Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

البخاری ، کتاب الاستئذان ، باب بدء السلام،الحدیث۶۲۲۷،ج۴،ص۱۶۴)

٭عام طو ر پرمعروف یہی ہے کہ  ’’  اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ  ‘‘  ہی سلام ہے ۔مگر سلام کے دو سرے بھی بعض صیغے ہیں ۔ مثلاً کوئی  آ کر صرف کہے  ’’ سلام ‘‘  تو بھی سلام ہوجاتا ہے او ر ’’  سلام ‘‘  کے جواب میں  ’’ سلام  ‘‘  کہہ دیا  یا  اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ‘‘  ہی کہہ دیا یا صرف  ’’  وَعَلَیْکُمْ  ‘‘  کہہ دیا تو بھی جواب ہوگیا۔ ‘‘  (ماخوذ بہارِشریعت،جلدسوم، حصہ۱۶،ص۴۶۰)

٭سلام کرنے سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’  تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک تم ایمان نہ لاؤ  اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، کیا میں تم کو ایک ایسی چیز نہ بتاؤ ں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو۔ اپنے درمیان سلا م کو عام کرو ۔ ‘‘ (سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب فی افشاء السلام،الحدیث ۵۱۹۳،ج۴،ص۴۴۸)

٭ہرمسلمان کو سلام کرنا چاہئے خواہ ہم اسے جانتے ہو ں یا نہ جانتے ہوں ۔ حضرت سیدناعبداللّٰہبن عمر وبن العاصرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم ا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضور تا جدار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کیا : اسلام کی کون سی چیز سب سے بہتر ہے؟  تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم کھانا کھلاؤ  (مسکینوں کو ) اور سلام کہو ہر شخص کو خواہ تم اس کو جانتے ہو یا نہیں ۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،باب السلام ۔۔۔الخ،الحدیث۶۲۳۶،ج۴،ص۱۶۸)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہوسکے تو جب بس میں سوار ہوں ،  کسی اسپتال میں جانا پڑجائے ، کسی ہوٹل میں داخل ہوں جہاں لوگ فارغ بیٹھے ہوں ،  جہاں جہاں مسلمان اکٹھے ہوں ،  سلام کردیا کریں۔ یہ دو الفاظ زبان پر بہت ہی ہلکے ہیں ،  مگر ان کے فوائد وثمرات بہت ہی زیادہ ہیں ۔

٭بات چیت شروع کرنے سے پہلے ہی سلام کرنے کی عادت بنانی چاہیے۔

 نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’ اَلسَّلَامُ قَبْلَ الْکَلَامِ ‘‘ یعنی ’’  سلام بات چیت سے پہلے ہے۔ ‘‘ (جامع الترمذی،کتاب الاستئذان...الخ،باب ماجاء فی السلام...الخ،ج۴،ص۳۲۱)

٭چھوٹا بڑے کو ،  چلنے والا بیٹھے ہوئے کو ،  تھوڑے زیادہ کو اور سوار پیدل کوسلام کرنے میں پہل کریں ۔

          سر کارِمدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان عالیشان ہے: ’’  سوار پیدل کو سلام کرے ،  چلنے والا بیٹھے ہوئے کو ، اور تھوڑ ے لوگ زیادہ کو ،  اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب السلام،باب یسلم الراکب علی الماشی۔۔۔الخ، الحدیث:۲۱۶۰،ص۱۱۹۱)

٭پیچھے سے آنے والا آگے والے کو سلام کرے ۔ (الفتاوی الہندیہ،کتاب الکراہیۃ،باب السابع فی السلام وتشمیت العاطس،ج۵،ص۲۲۵)

٭جب کوئی کسی کا سلام لائے تو اس طر ح جواب دیں  ’’  عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلام  ‘‘  یعنی تجھ پر بھی او ر اس پر بھی سلام ہو۔ ‘‘ حضرت غالب رَضِیَ اللّٰہُ  تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دروازہ پر بیٹھے ہوئے تھے ،  ایک آدمی نے بتا یاکہ میرے والدِ ماجد نی مجھے رسولُ   اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس بھیجا اور فرمایا، آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو میرا سلام عرض کر۔ اس نے کہا ،  میں آپ (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوگیا اور میں نے عرض کی ،  سر کار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! میرے والد صاحب آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو سلام عرض کرتے ہیں ۔ حضورسید دوعالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ عَلَیْکَ وَعَلٰی اَبِیْکَ السَّلَام یعنی تجھ پر اور تیرے باپ پر سلام ہو۔ ‘‘

(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی الرجل یقول فلان یقرئک السلام، الحدیث:۵۲۳۱،ج۴،ص۴۵۸)

٭ سلام میں پہل کرنے والا  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کا مقر ب ہے۔حضرت سیدناابواُمامہ الباہلی صُدَیْ بن عجلان  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور تاجدار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’ لوگو ں میں اللّٰہ تعالٰی کے زیادہ قریب وہی شخص ہے جو انہیں پہلے سلام کرے ۔ ‘‘ (المرجع السابق،باب فی فضل من بدء بالسلام،الحدیث ۵۱۹۷،ج۴،ص۴۴۹)

            حضرت سیدناابوامامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ،  عرض کیا گیا: یارسولَ  اللّٰہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !  دو آدمی آپس میں ملیں تو کون پہلے سلام کرے ؟  فرمایا:  ’’ جواُ ن میں اللّٰہ تعالٰی کے زیادہ قریب ہو۔ ‘‘ (جامع الترمذی ، کتاب الاستئذان ، باب فضل الذی یبدء بالسلام،الحدیث۲۸۰۳،ج۴،ص۳۱۸)

٭حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُ  اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  اے بیٹے !  جب تم اپنے گھرمیں داخل ہوتوسلام کہو ،  یہ تمہارے لئے اور تمہارے گھر والوں کے لئے برکت کا با عث ہوگا ۔ ‘‘ (جامع الترمذی ، کتاب الاستئذان ، باب ماجاء فی التسلیم

Total Pages: 194

Go To