Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی                    لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

                                                                                                 اللہ عَزَّوَجَلَّنے انسان کو ایک مقررہ وقت تک کیلئے خاص مقصد کے تحت اِس دنیا میں بھیجا ہے ۔

            چُنانچِہ پارہ 18 سورۃُالْمُؤْمِنُوْن آیت نمبر115 میں ارشاد ہوتا ہے:

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵) (پ۱۸،المؤمنون:۱۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔

       ’’  تفسیر خزائن العرفان ‘‘  میں اس آیتِ مقدّسہ کے تحت لکھا ہے : اور (کیا تمہیں ) آخِرت میں جزا کیلئے اٹھنا نہیں ،  بلکہ تمہیں عبادت کیلئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ  تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔

زندگی کا وقت تھوڑا ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  مذکورہ آیت کے علاوہ بھی قرآنِ پاک میں دیگر مقامات پر تخلیقِ انسانی یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیاگیا ہے انسان کو اس دنیا میں بَہُت مختصر سے وقت کیلئے رہنا ہے اوراس وَقفے میں اسے قبر و حشر کے طویل ترین معاملات کیلئے تیاری کرنی ہے لہٰذا انسان کا وقت بے حد قیمتی ہے ،  وقت ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح فَرّاٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رُکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے، جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا،چنانچِہ

سانس کی مالا

              حضرت سیِّدُنا حسن بصری   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّ فرماتے ہیں : جلدی کرو!  جلدی کرو !  تمہاری زندگی کیا ہے؟  یہی سانس تو ہیں کہ اگر رُک جائیں توتمہارےان اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے جن سے تم  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا قُرب حاصل کرتے ہو ،   اللہ عَزَّوَجَلَّاس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنا جائزہ لیا اور اپنے گناہوں پر چند آنسو بہائے، یہ کہنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ(۸۴) (پ۱۶،مریم:۸۴ )

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔

            حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیْ فرماتے ہیں : یہاں گنتی سے سانسوں کی گنتی مُراد ہے ۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت و ما بعدہ، بیان المبادرۃ الی العمل۔۔۔الخ،ج۵، ص۲۰۵)

یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے

اے دل کیوں مگر اب بھی بیدار نہیں ہوتا

(وسائل بخشش،ص۱۳۱)    

 ’’ دن ‘‘  کا اعلان

            حضرتِ  سیِّدُنا امامبَیْہَقِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّ ’’  شُعَبُ الْاِیْمان ‘‘  میں نقل کرتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’  روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اُس وقت  ’’  دن  ‘‘  یہ اعلان کرتا ہے اگر آج کوئی اچّھا کام کرنا ہے تو کر لو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤ ں گا ۔ ‘‘      (شعب الایمان للبیہقی، باب فی الصیام، الحدیث:۳۸۴۰،ج۳،ص۳۸۶)

جناب یا مرحوم !  

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  زندگی کاجو دن نصیب ہو گیا اسی کو غنیمت جان کر جتنا ہو سکے اس میں اچھے اچھے کا م کرلئے جا ئیں تو بہتر ہے کہ  ’’  کل  ‘‘  نہ جانے ہمیں لوگ  ’’ جناب  ‘‘  کہہ کے پکارتے ہیں یا  ’’  مرحوم  ‘‘  کہہ کر ،  ہمیں اس بات کا احساس ہو یا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی موت کی منزل کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ رواں دواں ہیں چُنانچِہ پارہ 30 سورۂ اِنْشِقَاق کی آیت نمبر6 میں ارشاد ہوتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ(۶) (پ۳۰،الانشقاق:۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اے آدمی !  بیشک تجھے اپنے رب کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پانچ کو پانچ سے پہلے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یقینا زندگی بے حد مختصر ہے ،  جو وقت مل گیا سو مل گیا، آئندہ وقت ملنے کی اُ مید دھوکہ ہے کیا معلوم آئندہ لمحے ہم موت سے ہم آغوش ہو چکے ہوں ،  رحمتِ عالم ،  نورِ مجسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:

 (1) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (2)صحت کو بیماری سے پہلے (3) مالداری کوتنگدستی سے پہلے (4) فرصت کو مشغولیت سے پہلے اور (5) زندگی کوموت سے پہلے ۔ ( المستدرک للحاکم ، کتاب الرقاق،باب نعمتان مغبون۔۔۔الخ،الحدیث:۷۹۱۶، ج۵، ص۴۳۵)

 



Total Pages: 194

Go To