ’’ سُبْحٰنَ اللّٰہِ  ‘‘ کہتے تھے ۔ ‘‘ (صحیح البخاری،ج۲، ص۳۰۷، حدیث:۲۹۹۴)

                ٭مسافر کو چاہیے کہ وہ دعاسے غفلت نہ کرے کہ یہ جب تک سفر میں ہے

اس کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ جب تک گھر نہیں پہنچتا اس وقت تک دعا مقبول ہے۔ اسی طرح مظلوم کی دعا اور ماں باپ کی اپنی اولاد کے حق میں دعا بھی قبول ہوتی ہے۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سر کار ِمدینہ، سرورِ قلب وسینہ ، باعثِ نزولِ سکینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا :  ’’ تین قسم کی دعائیں مستجاب (مقبول)ہیں ۔ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : (۱)مظلوم کی دعا(۲) مسافر کی دعا(۳) باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دُعا۔ ‘‘  ( جامع الترمذی،ج۵،ص۲۸۰،حدیث:۳۴۵۹)

            ٭ منزل پر اُتریں تو وقتاً فوقتاً یہ دعا پڑھیں اِنْ شَآءَ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  ہر نقصان سے بچیں گے ۔دعا یہ ہے: ’’ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّـآمَّاتِ مِنْ  شَرِّمَا خَلَقَ ‘‘ ۔

ترجمہ :   اللہ    عَزَّوَجَل کے کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا۔ (کنز العمال ، ج۶،ص۳۰۱،حدیث:۱۷۵۰۸)

          ٭جب دشمن کا خوف ہو ۔ سو رۃ ’’  لِاِیْلٰف ‘‘ پڑھ لیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہر بلا سے امان ملے گی ۔ (الحصن الحصین، کتاب ادعیۃ السفر ، ص۸۰)

            ٭ جب کسی مشکل میں مدد کی ضرورت پڑے تو حدیث پاک میں ہے اس طرح تین بار پکاریں :اَعِیْنُوْنِیْ یَا عِبَادَ اللّٰہ۔ترجمہ  :اے  اللہ  کے بندو ! میری مدد کرو ۔ (المرجع السابق،ص۸۲)

          ٭سفر سے واپسی پر گھر والوں کے لئے کوئی تحفہ لے آئیں کہ یہ سنتِ مبارکہ ہے۔سر کارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ جب سفر سے کوئی واپس آئے تو گھر والوں کے لئے کچھ نہ کچھ ہدیہ لائے ، اگر چہ اپنی جھولی میں پتھر ہی ڈال لائے۔ ‘‘  (کنز العمال،ج۶ ، ص۳۰۱،حدیث:۱۷۵۰۲)

            ٭سفر سے واپسی پر اپنی مسجد میں دوگانہ(یعنی دورکعت نفل ) پڑھنا سنت ہے۔  حضرت سیدنا کعب بن مالک     رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ تا جدار مدینہ ، حضور سید عالمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جب سفرسے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور وہاں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت( نما زنفل )ادا فرماتے۔(صحیح البخاری،ج۲،ص۳۳۶،حدیث:۳۰۸۸)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!