Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

       چنانچہ شہر قُصور (پنجاب،پاکستان) کے ایک نوجوان اسلامی بھائی کی تحریر بِالـتَّصرُّفپیش کرتا ہوں :میں ان دنوں میٹرک کا طا لب علم تھا، بری صحبت کے باعِث گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا ،  مزاج بے حد غصیلا تھا اور بد تمیزی کی نوبت اِس حد تک پہنچ چکی تھی کہ والد کجا دادا اور دادی کے سامنے بھی قینچی کی طرح زبان چلاتا تھا ۔ایک روز تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا ایک مدنی قافلہ ہمارے محلّے کی مسجد میں حاضر ہوا، خدا (عَزَّوَجَلَّ)کا کرنا ایسا ہوا کہ میں عاشِقانِ رسول سے ملاقات کیلئے پَہنچ گیا ،  ایک با عمامہ اسلامی بھائی نے اِنفِرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے درس میں شرکت کی دعوت پیش کی ،  میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا ،  انہوں نے درس کے بعد مجھے بتایا کہ چند ہی روز بعد مَدِیْنَۃُ الْاَوْلیاءملتان شریف میں دعوتِ اسلامی کا تین روزہ بینَ الاقوامی سنّتوں بھرا      اِجْتِمَاع ہو رہا ہے آپ بھی شرکت کر لیجئے۔ان کے درس نے مجھ پر بہت اچھا اثر کیا تھا لہٰذا میں انکار نہ کر سکا ،  یہاں تک کہ میں اِجْتِمَاع ( ملتان) میں حاضِر ہو گیا ،  وہاں کی رونَقیں اور برَکتیں دیکھ کر میں حیران رہ گیا ،  وہاں ہونے والے آخِری بیان  ’’ گانے باجے کی ہو لناکیاں  ‘‘  سن کر تھرّا اُٹھا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ،  میں گناہوں سے توبہ کر کے اٹھا اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ،  میری مدنی ماحول سے وابَستگی سے ہمارے گھر والوں نے اطمینان کا سانس لیا، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برَکت سے مجھ جیسے بگڑے ہوئے بد اخلاق نوجوان میں مدنی انقلاب کی وجہ سے مُتأثر ہو کر میرے بڑے بھائی نے بھی داڑھی رکھنے کے ساتھ ساتھ عمامہ شریف کا تاج بھی سجا لیا ،  میری ایک ہی بہن ہے۔اُس نے بھی مدنی برقع پہن لیا ،  گھر کا ہر فرد سلسلۂ  عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو کر سرکارِ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کا مرید ہو گیا ۔ اور مجھ پر  اللہ       عَزَّوَجَلَّنے ایسا کرم فرمایا کہ میں نے قرآنِ پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرلی اور درسِ نظامی (عالم کورس) میں داخلہ لے لیا اور یہ بیان دیتے وقت درجۂ ثالثہ یعنی تیسری کلاس میں پہنچ چکا ہوں ۔

             اَلْحَمْدُ للّٰـہ عزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے تعلُّق سے عَلاقائی قافلہ ذمّہ دار ہوں ،  میری نیّت ہے کہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ شَعبان المُعَظّم  ۱۴۲۷ ھ سے یکمشت 12 ماہ کیلئے مدنی قافِلے میں سفر کروں گا۔

دل پہ گر زَنگ ہو، سارا گھر تنگ ہو                 ہوگا سب کا بھلا قافلے میں چلو

ایسا فیضان ہو، حِفظ قرآن ہو                         کر کے ہمّت ذرا قافلے میں چلو

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

           بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔  مصطفی جانِ رحمت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے:  ’’ جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّتکی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔  ( تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک ،  ج۹،  ص۳۴۳ )

            لہٰذا گھر میں آنے جانے کے 12مدنی پھول قبول فرمائیے،(اس کتاب کے صفحہ نمبر 565سے بیان کریں )

بیان نمبر10:

مقصدِ حیات

        شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء     دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’  قضا نمازوں کا طریقہ            ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ دو جہاں کے سلطان ،  سرورِ ذیشان صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ مغفرت نشان ہے :  ’’ مجھ پر دُرودِ پاک پڑھنا پل صراط پر نور ہے جو روزِ جمعہ مجھ پر اَسّی بار دُرودِ پاک پڑھے اُس کے اَسّی سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ ‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی،حرف الصاد،الحدیث:۵۱۹۱،ص۳۲۰)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

        دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہکی مطبوعہ586 صفحات پر مشتمل  کتاب  ’’  بیاناتِ عطاریہ حصہ 3 ‘‘ کے صَفْحَہ 13 پر امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ایک حکایت نقل فرماتے ہیں ۔

          کہتے ہیں ایک بادشاہ اپنے مُصاحِبوں کے ساتھ کسی باغ کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اس نے دیکھا باغ میں سے کوئی شخص سنگریزے (یعنی چھوٹے چھوٹے پتھر ) پھینک رہا ہے ،  ایک سنگریزہ خود اس کو بھی آکر لگا ،  اس نے خُدّام کو دوڑایا کہ جا کر سنگریزے پھینکنے والے کو پکڑکر میرے پاس حاضِر کرو!  چُنانچِہ خُدّام نے ایک گنوار کو حاضر کر دیا ،  بادشاہ نے کہا : یہ سنگریزے تم نے کہاں سے حاصل کئے ؟  اس نے ڈرتے ڈرتے کہا : میں ویرانے میں سیر کر رہا تھا کہ میری نظر ان خوبصورت سنگریزوں پر پڑی، میں نے ان کو جھولی میں بھر لیا ،  اس کے بعد پِھرتا  پِھراتا اس باغ میں آنکلا اور پھل توڑنے کے لئے یہ سنگریزے استعمال کر لئے، بادشاہ نے کہا : تم ان سنگریزوں کی قیمت جانتے ہو ؟  اس نے عرض کی : نہیں !  بادشاہ بولا : یہ پتھّر کے ٹکڑے دراصل انمول ہیرے تھے جنہیں تم نادانی کے سبب ضائِع کر چکے ،  اس پر وہ شخص افسوس کرنے لگا مگر اب اس کا افسوس کرنا بے کار تھا کہ وہ انمول ہیرے اس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔

زندگی کے لمحات انمول ہیرے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  اسی طرح ہماری زندگی کے لمحات بھی انمول ہیرے ہیں اگر ان کو ہم نیـ بے کار ضائع کردیا تو حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئیگا۔

 



Total Pages: 194

Go To