Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ہیں ،  داڑھی مبارک بھی سجالی اور مدنی انعامات کا رسالہ بھی پُر کرتے ہیں ۔

مدنی انعامات کے عامل پہ ہر دم ہر گھڑی

یاالٰہی!  خوب برسا رحمتوں کی تو جھڑی

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب              صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

             بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں  اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔

             تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطفی جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت،  نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے:  ’’ جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ‘‘  ( تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک ،  ج۹ ،  ص۳۴۳ )

            لہٰذا پانی پینے کے12مدنی پھول قبول فرمائیے،(اس کتاب کے صفحہ نمبر 630سے بیان کریں )

٭٭٭٭٭٭

بیان نمبر11:

حُسنِ اَخلاق

          شیخِ طرِیقت، امیرِ اہلسنَّت، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلالمحمد الیاس عطار قادری رضوی  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالہ  ’’ ناچاقیوں کا علاج ‘‘  میں دُرُود شریف کے متعلق حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالتَّسْلِیْمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’   اللہ    عَزَّوَجَلَّکی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مُصَافَحَہکریں اور نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو اُن کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔  ‘‘  (مسند ابی یعلٰی،مسند انس بن مالک،الحدیث:۲۹۵۱،ج۳،ص۹۵)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

              حضرت سیّدنا ابو عثمان حِیر ِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّ کو ایک دعوت میں بلایا گیا تاکہ ان کے اخلاق کی آزمائش کی جائے چنانچہ جب وہ تشریف لائے تو میزبان نے اندر نہ جانے دیا اور کہا کہ کھانا ختم ہوچکا ہے، یہ سن کر آپ واپس ہوگئے،ابھی آپ نے تھوڑا ہی راستہ طے کیا تھا کہ میزبان پیچھے پہنچا اور آپ کو واپس لے آیا لیکن پھر لوٹا دیا،اسی طرح کئی بار آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بلایا اور پھر لوٹا دیا۔آخر کار میزبان آپ سے مُتَاَثِّر ہو ہی گیا اور تعریفی کلمات اس کی زبان پر جاری ہوگئے: ’’ واقعی آپ تو ایک عظیم جواں مرد ہیں ، آپ کے اخلاق نہایت ہی بلند ہیں اور آپ تو صبر کے پہاڑ ہیں۔ ‘‘ آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس شخص سے انکساراً فرمایا: ’’ یہ جو کچھ تم نے دیکھا یہ تو کتے کی عادت ہے کہ جب اسے بلاتے ہیں تو وہ آجاتا ہے اور جب دھتکارتے ہیں تو واپس ہوجاتا ہے،پس یہ کوئی قابل ِقدر بات تو نہیں ۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین،ج۳،ص۸۷)

          پیارے اسلامی بھائیو!   اللہ    عَزَّوَجَلَّکے ولیوں کے اخلاقِ کریمہ اور ان کی عاجزی کی ایک جھلک آپ نے ملاحظہ فرمائی! آج کوئی ہمارے ساتھ یہ سلوک کرکے تو دکھائے؟ ہمارا تو غصّے کے مارے بُرا حال ہوجائے اور اس طرح سے ہماری بے عزتی کرنے والے کے ہم تو جانی دشمن ہوجائیں مگر ولی تو پھر ولی ہوتا ہے، اتنا ہو چکنے کے بعد بھی عاجزی کا حال یہ ہے کہ اپنے اس عظیم اخلاقی کارنامے کو ایک کتے کے فعل سے تشبیہ دے کر شیطان کے ایک بہت ہی خطرناک وار کو ناکام کردیاکیونکہ اگر کوئی ہماری تعریف کرے اور ہم پھول جائیں تویہ بھی شیطان کی کامیابی ہے۔ اللہ    عَزَّوَجَلَّہمیں شیطان لعین کے شر سے بچائے اور حسن اخلاق کی دولت عطا فرمائے! آمین۔

آقا کا پسندیدہ

          ہر ایک کے ساتھ خوش روئی اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا چاہیے، یہ وہ صفت ہے جس کے بارے میں حضورِ اَکرم، نورِ مجسم، سَرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بلاشبہ تم سب مسلمانوں میں سب سے زیادہ مجھے وہ شخص محبوب ہے جس کے اَخلاق اچھے ہوں ۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب المناقب، باب صفۃ النبیصلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہ والہٖ وسلَّم،الحدیث:۳۵۵۹،ج۲،ص۴۸۹)

بہترین چیز

        اسی طرح ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی:  یارَسولَ اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! سب سے بہترین چیز جو اللہ   عَزَّوَجَلَّ نے انسان کو عطا فرمائی ہے وہ کیا چیز ہے؟ تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’  اچھے

اخلاق۔ ‘‘ (شعب الایمان للبیہقی،ج۲،ص۲۰۰، حدیث: ۱۵۲۹)

سب سے زیادہ وزن دار نیکی

        حضورِ اَکرم، نورِ مجسمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن مومن کے میزانِ عمل میں سب سے زیادہ وزن دار نیکی اچھے اخلاق ہوں گے۔ ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء فی حسن الخلق، الحدیث:۲۰۱۰،ج۳،ص۴۰۴)

 



Total Pages: 194

Go To