Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

’’ اچھے اخلاق ‘‘ گناہ مٹا دیتے ہیں

          حضور نبی ٔ پاک   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  بے شک اچھے اخلاق گناہ کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جس طرح سورج برف کو پگھلا دیتا ہے۔ ‘‘  (شعب الایمان للبیھقی،ج۶،ص۲۴۷،حدیث:۸۰۳۶)

حُسنِ اَخلاق کسے کہتے ہیں ؟

          اُم المؤمنینحضرت سَیِّدَتُنا  عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ کیا میں تمہیں دنیا و آخرت کے عمدہ اخلاق کے بارے میں نہ بتاؤں !  وہ یہ کہ جو تم سے قَطْع تعلق کرے تم اس سے جوڑو ،  جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اس سے درگزر کرو۔ ‘‘    (شعب الایمان للبیھقی،ج۶،ص۲۶۱،حدیث:۸۰۸۰)

 تشریف آوری کا مقصد

          پیارے اسلامی بھائیو!  ہمارے پیارے آقاصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کے اخلاق و معاملات کو درست کریں ، ان کے اندر سے بُرے اخلاق کی جڑیں اکھاڑیں اور ان کی جگہ بہتر اَخلاق  پیداکریں چنانچہ حضورنبی ٔپاک، صاحب ِ لَولاک، سَیّاحِ اَفلاک   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے: ’’ مجھے اچھے اَخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجاگیا ہے ۔ ‘‘     (السنن الکبری للبیھقی،ج۱۰،ص۳۲۳حدیث: ۲۰۷۸۲)

          جو لوگ ہر وقت گال پھلائے،منہ لٹکائے اور پیشانی پر بل ڈالے ہوئے تیوری چڑھائے ہوئے ہر آدَمی سے بد اخلاقی کے ساتھ پیش آتے ہیں وہ بہت ہی بُری خصلت کے حامل ہوتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادتوں اور خوش نصیبیوں سے محروم ہیں جبکہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور مسکراتیہوئے لوگوں سے ملنا جلنا بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی اور ثواب کا کام ہے۔

             بداَخلاقی میں کراہیت ہی کراہیت اور خوش اَخلاقی میں حسن ہی حسن ہے لہٰذا ہر اسلامی بھائی کو چاہئے کہ اپنے گھر والوں ، رشتہ داروں اور پڑوسیوںبلکہ ہر ملنے جلنے والے کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے۔

گھروں میں مدنی ماحول نہ ہونے کی ایک وجہ

            افسوس!  آج کل ہم میں سے اکثر کے گھروں میں   مدَ نی ماحول بالکل نہیں ہے اس میں کافی حد تک ہمارا اپنا بھی قصور ہے،گھر والوں کے ساتھ ہماری بے انتہا بے تکلّفی، ہنسی مذاق ،  تو تڑاق اور بد اَخلاقی اور حد درَجہ بے تو جُّہی وغیرہ اسکے اسباب ہیں ،  عام لوگوں کے ساتھ تو ہم انتِہائی عاجِزی اور مسکینی سے پیش آتے ہیں مگر گھر میں شیرببر کی طرح دَہاڑتے ہیں ، اس طرح گھر والوں میں وقار قائم ہوتا ہی نہیں اور وہ بے چارے اصلاح سے اکثر محروم رہ جاتے ہیں ، اگر ہم نے اپنے اَخلاق نہ سنوارے، گھر والوں کے ساتھ عاجِزی اور خندہ پیشانی کا مُظاہَرہ کر کے ان کی اصلاح کی کوشش نہ فرمائی تو کہیں جہنم میں نہ جا پڑیں !

                                                                                                 اللہ   عَزَّوَجَلَّ پارہ 28  سُورۃُ التَّحْرِیْمکی آیت 6 میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ     (پ۲۸،التحریم:۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!  اپنی جانوں اوراپنے گھر والوں کو اُس آگ سے  بچاؤ  جس کے ایندھن آدَمی اورپتھر ہیں ۔

اہلِ خانہ کو دوزخ سے کیسے بچائیں !

            اس آیت کے تَحت خزائن العرفانمیں صدر الافاضل سید محمدنعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:  ’’ اللّٰہ تعالیٰ اوراس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی  فرمانبرداری اختِیار کر کے ،  عبادتیں بجا لا کر، گناہوں سے باز رَہ کر گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور بدی سے مُمانَعت کر کے اورانہیں علم وادب سکھا کر۔ ‘‘ (اپنی جانوں اوراپنے گھر والوں کو جہنَّم کی آگ سے بچاؤ )والدین ودیگر ذَوِی الْاَرْحام(یعنی جن کے ساتھ خونی رشتہ ہودرَجہ بدَر جہ )     مُعاشَرہ میں سب سے زیادہ احترام  وحسنِ سلوک کے حقدار ہوتے ہیں مگر افسوس کہ اس کی طرف اب دھیان کم دیا جاتا ہے ۔بعض لوگ عوام کے سامنے اگرچِہ انتہائی مُنْکَسِرُالمِزاجوملنسار گردانے جاتے ہیں مگر اپنے گھر میں بالخصوص وا  لدَین کے حق میں نہایت ہی تُند مزاج وبداَخلاق ہوتے ہیں ایسوں کو چاہیے کہ اس حدیث مبارکہ کو پیش نظر رکھیں :

جنت و دوزخ

            چنانچہ حضرت سیدنا ابو اُمامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی:     یارسولَ  اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !  والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟ فرمایا کہ ’’  وہ دونوں تیری جنت و دوزخ ہیں ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،

Total Pages: 194

Go To