Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            یاد رہے!  امیرِ قافلہ کے لئے اگرچہ سند یافتہ عالم ہونا ضروری نہیں تاہم اس میں :(۱ فرض علوم حاصل کرنے کا جذبہ    (۲ سمجھ و حکمت عملی  (۳)    حُسنِ اخلاق (۴)    قوتِ برداشت (۵)   سنجیدگی (۶خدمت کا جذبہ (۷ہر کسی کو اپنے ساتھ لے کر چلنے اور کام لینے کی صلاحیت کا پایا جانا ضروری ہے۔

٭٭٭٭٭

شرکائے قافلہ کی تربیت کے مدنی پھول

            امیرِ قافلہ کو چاہئے کہ وہ شرکائے قافلہ کی تربیت کرنے میں درجِ ذیل پہلو مدِنظر رکھے…

(۱)  اطاعتِ امیرکے لئے ذہن بنانا:

            امیرِ قافلہ کو چاہئے کہ اطاعتِ امیر کے حوالے سے شرکائے قافلہ کا اس طرح ذہن بنائے…

             ’’ پیارے اسلامی بھائیو!  مدنی قافلے میں امیرِ قافلہ اس لئے بنا یا جاتا

ہے کہ قافلے میں تمام معمولات منظم انداز میں پایۂ تکمیل کو پہنچ جائیں ۔جب بھی کوئی سفر کیا جائے تو ہمیں چاہئے کہ کسی اسلامی بھائی کو اپنا اَمیر مقرر کر لیں

            جیسا کہ آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ اگر تین شخص سفر میں ہو تو انہیں چاہئے کہ ایک کو اپنا امیر بنالیں ۔ ‘‘  (کنزا لعمال ، الحدیث:۱۷۴۹۶،ج ۶، ص۳۰۰)

            امیر کی اطاعت ہم پر لازم ہے لیکن امیر کو چاہئے کہ خو دکو قوم کا خادم

سمجھے یعنی لوگوں کو چاہئے کہ امیر قافلہ کی اطاعت کریں اور امیر کو چاہئے کہ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے کے بجائے خود کوان کا خادم تصور کرے اور ان کی خیر خواہی کرتا رہے۔

            پیارے اسلامی بھائیو! مجھے مدنی مرکز کی طرف سے آپ کی خدمت پر مامور کیا گیا ہے ، آپ کی خدمت میں درخواست ہے کہ جب بھی کوئی بات آپ کی بارگاہ میں عرض کروں بیان کردہ باتوں کی روشنی میں اسے ضرور شرفِ قبولیت  بخشئے گا اور اگر کہیں کوئی کمی پائیں تو نیکی کی دعوت کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے میری اصلاح فرمادیں ۔

(۲)  نظم و ضبط:

            امیرقافلہ کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ شرکائے قافلہ کو نیکی کی دعوت، نماز ،  ذکر، درود اور سیکھنے سکھانے میں جدول کے مطابق انفرادی اور اجتماعی طور پر

مشغول رکھے۔اس کے لئے مدنی قافلے میں نظم وضبط کا جتناخیال رکھا جائے گا جدول پر عمل اتناہی آسان ہوگا اور جدول پر عمل کرنے کی برکت سے یہ قافلہ اپنے مقاصدمیں عظیم کامیابی حاصل کرے گا۔

            نظم وضبط قائم رکھنے کے سلسلے میں شرکائے قافلہ کے اتحاد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔لہٰذا امیرِ قافلہ کے لئے ضروری ہے کہ قافلے میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لئے شرکائے قافلہ میں بالخصوص ان مواقع پراتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

(۱) کھانا کھاتے وقت ۔۔۔۔۔۔(۲) سفر میں دعا پڑھاتے وقت۔۔۔۔۔۔

 (۳)   تربیت دیتے وقت ۔۔۔۔(۴)رات کو آرام کرتے وقت۔۔۔۔۔۔۔

(۵) سفر کے دوران ۔۔۔۔۔۔۔۔(۶) نوافل ،  اشراق و چاشت و تہجد میں ۔۔۔۔

(۷) صدائے مدینہ لگاتے وقت۔۔۔۔ (۸) نیکی کی دعوت دیتے وقت ۔

            اور آپس میں اتحاد اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب تمام شرکائے قافلہ ایک دوسرے سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کے لئے محبت کریں ۔اسی طرح امیر قافلہ کو بھی چاہئے کہ اپنے دل میں شرکائے قافلہ کی محبت رکھے۔  اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں غیب داں آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان عالیشان ہے: ’’ جس میں تین اوصاف ہوں گے وہ ایمان کی لذت پائے گا۔

          (۱) جس کے نزدیک  اللہ عزَّوَجَلَّ  اور اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت تمام عالَم سے زیادہ ہو۔

            (۲)جو کسی سے خاص  اللہ عزَّوَجَلَّ  ہی کے لئے محبت رکھتاہو۔

            (۳) جس کو ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پلٹنے سے ایسی نفرت ہو جیسی آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب حلاوۃ الایمان، الحدیث ۱۶،ج۱، ص ۱۷)

            جب شرکائے قافلہ کے درمیان محبت بھری فضا قائم ہوجائے گی تو ہر اسلامی بھائی اسلام کا مخلص مبلغ بن کر نیکی کی دعوت کی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ سب کے سامنے ایک ہی مقصد ہوگا کہ  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنْ شَا ءَ  اللہ عزَّوَجَلَّ ‘‘   اور یہ مقصد تمام شرکائے قافلہ کو محبت واخوت کی مضبوط لڑی میں پروئے رکھے گا  جس کی وجہ سے قافلے میں سب کا وقت خوشگوارگزرے گا ۔

(۳)مدنی مشورہ :

            امیرِقافلہ کو چاہئے کہ قافلے کے تمام اُمور مدنی مشورہ کے طریقۂ کار کے مطابق شرکائے قافلہ کے مشورے سے طے کرے ۔اس کی برکت سے دوسرے اسلامی بھائیوں کو اپنی اہمیت اور قافلے کے معاملات میں شرکت کا احساس ہوگا، قافلے میں ان کی دلچسپی بڑھے گی اور ان کے دل میں امیرقافلہ کے لئے احترام وسیع ہوجائے گا ۔مشورے کے ذریعے ذمہ داریاں اَحسن انداز میں باہم تقسیم ہوجاتی ہیں اور ہر کام کے مختلف پہلو     نِکَھر کر سامنے آتے ہیں ۔ مشورہ کرنا ہمارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت بھی ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی نے قرآن



Total Pages: 194

Go To