Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو                         لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو

ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                                پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد 

اے ہمارے پیارے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ!  ہمیں گفتگو کرنے کی سنتو ں اور آداب پر عمل کرنے کی تو فیق مرحمت فرما۔ ‘‘  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭

گھرمیں آنے جانے کی سنتیں اورآداب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  

             ہمیں ہر روز اپنے یاکسی عزیز یا دوست واحباب کے گھر میں جانے کی حاجت پڑتی رہتی ہے تو ہمیں یہ معلوم ہوناچاہئے کہ گھر میں داخل ہونے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کسی کے گھرمیں جائیں تو دروازے کے سامنے کھڑے ہوں یا ایک طرف ہٹ کر؟ اورکس طرح اجازت طلب کریں ؟  اگر اجازت نہ ملے تو کیا کرنا چاہئے؟  دُعاپڑھ کر گھر سے نکلنے کی کیا کیا برکتیں ہیں ؟ اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہوتو کیا پڑھنا چاہئے ؟ گھر میں داخل ہونے اور اجازت طلب کرنے وغیرہ کے حوالے سے مُتَعَدَّ د سنتیں اورآداب ہیں :

            ٭ اپنے گھر میں آتے ہوئے بھی سلام کریں اورجاتے ہوئے بھی سلام کریں ۔حضورِ پُرنور،شافعِ یومُ النُّشورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان عالیشان ہے : ’’  جب تم گھر میں آؤ  تو گھر والوں کو سلام کرو اور جاؤ  تو سلام کر کے جاؤ۔ ‘‘ (شعب الایمان،ج۶،ص۷ ۴۴،حدیث:۴۵ ۸ ۸)

             حکیم الامت  مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہ   القَوِی مراٰۃ المناجیح جلد6 صفحہ9پر تحریر فرماتے ہے : ’’  بعض بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اول دن میں جب پہلی بار گھر میں داخل ہوتے تو بِسْمِ اللّٰہاورقُلْ ہُوَاللّٰہپڑھ لیتے ، کہ اس سے گھر میں اتفاق بھی رہتا ہے اور رزق میں برکت بھی۔ ‘‘

            ٭ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کانام لئے بغیر جوگھر میں داخل ہوتا ہے ،  شیطان بھی اس کے ساتھ گھرمیں داخل ہوجاتاہے ۔ جیسا کہ حضر ت سیدناجابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ   رسولُ  اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  ’’  جب آدمی گھر میں داخل ہو تے وقت اور کھاناکھاتے وقت  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کر تا ہے تو شیطان کہتا ہے: ’’ آج یہاں نہ تمہاری رات گزرسکتی ہے اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے اور جب انسان گھر میں بغیر  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر کئے داخل ہوتا ہے تو شیطان کہتاہے آج کی رات یہیں گزرے گی اور جب کھانے کے وقت  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کانام نہیں لیتا تو وہ کہتا ہے :تمہیں ٹھکانہ بھی مل گیا اور کھانابھی مل گیا ۔(صحیح مسلم،ص۱۱۱۶حدیث:۲۰۱۸)

            ٭جب کوئی خوش نصیب اپنے گھر سے باہر جاتے وقت باہر جانے کی دعا پڑھ لیتا ہے تو وہ گھر لوٹنے تک ہر بلا وآفت سے محفو ظ ہوجاتا ہے ۔

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہسرکار مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سنتوں پر عمل کرنے میں برکت ہی برکت ہے ۔ حضرت سیدناابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور تا جدار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  آدمی اپنے گھر کے دروازے سے باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دو فر شتے مقر ر ہوتے ہیں ۔ جب وہ آدمی کہتا ہے کہ ’’ بِسْمِ اللّٰہِ ‘‘  تو وہ فرشتے کہتے ہیں تو نے سیدھی راہ اختیار کی اورجب انسان کہتا ہے ،  لاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ  ‘‘   تو فرشتے کہتے ہیں اب توہر آفت سے محفو ظ ہے ۔ جب بندہ کہتا ہے تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ تو فر شتے کہتے ہیں ۔ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں ، اس کے بعد اس شخص کے دو شیطان جو اس پر مسلط ہوتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں فرشتے کہتے ہیں اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو ؟  اس نے تو سیدھا راستہ اختیار کیا ۔ تمام آفات سے محفوظ ہوگیا اور خداعَزَّوَجَلَّ کی امداد کے علاوہ دو سرے کی امداد سے بے نیا ز ہوگیا ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،ج۴،ص۲۹۲،حدیث:۳۸۸۶)

            ٭جب کسی کے گھر جانا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اندر آنے کی اجازت حاصل کیجئے پھر جب اندر جائیں تو پہلے سلام کریں پھر بات چیت شروع کیجئے ۔(بہارشریعت،جلدسوم،حصہ۱۶،ص۴۵۲ملخصاً )

            حضرت سیدناابوموسیٰ اشعری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  تین مرتبہ اجازت طلب کرو اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ  ۔ ‘‘         (صحیح مسلم،ص۱۱۸۶،حدیث۲۱۵۳)

            ٭ جو سلام کئے بغیرگھر میں داخلے کی اجازت مانگے اسے داخلہ کی اجازت نہ دی جائے ۔حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریم رؤ و ف رحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  جو شخص سلام کے ساتھ ابتدا نہ کرے اس کواجازت نہ دو ۔ ‘‘ (شعب الایمان، الحدیث:۸۸۱۶،ج۶،ص۴۴۱)

            گھرمیں داخلہ کی اجازت مانگنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ فورا گھر میں باہر والے کی نظرنہ پڑے ۔ آنے والا باہر سے سلام کر رہا ہو، اجازت چاہ رہا ہو اور صاحب خانہ پردہ وغیرہ کا انتظام کر لے۔

              حضرت سہل بن سعد رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ،  فرماتے ہیں کہ حضور تا جدارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  اجازت طلب کرنے کا حکم آنکھ کی وجہ سے دیا گیا ہے (اس لئے کہ اہل خانہ کی نجی زندگی کے اسرار منکشف نہ ہوسکیں) ۔  (صحیح مسلم ،  الحدیث۲۱۵۶،ص۱۱۸۹)

            ٭ جب کسی کے گھر جانا ہو اجازت مانگنا سنت ہے۔بہتر یہ ہے کہ اس طرح  اجازت مانگیں  ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟  ‘‘  (مراٰۃالمناجیح،ج۶،ص۳۴۶)

                   حضرت رِبعی بن حراش       رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ہمیں بنو عامر کے ایک شخص نے یہ بات بتائی کہ اس نے حضور نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے اجازت طلب کی ۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  گھر میں تشریف فرماتھے ۔ اس نے عرض کیا ،  کیا میں داخل ہوجاؤ ں ؟ حضور نبی کریم رؤ وف رحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنے خادم سے فرمایا:  ’’ باہر اس



Total Pages: 194

Go To