Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو                         لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو

ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                                پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد 

اے ہمارے پیارے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ہمیں سلام کی بر کتو ں سے مالا مال فرما ۔

            اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  

٭٭٭٭٭٭

مصافحہ اور معانقہ کی سنتیں اورآداب

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            جب د و اسلامی بھائی آپس میں ملیں تو پہلے سلام کریں اور پھر دونوں ہاتھ

ملائیں کہ بوقتِ ملاقات مصافحہ کرنا سنّتِ صحابہ بلکہ سنّتِ رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۳۵۵) حضرت ابوالخطاب قتادۃ  نے فرمایا کہ میں نے حضرت سیدناانس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کیا کہ مصافحہ (ہاتھ ملانا) حضور نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے صحا بہ کرام علیہم الرضوان میں مروج تھا ؟ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ،   ’’ ہاں ۔ ‘‘

(صحیح البخاری ، کتاب الاستیذان،باب المصافحہ،الحدیث۶۲۶۳،ج۴،ص۱۷۷)

            ٭آپس میں ہاتھ ملانے سے کینہ ختم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو تحفہ دینے سے محبت بڑھتی اور عداوت دور ہوتی ہے جیسا کہ حضرت عطا ء خراسانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرو، اس سے کینہ جاتا رہتا ہے اور ہدیہ بھیجو آپس میں محبت ہوگی اور دشمنی جاتی رہے گی۔ ‘‘  (مشکاۃ المصابیح،ج۲،ص۱۷۱،حدیث ۴۶۹۳)

            ٭ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے والوں کے لئے دعا کی قبولیت اور ہاتھ جداہونے سے قبل ہی مغفرت کی بشارت ہے ۔ چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکار ِمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  جب دو مسلمانوں نے ملاقات کی او رایک دو سرے کا ہاتھ پکڑلیا (یعنی مصافحہ کیا)   تو اللّٰہ تعالٰی کے ذمہ کرم پر ہے کہ ان کی دعا کوحاضر کردے (یعنی قبول فرمالے)

اور ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں گے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی ۔ اور جو لوگ جمع ہو کر اللّٰہ تعالٰی کا ذکرکرتے ہیں اور سوائے رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے ان کا کوئی مقصد نہیں تو آسمان سے منادی ندا دیتاہے کہ کھڑے ہوجاؤ !  تمہاری مغفرت ہوگئی، تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالک ، الحدیث ۱۲۴۵۴،ج۴،ص۲۸۶)

            ٭اسلامی بھائیوں کے آپس میں مصافحہ کرنے کی برکت سے دونوں کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔تا جدار مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : ’’  مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے ملے اور  ’’ ہاتھ پکڑے ‘‘  (یعنی مصافحہ کرے ) تو ان دو نوں کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے تیز آندھی کے دن میں خشک درخت کے پتے ۔ اور ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ سمند ر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔ ‘‘  (شعب الایمان،ج۶،ص۴۷۳،حدیث:۸۹۵۰)

            ٭سب سے پہلے یمنی اسلامی بھائیوں نے سر کارِ پُرْوقارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے مصافحہ کرنے (ہاتھ ملانے )کا شرف حاصل کیا ۔چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب اہل یمن مدنی سرکارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو حضور نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’ تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں اور وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے آکر مصافحہ کیا ۔ ‘‘  (سنن ابی داود،ج۴،ص۴۵۳،حدیث ۵۲۱۳)

            ٭ سلام کے ساتھ ساتھ مصافحہ کرنے سے سلام کی تکمیل ہوتی ہے ۔ حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ،  سرکار مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے ؟  اور پوری تحیت (سلام کرنا ) یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیا جائے ۔ ‘‘  (جامع الترمذی،ج۴،ص۳۳۴ ، حدیث ۲۷۴۰)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا حسن اخلاق میں سے ہے، سرکار مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں : ’’  لوگوں کو تم اپنے اموال سے خوش نہیں کرسکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اورخوش اخلاقی انہیں خوش کرسکتی ہیں ۔ ‘‘  (شعب الایمان،ج۶، ص۲۵۳، حدیث ۸۰۵۴)

            ٭خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنت ہے ۔   (مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۳۵۹)

            حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں : زید بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمدینہ آئے اور حضور نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میرے گھر میں تھے ،  زیدرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ وہاں آئے اوردروازہ کھٹکھٹا یا ۔ حضورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُٹھ کر کپڑا کھینچتے ہوئے ان کی طر ف تشریف لے گئے، ان سے معانقہ کیا اور ان کو بوسہ دیا۔ (جامع الترمذی،ج۴،ص۳۳۵ ، حدیث۲۷۴۱)

            سرکا ر ِمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت سیدناابوذر غفاری رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو طلب فرمایا ،  جب وہ حاضر ہوئے تو سرکا رصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرطِشفقت سے حضرت سیدناابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکوگلے لگا لیا ۔ چنا نچہ حضرت سیدناایوب بن بشیررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا ،  میں نے ابو ذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا ، جس وقت تم    رسولُ  اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے ملتے تھے کیا آپصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تمہارے ساتھ مصافحہ فرماتے تھے ؟  انہوں نے فرمایا : میں کبھی آپصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ