Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سے کفایت کرجاتا ہے ۔ـ ‘‘ (سننِ ابی داود،کتاب الادب ، باب ما جاء فی رد واحد عن الجماعۃ،الحدیث:۵۲۱۰،ج۴،ص ۴۵۲)

٭ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہنے سے دس نیکیاں ،  اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَۃُ اللّٰہْکہنے سے بیس نیکیاں جبکہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہکہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں ۔ چنانچہحضرت سیدناعمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک آدمی حضورتاجدارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’  دس نیکیاں لکھی گئی ہیں ،  ‘‘ پھر دو سرا حاضر ہوا اس نے عرض کیا :اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ،آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس کو جواب دیا ، وہ بھی بیٹھ گیا، آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ بیس نیکیاں لکھی گئی ہیں ،  ‘‘  پھر ایک اور آدمی حاضر خدمت ہوا ،  اس نے عرض کیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس کوجواب دیا اور فرمایا :  ’’ تیس نیکیاں ہیں ۔  ‘‘  (سنن الترمذی،کتاب الاستئذان والادب،باب ما فی فضل السلام،الحدیث:۲۶۹۸،ج۴،ص۳۱۵)

٭جو سورہے ہوں ان کو سلام نہ کیا جائے بلکہ صرف جاگنے والوں کو سلام کریں

             چنانچہ حضرت سیِّدنا     مِقداد      رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  رات کو تشریف لاتے تو سلام کہتے ۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سونے والوں کو نہ جگا تے اور جوجا گ رہے ہوتے ان کو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سلام ارشاد فرماتے ۔ پس ایک دن حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تشریف لائے اور اسی طر ح سلام فرمایا جس طر ح فرمایا کرتے تھے ۔( صحیح مسلم ، کتاب الاشربۃ،باب اکرام الضیف وفضل ایثارہ ، الحدیث۲۰۵۵،ص۱۱۳۶)

جلوہ یار ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا!

حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا !

( ذوق نعت )                

٭زبان سے سلام کرنے کے بجائے صرف انگلیوں یاہتھیلی کے اشارے سے سلام نہ کیا جائے۔(ماخوذ بہارشریعت، جلد سوم، حصہ۱۶،ص۴۶۴)

                حضرت سیدناعمروبن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’  ہمارے غیر سے مشابہت پیدا کرنے والا ہم میں سے نہیں ،  یہود ونصاریٰ کے مشابہ نہ بنو ،  یہودیوں  کا سلام انگلیوں کے اشارے سے ہے اور عیسائیوں کا سلام ہتھیلوں کے اشارے سے۔ ‘‘ (جامع الترمذی،کتاب الاستئذان،باب ماجاء فی کراہیۃ اشارۃ الید بالسلام، الحدیث:۲۷۰۴،ج۴،ص۳۱۹)

           اگر کسی نے زبان سے سلام کے الفاظ کہے اور ساتھ ہی ہاتھ بھی اٹھادیا تو پھر مضایقہ نہیں ۔ ‘‘  (احکام شریعت،حصہ اول ص۷۲)

٭غیر مسلم کوسلام نہ کریں وہ اگر سلام کرے تو اس کا جواب واجب نہیں ،   جواب میں فقط ’’ وَعَلَیْکُمْ ‘‘  کہہ دیں ۔  (الفتاوی الھندیہ،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع فی السلام،ج۵،ص۳۲۵)

            ٭سلام کرتے وقت حد ر کوع تک جھک جانا(یعنی اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنو ں تک پہنچ جائیں ) حرام ہے اگر اس سے کم جھکے تو مکروہ ۔(ماخوذ بھارشریعت،جلد سوم، حصہ۱۶،ص۴۶۴)

                بدقسمتی سے آج کل عام طو ر پر سلام کرتے وقت لوگ جھک جاتے ہیں ۔

البتہ کسی بزرگ کے ہاتھ چومنے میں حرج نہیں بلکہ ثواب ہے اور یہ بغیر جھکے ممکن نہیں یہاں ضرورت ہے ۔ جبکہ سلام کے وقت جھکنے کی حاجت نہیں ۔

٭ بُڑھیا کاجواب آواز سے دیں اور جوان عورت کے سلام کا جواب اتنا آہستہ دیں کہ وہ نہ سنے ۔ البتہ اتنی آواز لازمی ہے کہ جواب دینے والاخود سن لے ۔(ماخوذ بھارشریعت،جلد سوم، حصہ۱۶،ص۴۶۱)

٭جب دو اسلامی بھائی ملاقات کریں توسلام کریں اوراگر دونوں کے بیچ میں کوئی ستون ، کو ئی درخت یا دیوار وغیرہ درمیان میں حائل ہوجائے پھر جیسے ہی ملیں دوبارہ سلام کریں ۔حضرت سیدناابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرو ی ہے کہ حضور تا جدارمدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اسلامی بھائی کو ملے تو اس کو سلام کرے اور اگر ان کے درمیان، درخت دیوار یا پتھر وغیرہ حائل ہوجائے اوروہ پھر اس سے ملے تو دوبارہ اس کو سلام کرے۔ ‘‘ (سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب فی الرجل۔۔۔الخ،الحدیث ۵۲۰۰،ج۴،ص۴۵۰)

 ٭خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اس کی دو صورتیں ہیں ،  ایک تو یہ کہ زبان سے جواب دے اوردوسرا یہ کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیج دے لیکن چونکہ جوابِ سلام فوراً دینا واجب ہے اور خط کا جواب دینے میں کچھ نہ کچھ تاخیر ہوہی جاتی ہے لہٰذا فوراً زبان سے سلام کا جواب دے دے ۔اعلیٰ حضرت قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو ’’ السلام علیکم ‘‘  لکھا ہوتا، اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے ۔  (ماخوذ بہارشریعت،جلد سوم،حصہ۱۶،ص۴۶۳)

٭اگر کسی نے آپ کو کہا: ’’  فلا ں کو میرا سلام کہنا  ‘‘  تو آپ خود اسی وقت جواب نہ دے دیں ۔ آپ کا جواب دینا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ جس کے بارے میں کہا ہے اس سے کہیں کہ فلاں نے آپ کو سلام کہا ہے ۔

٭اگر کسی نے آپ سے کہا کہ فلاں نے آپ کو سلام کہا ہے ۔ اگر سلام لانے والا اوربھیجنے والا دو نوں مردہوں تو یوں کہیں :عَلَیْکَ وَ عَلَیْہِ السَّلَام

 اگر دونوں عورتیں ہوں تو کہیں عَلَیْکِ وَ عَلَیْہَا السَّلَام  اگر پہنچانے والا مرد اور بھیجنے والی عورت ہوعَلَیْکَ وَ عَلَیْہَا السَّلَام

 اگر پہنچا نے والی عورت ہو اور بھیجنے والا مرد ہوعَلَیْکِ وَ عَلَیْہِ السَّلَام ۔ (ان سب کا ترجمہ یہی ہے  ’’  تجھ پر بھی سلام ہو او ر اس پر بھی ‘‘ )

٭جب آپ مسجد میں داخل ہوں اور اسلامی بھائی تلاوتِ قرآن، ذکرودرود میں مشغول ہوں یاا نتظارِ نماز میں بیٹھے ہوں ان کو سلام نہ کریں ۔ یہ سلام کا موقع نہیں اورنہ ان پر جواب واجب ہے ۔(الفتاوی الہندیۃ ، کتاب الکراہیۃ،باب السابع فی السلام وتشمیت العاطس،ج۵،ص۲۲۵)

 



Total Pages: 194

Go To