Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ملا مگر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میرے ساتھ مصا فحہ کرتے (یعنی میں نے جب بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا ،  سرکارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مصا فحہ ضرور فرمایا) ایک دن آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے میری طر ف پیغام بھیجا ۔میں اپنے گھر موجود نہیں تھا ۔ جب میں آیا مجھے خبر دی گئی ۔ میں آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تخت پر رونق افرو ز تھے ۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مجھے گلے لگالیا۔یہ بہت بہتر ہوا اور بہتر ۔  (سنن ابی داود ، کتاب الادب، باب فی المعانقہ ، الحدیث:۵۲۱۴،ج۴،ص۴۵۳)

             حضرت سیدنا جعفررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سرکا ر ِابد قرارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو ان کو بھی گلے سے لگایا چنانچہ حضرت شعبی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریم ، روف رحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ملے تو گلے سے لگالیا او ران کی آنکھوں کے درمیان بو سہ دیا ۔     (المرجع السابق،باب فی قبلہ مابین العینین ، الحدیث:۵۲۲۰،ج۴،ص۴۵۵)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  خوش نصیب صحابہ کرامعلیہم الرضوان سرکار ِذی وقار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے رحمت بھرے ہاتھوں کو چومنے کی سعادت بھی حاصل کرتے تھے ۔ حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے ایک واقعہ مروی ہے جس میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :ہم حضور تاجدار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے قریب ہوئے اور ہم نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔(سنن ابی داود ، کتاب الادب، باب فی قبلۃ الید،الحدیث۵۲۲۳،ج۴،ص۴۵۶)

جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھردیئے

صدقہ ان ہاتھوں کاپیارے ہم کو بھی درکار ہے

  صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِِضْوَان سرکارمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے مقدس ہاتھ پاؤں چومتے تھے

            حضرت زارع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبد القیس کا وفد سرکار مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت اقد س میں حاضر ہوا،یہ بھی اس وقت وفد میں شریک تھے ۔آپ فرماتے ہیں کہ جب ہم اپنی منزلوں سے مدینہ شریف پہنچے تو جلدی جلدی سر کارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور سرکار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دست مبارک اور قدم شریف کو بو سہ دیا ۔(المرجع السابق، باب فی قبلۃ الرجل ، الحدیث۵۲۲۵،ج۴،ص۴۵۶)

                  سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشو ا حضرت سیدنا با با فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :مشائخ وبزرگان دین رَحِمَھُمُ اللّٰہُ تعالٰیکی دست بو سی یقینادین  ودنیا کی خیروبرکت کاباعث بنتی ہے ۔ ایک دفعہ کسی نے ایک بزرگ کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا ،  ’’ مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟  یعنی  اللہ  تبارک وتعالیٰ  نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟  کہا ،  دنیا کاہرمعاملہ اچھا اور برا میرے آگے رکھ دیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ حکم ہوا ، اسے دو زخ میں لے جاؤ  !  اس حکم پر عمل ہونے ہی والا تھا کہ فرمان ہوا : ’’  ٹھہرو !  ایک دفعہ اس نے جامع دمشق میں خواجہ شریف رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دستِ مبارک کو چوماتھا ۔ اس دست بوسی کی برکت سے ہم نے اسے معاف کیا۔  (اسرار اولیاء مع ہشت بہشت،ص۱۱۳)

؎  رحمت حق  ’’ بہا ‘‘  نہ می جوید         رحمت حق  ’’ بہانہ ‘‘  می جوید

            یعنی  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بہا یعنی قیمت طلب نہیں کرتی ،   اللہ    عَزَّوَجَلَّ کی رحمت تو بہانہ ڈھونڈتی ہے ۔ مزید شیخ المشائخ بابا فرید الدین رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :قیامت کے دن بہت سارے گنہگارلوگ بزرگان دین رَحِمَہُمُ  اللہ  تَعَالٰی کی دست بو سی کی برکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے۔  (ایضاً)

            ٭رخصت ہوتے وقت بھی مصافحہ کریں ۔صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیلکھتے ہیں :  ’’ اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظرِ فقیر سے نہیں گزری مگر اصل مصافحہ کا جواز حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا۔ (بہارِشریعت،جلدسوم ، حصہ ۱۶،ص۴۷۱)

          ٭ہر نماز کے بعدلوگ آپس میں مصافحہ کرتے ہیں یہ جائز ہے ۔(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع ، ج۹،ص۶۸۲)

            ٭گلے ملنے کو معانقہ کہتے ہیں او ریہ بھی سر کار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ثابت ہے۔ (سنن ابی داود،ج۴،ص۴۵۵،حدیث:۵۲۲۰)

            ٭صرف تہبند باندھ کر یا پاجامہ پہنے ہوں اس وقت معانقہ نہ کریں بلکہ کُرتا   پہنا ہوا ہویاکم از کم چادر لپٹی ہوئی ہونی چاہیے ۔(بہارشریعت،جلدسوم ، حصہ۱۶،ص۴۷۱)

            ٭عیدین میں معانقہ کرنا جائز ہے ۔ (المرجع السابق)

            ٭عالمِ دین کے ہاتھ پاؤ ں چومنا جائز ہے ۔ (المرجع السابق،ص۴۷۲)

          ٭ہاتھ پاؤ ں وغیرہ چومنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ محلِ فتنہ نہ ہو ،  اگر مَعَاذَ اللّٰہشہوت کے لئے کسی اسلامی بھائی سے مصافحہ یامعانقہ کیا ،  ہاتھ پاؤ ں چومے یا نَعُوْذُ      بِاللّٰہ پیشانی کابو سہ لیا تو یہ ناجائزہے ۔(المرجع السابق،ص۴۷۲،ملخصاً)

          ٭ والدین کے ہاتھ پاؤں بھی چوم سکتے ہیں ۔

          ٭عالم باعمل اور نیک اسلامی بھائی کی آمد پر تعظیم کیلئے کھڑا ہوجانا جائز بلکہ مستحب ہے مگر وہ عالم یا نیک شخص بذات خود اپنے آپ کو تعظیم کا اہل تصور نہ کرے اور یہ تمنا نہ کرے کہ لوگ میرے لئے کھڑے ہوجایا کریں ۔ اور اگر کوئی تعظیما کھڑا نہ ہو تو ہر گز ہرگز دل میں کدورت (میل) نہ لائیں ۔(



Total Pages: 194

Go To