Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

انہیں مدنی قافلے کی اہمیت بتا کر مدنی قافلے میں سفر کرنے کیلئے تیار کریں ۔

(8)    شرکائے قافلہ میں سے ہر اسلامی بھائی کو اخلاص کے ساتھ کوشش کرنی چاہئے کہ  ’’ ہمیں یہاں سے زیادہ سے زیادہ مدنی قافلے سفر کروانے ہیں ۔ ‘‘ اس سلسلے میں درس وبیان میں بھی ترغیب دلائیں اور اس کے بعد انفرادی کوشش کے ذریعے بھی ۔

(9)    جب نئے اسلامی بھائی مسجد میں آ ئیں تو انفرادی کوشش کے ذریعے ان کے ذہن میں علمِ دین حاصل کرنے اور سنّتیں سیکھنے کی اہمیت اجاگر کرکے انہیں مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار کریں ۔اس کے ساتھ ساتھ انہیں  ’’ راہ خدا      عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرنے کے فضائل و برکات ‘‘  اور ’’ دعوت اسلامی کی مدنی بہاریں  ‘‘ سناکر بھی ترغیب دلائیں ۔اوراگر کسی پرانے اسلامی بھائی سے ملاقات ہو تو انہیں مدنی قافلے کی قدرو قیمت کا احساس دلاکر مدنی قافلے میں سفر کی ترغیب دیجئے۔ نیزان کا یہ بھی ذہن بنائیے کہ یوں تو ہر سُنّی دعوتِ اسلامی والا ہے لیکن ہمیں حقیقی معنوں میں  ’’  دعوتِ اسلامی  ‘‘ والابننے کے لئے کم از کم پانچ مدنی انعامات کا عامل بننا ہے:

(۱ہر ماہ پابندی سے ۳دن مدنی قافلے میں سفر کرنا ہے۔

 (۲)  ہفتہ وار اجتماع میں اول تا آخر شرکت کرنی ہے۔

 (۳)  ہر ہفتے عَلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں اول تاآخرشریک ہونا ہے ۔

 (۴) روزانہ فکر مدینہ کرتے ہوئے مدنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مدنی ماہ

کی دس تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمہ دار کو جمع کرانا ہے۔

 (۵) روزانہ کم ازکم دوگھنٹے دعوت اسلامی کے مدنی کاموں میں صرف کرنے ہیں ۔

(10)    جب بھی کسی پر مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار کرنے کی غرض سے انفرادی کوشش فرمائیں تووقت کی مناسبت سے ماقبل بیان کردہ چیزوں کے ساتھ ساتھ راہِ خدا      میں پیش کی گئی اسلاف (بزرگانِ دین)رَحِمَھُمُ اللّٰہُ تعالٰیکی قربانی کے  واقعات بھی سنائیں پھر راہ خدا      میں سفر سے روکنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کا طریقہ بھی بتائیں ۔اس کے بعد مذکورہ اسلامی بھائی کو مدنی قافلے میں سفر کے اُخروی فضائل کے ساتھ ساتھ دُنیاوِی برکات کے بارے میں بھی بتائیے۔

(11)  یاد رکھئے کہ مدنی قافلہ تیار کرنے کے لئے انفرادی کوشش، اجتماعی بیان سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے اور انفرادی کوشش میں ذاتی کردار کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے، لہٰذا !  اگر ہم باعمل ہوں گے تو ہم سے ملاقات کرنے والے دعوتِ اسلامی سے متاثر ہونگے،لیکن اگر ہمارے قول وفعل میں تضاد ہوگا تو ہم سے وابستہ رہنے والے اسلامی بھائیوں کے بدظن ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے ۔

(12)    جو اسلامی بھائی مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار ہوچکے ہوں ،  ان کی خیرخواہی کی ترکیب بنائی جائے مثلاًنمکو ،   بسکٹ یافروٹ پیش کیجئے کہ اس سے ان کے دل میں مدنی ماحول کی محبت میں اضافہ ہوگا اور شیطان کوانہیں مدنی قافلے میں سفر سے روکنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ 

(13)  کسی اسلامی بھائی کو مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار کر لینے ہی پر اکتفا نہ کریں بلکہ قافلے میں سفر کے بعد بھی اسے مستقل طور پر مدنی ماحول میں لانے کے لئے انفرادی کوشش جاری رکھئے ۔

٭٭٭٭٭٭

(6) امیرِ قافلہ کو کیسا ہونا چاہئے

          پیارے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کا مدنی کام دن بدن وسیع اور مضبوط تر ہوتاجارہا ہے ۔ابتداء کے تجرباتی مراحل سے گزرنے کے بعد اب ہرکام کی باقاعدہ  ترکیب بن چکی ہے اور یہ بات اب روزِ روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ اگر ہم پوری  دنیا میں دعوت ِ اسلامی کا مدنی کام کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مدنی مقصد (مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے) میں کامل کامیابی کی تمنا رکھتے ہیں تو ہمیں اپنے مدنی قافلوں کو مضبوط بنانا ہوگا ۔

            اس کے لئے ہمیں ہر اسلامی بھائی کو راہِ خدا  کا مسافر بنانے کے لئے مسلسل کوشش کرنا ہوگی تاکہ ہر مسلمان سنتوں کا عامل  اور تبلیغ قرآن و سنت کا مخلصمُبَلِّغبن کر دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے والا بن جائے۔  اس کے علاوہ ہمیں خود بھی مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا مستقل معمول بنا نا ہوگا۔

            ان مدنی قافلوں کی کامیابی اور ترقی کا راز اس میں پوشیدہ ہے کہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے والے اسلامی بھائیوں کو اتنی بہترین تربیت دی جائے کہ وہ ایک مرتبہ سفر کرنے کے بعد نہ صرف خود باربار مدنی قافلوں کے مسافر بنیں بلکہ دوسرے اسلامی بھائیوں کو مدنی قافلوں میں سفر کروانے والے بن جائیں ۔مدنی قافلے میں بہترین تربیت دینے میں آسانی کے لئے ہمارے مدنی مرکز نے  ’’ جدول  ‘‘ کی صورت میں ہمیں ایک رہنماعطا فرمادیا ہے ۔

            اب اس جدول پر کماحقہ عمل کروانے کے لئے ایسامضبوط امیرِقافلہ درکار ہے جو بااخلاق،اسلامی بھائیوں کا خیرخواہ،ان کی نفسیات کو سمجھنے والا، باحکمت، تجربہ کاراور مدنی ذہن رکھنے والا ہو۔ کیونکہ اگر امیرِ قافلہ کمزور ہوگا تو قافلے میں انتشار،جدول پر عدمِ عمل،آپس میں اُلجھنے ،  ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنے اور قافلہ ٹوٹنے جیسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی بنا پر قافلہ اپنے مقاصد میں ناکام ہوسکتا ہے۔

            الغرض مدنی قافلوں کی کامیابی کے لئیامیرِقافلہ کا مضبوط ہونا بے حد ضروری ہے۔

 



Total Pages: 194

Go To