Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِ قافلہ خوش اخلاق، جذبۂ اخلاص و ایثار سے آراستہ وپیرا ستہ ہونا چاہیے۔ اپنے ہم سفر اسلامی بھائیوں کی دیکھ بھال کرے ۔ بالفرض اگر شرکائے قافلہ کسی بات پر ناراض بھی ہوجائیں ،  آپس میں کوئی چپقلش یا رنجش بھی ہوجائے تو حکمتِ عملی کے ساتھ معاملات کوسلجھا دے مگر عدل وانصاف کادامن بھی نہ چھوڑے ۔ نیز مامور بھائیوں کو بھی چاہیے کہ جہاں تک شریعت کے مطابق امیرِ قافلہ ہدایات دے ان کی بجاآوری میں ہرگز ہرگز کوتاہی نہ کریں ۔ سفر میں حوصلہ بلند رکھنا چاہیے ۔ بعض اوقات سفر کی تھکان کے سبب یا آپس میں اختلاف رائے کی وجہ سے کچھ تلخیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں ۔ ان مواقع پر صبر وتَحَمُّل کادامن نہ چھوڑیں ۔پیارومحبت سے سارے معاملات کو سلجھاتے چلے جائیں ۔

            ٭چلتے وقت عزیزوں ، دوستو ں سے ملیں اور اپنے قصور معاف کروائیں اور جن سے معافی طلب کی جائے ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں ۔(بہارِ شریعت، جلداول، حصہ۶،ص۱۰۵۲) 

            حضرت سیدنا ابو ہریرہ     رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورسرکارِ مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کے لئے آئے تو وہ اس کا عذر قبول کرے ، خواہ حق پر ہو یا باطل پر ، جو ایسا نہ کرے وہ میرے حوض پر نہیں آئے گا ۔ ‘‘  (المستدرک للحاکم،ج۵،ص۲۱۳،حدیث۷۳۴۰)

            حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورسرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’  قیامت کے دن جب لوگ حساب کے لیے کھڑے ہوں گے تو ایک مُنادِی اعلان کرے گا: ’’ جسکا کچھ ذمہ  اللہ  تعالٰی کی طرف نکلتاہے وہ اٹھے اورجنت میں داخل ہوجائے ۔ ‘‘ (لیکن کوئی کھڑا نہ ہوگا )منادی پھر دوسری مرتبہ اعلان کرے گا: ’’  جسکا ذمہ اللّٰہ تعالٰی کی طرف نکلتا ہے وہ کھڑا ہو ۔ ‘‘  (لوگ حیرانی سے پوچھیں گے) ’’   اللہ  تعالٰی کی طرف کسی کا ذمہ کیسے نکل سکتاہے ؟   ‘‘ جواب ملے گا: ’’ (وہ)جو لوگوں کو معاف کرنے والے تھے ۔ ‘‘  منادی پھر تیسری مرتبہ اعلان کرے گا: ’’  جسکا ذمہ اللّٰہ تعالٰی کی طرف نکلتا ہے وہ کھڑا ہو اور جنت میں داخل ہوجائے۔ ‘‘ پس اتنے اتنے ہزار کھڑے ہونگے اوربغیر حساب وکتاب جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ ‘‘    (المعجم الاوسط،الحدیث۱۹۹۸،ج۱، ص۵۴۲)

            ٭ لباسِ سفر پہن کر اگر وقت مکروہ نہ ہوتوگھر میں چار رکعت نفل  ’’ اَلْحَمْد وَقُلْ  ‘‘ سے پڑھ کر باہر نکلیں ، وہ رکعتیں واپسی تک اہل ومال کی نگہبانی کریں گی ۔ پھر اپنی مسجد سے رخصت ہوں ۔اگر وقت مکروہ نہ ہوتو اس میں بھی دو رکعت نفل پڑھ لیں ۔

            ٭ ہم جب بھی سفر پرروانہ ہوں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اہل ومال کو اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے حوالے کر کے جائیں ۔  اللہ   تبارک وتعالیٰ ہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے ۔بلکہ ہوسکے تو اپنے گھر والوں کویہ کلمات کہہ کر سفر پر روانہ ہوں :اَسْتَوْدِعُکَ اللّٰہَ الَّذِیْ لَایُضِیْعُ وَدَائِعَہٗ۔

ترجمہ : میں تم کو  اللہ   کے حوالے کرتا ہوں جو سو نپی ہوئی امانتو ں کو ضائع نہیں کرتا۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الجہاد ، باب تشبیع الغزوۃ ووداعھم،الحدیث،۲۸۲۵،ج۳،ص۳۷۲)

            ٭ سفرِ تجارت کرنے والے اسلامی بھائیوں کوچاہئے کہ یہ پانچ سورتیں پڑھ لیا کریں ۔

(۱)  قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) آخِر تک۔ (۲)اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ(۱)آخر تک۔

(۳)قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)آخرتک ۔(۴) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱) آخر تک۔

(۵)قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) آخرتک۔

            سرورِ عالَم ، نورِمجسم،شاہ بنی آدم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت سیدنا جُبَیر بن مُطْعَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا: ’’  اے جُبَیر(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)کیا تم چاہتے ہو کہ جب تم سفر میں جاؤ  تواپنے ساتھیوں میں بہتر او رتو شَۂ سفر میں بڑھ کر رہو۔ (یعنی سفر میں خوشحالی اور فارغ البالی نصیب ہو)

          آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا : ’’  یہ پانچ سورتیں پڑھ لیا کرو:

(۱)  قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱)  آخِر تک۔ (۲)اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙآخر تک۔  (۳)قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)آخرتک ۔(۴) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱)  آخر تک۔(۵)قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) آخرتک۔

            ہر سورت کو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمسے شرو ع کرو اور اسی پر ختم کرو۔  (اس طر ح ان پانچ سورتوں کے ساتھ بِسْمِ اللّٰہِ شریف چھ با ر پڑھی جائے گی)۔حضرت سیدنا جبیر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ  میں نے ان کو پڑھنا شرو ع کیا تو میں پورے سفر میں واپسی تک اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ خوشحال اور تو شئہ سفر

میں فارغ البال رہنے لگا ۔ (کنزالعمّال،ج۶،ص۳۱۴،حدیث:۱۷۴۵)

            ٭ٹرین یا بس وغیرہ میں بِسْمِ اللّٰہِ ،  اَللّٰہُ اَکْبَر اور سُبْحٰنَ اللّٰہ تین تین بار ،  لا الٰہ الا اللّٰہ ایک بار ،  پھر کہے  {سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ(۱۳) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ(۱۴)} (پ۲۵،الزخرف۱۳،۱۴)

          ترجمۂ کنز الایمان:پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں  کردیا  اور یہ ہمارے بوُتے (قابو)کی نہ تھی اور بے شک ہمیں اپنے رب عزَّوَجَلَّ کی طرف  پلٹنا ہے۔ (فتاوی رضویہ ، ج۱۰،ص۷۲۸)

      ٭جب کشتی میں سوار ہوں تو یہ دعا پڑھیں ،  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ڈوبنے سے محفوظ رہیں گے { بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۴۱) } (پ۱۲،ھود:۴۱) 

ترجمۂ کنز الایمان :  اللہ  کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بے شک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ (فتاوی رضویہ ، ج۱۰،ص۷۲۹)