Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

دو نعمتیں

            سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ارشادِ

مبارک ہے: ’’  دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں      َبہُت سے لوگ دھوکے میں ہیں ،  ایک صحّت اور دوسری فراغت۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب ماجاء فی الرقاق۔۔۔الخ،الحدیث:۶۴۱۲،ج۴،ص۲۲۲)

             واقِعی صحت کی قَدر بیمار ہی کر سکتا ہے اور وقت کی قَدر وہ لوگ جانتے

ہیں جوبے حد مصروف ہوتے ہیں ورنہ جو لوگ  ’’  فُرصتی ‘‘ ہوتے ہیں ان کو کیا معلوم کہ وقت کی کیا اہمیت ہے!  وقت کی قدر پیدا کیجئے اور فُضول باتوں ،  فُضول کاموں ،  فُضول دوستیوں سے گریز کرنے کا ذِہن بنائیے ۔

حُسنِ اسلام

       ترمذی شریف میں ہے:       سرکارِ دو عالم ،  نُورِ مُجَسَّم ،  شاہِ بنی آدم ،  رسولِ مُحْتَشَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ معظَّم ہے :  ’’ انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی اس امر کو چھوڑ دینا ہے جو اسے نفع نہ دے ۔ ‘‘  (سنن الترمذی،کتاب الزہد،باب:۱۱،الحدیث:۲۳۲۴،۲۳۲۵،ج۴،ص۱۴۲)

انمول لمحات کی قدر

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  زندگی کا ہر سانس انمول ہیرا ہے ،  کاش!  ایک ایک سانس کی قدر نصیب ہو جائے کہ کہیں کوئی سانس بے فائدہ نہ گزر جائے اور کل بروزِ قیامت زندگی کا خزانہ نیکیوں سے خالی پاکر اشکِ ندامت نہ بہانے پڑ جائیں !  صد کروڑ کاش !  ایک ایک لمحے کا حساب کرنے کی عادت پڑ جائے کہ کہاں بسر ہو رہا ہے، زہے مقدر!  زندگی کی ہر ہر ساعت مفید کاموں ہی میں صَرف ہو بَروزِ قِیامت اوقات کو فُضول باتو ں ،  خوش گپّیوں میں گزرا ہوا پا کر کہیں کفِ افسوس ملتے نہ رہ جائیں ۔

            اگر ہم چاہیں تو اس دنیا میں رہتے ہوئے صِرف ایک سیکنڈ میں جنَّت کے اندر ایک درخت لگوا سکتے ہیں اور جنت میں درخت لگوانے کا طریقہ بھی نہایت ہی آسان ہے چنانچہ   ’’ ابن ما    جہ شریف  ‘‘  کی ایک حدیثِ پاک کے مطابِق ان چاروں کَلِمَات میں سے جو بھی کَلِمَہ کہیں جنت میں ایک درخت لگا دیا جائے گا: (1سُبْحٰنَ اللّٰہِ (2) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ (3لَآاِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ (4اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔  (سنن ابن ماجہ،کتاب الادب،باب فضل التسبیح،الحدیث:۳۸۰۷،ج۴،ص۲۵۲)

وقت کے قَدْر دانوں کے ارشادات و مَنقولات

 {1}  امیر المومنین حضرتِ  مولائے کائنات عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : یہ ’’  ایّام  ‘‘   تمہاری زندگی کے صَفْحات ہیں ان کو   اچھے اَعمال سے زِینت بخشو ۔

 {2}  حضرتِ  سیِّدُنا عبد اللّٰہ ابن ِمسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : میں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے اس دن کے مقابلے میں کسی چیز پر نادِم نہیں ہوتا جو دن میرا نیک اعمال میں اضافے سے خالی ہو ۔

 {3}  حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : روزانہ تمہاری عمر مسلسل کم ہوتی جارہی ہے تو پھر نیکیوں میں کیوں سستی کرتے ہو ؟  ایک مرتبہ کسی نے عرض کی: یا امیرَ المومنین!   ’’  یہ کام آپ کل پر مُؤخَّر کر دیجئے ارشاد فرمایا : میں روزانہ کا کام ایک دن میں بمشکل مکمل کرپاتا ہوں اگر آج کا کام بھی کل پرچھوڑ دوں گا تو پھر دو دن کا کام ایک دن میں کیونکر کر سکوں گا ؟

آج کا کام کل پر مت ڈالو                               کل دوسرا کام ہوگا

 {4} حضرت سیِّدُنا امام شافِعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں ایک مدت تک اَہْلُ اللّٰہ کی صحبت سے فیضیاب رہا ان کی صحبت سے مجھے دو اَہم باتیں سیکھنے کو ملیں : (۱)وقت تلوار کی طرح ہے تم اس کو ( نیک اعمال کے ذریعے) کاٹو ورنہ (فضولیات میں مشغول کرکے) یہ تم کو کاٹ دیگا (۲) اپنے نفس کی حفاظت کرو اگر تم نے اس کو اچھے کام میں مشغول نہ رکھا تو یہ تم کو کسی بُرے کام میں مشغول کر دیگا ۔

 {5}   آٹھویں صَدی کے مشہور شافِعی عالم سیِّدُنا شمس ا   ّلدین اَصبہانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَالِیکے بارے میں حافِظ ابن ِحجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْبَر فرماتے ہیں : کہاجاتاہے آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اس خوف سے کھانا کم تناول فرماتے تھے کہ زیادہ کھانے سے َبول و بَراز کی ضرورت بڑھے گی اور بار بار بیت الخلاء جاکر وقت صَرف ہوگا ۔ (الدررالکامنۃ للعسقلانی،ج۴،ص۳۲۷)

نظامُ الا وقات کی ترکیب بنا لیجئے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہو سکے تو اپنا یومیہ نظامُ الاوقات تر تیب دے لینا چاہئے اوّلاً عشاء کی نَماز پڑھ کر حتَّی الامکان دو گھنٹے کے اندر اندر سو جایئے ،   رات کو فُضول چوپال لگانا ،  ہوٹلوں کی رونق بڑھانا اور دوستوں کی مجلسوں میں وقت گنوانا ( جبکہ کوئی دینی مصلحت نہ ہو ) بہت بڑا نقصان ہے۔

            تفسیر روحُ البیان جلد4 صَفْحہ166 پر ہے: قومِ لوط کی تباہ کاریوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ چوراہوں پر بیٹھ کر لوگوں سے ٹھٹھا مسخری کرتے تھے ۔(تفسیرروح البیان، ہود، تحت الایۃ:۷۸، ج۴، ص۱۶۶)