Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

مبارکباد دیتے ہوئے اس سے معانقہ بھی کریں (امرد کے ساتھ معانقہ کرنا محلِّ فتنہ ہے اس سے اجتناب ضروری ہے)، پھر اسے شکرانے کے طور پر مدنی قافلے میں سفر کی ترغیب دیجئے۔ہاں !  اگر آپ خود پریشان ہوں تو اسے یہ محسوس بھی نہ ہونے دیں کہ آپ پریشان ہیں ۔

(12)    جس سے ملاقات کریں ،  تحفہ پیش کریں (جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو )کیونکہ حدیث پاک میں ہے ،  ’’ باہم تحفہ دو محبت بڑھے گی۔ ‘‘ (الموطا للامام مالک، کتاب حسن الخلق، باب ماجاء فی المہاجرۃ، الحدیث:۱۷۳۱،ج۲، ص ۴۰۷)

(13)     مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار ہوجانے والے اسلامی بھائی سے سفر کا  سامان روانگی کی تاریخ سے دودن پہلے لے لیں ۔

 (14)     اگر کسی کو اجازت کا مسئلہ درپیش ہو تو گھر پر جاکر اجازت طلب کریں ۔

 (15)     جب ذمہ داروں کا مدنی مشورہ ہو توذمہ داروں سے مدنی قافلے کے سفر کی تاریخیں لے لیں ۔

 (16)    مدنی قافلہ روانہ کرنے سے پہلے امیرِ قافلہ ضرور تیار کریں ۔

(17)   جب کوئی مدنی قافلہ سفر پر روانہ ہو تو اس کی خوب تشہیر کی جائے ۔ ہر اسلامی بھائی بطورِ ترغیب دوسروں کو بتائے کہ ’’  اَلحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَل ! میں فلاں دن قافلے میں جارہا ہوں ۔‘‘

(18)   تمام ذیلی حلقوں میں ذمہ دار قافلہ کے ذریعے ہفتہ بھر تمام درسوں اور بیانات میں اعلانِ قافلہ ہونا چاہئے ،  نیز ہر مسجد کی سطح پر ہفتہ میں کم از کم ایک دن پورا بیان صرف قافلہ کے موضوع پر ہو۔

(19)   ہفتہ وار علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کی مضبوط ترکیب بنائی جائے اوراس سے مدنی قافلہ تیا رکیا جائے۔

(20)    قافلے میں سفر سے متعلقہ اہداف کو تمام اسلامی بھائی آپس میں تقسیم کرلیں ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہدف سے زیادہ قافلے تیا ر ہوجائیں گے۔

(21)    ہر اسلامی بھائی کو دُھن ہونی چاہئے کہ ’’  مجھے مدنی قافلے تیار کرنے ہیں ۔ ‘‘

٭٭٭٭٭

 (5) قافلہ سے قا فلے کیسے سفر کروائیں ؟

 (1)   مدنی قافلے کی کامیابی کا انحصارتین باتوں پر ہے:

(۱)        جہاں پرمدنی قافلہ جائے وہاں سے دوسرا مدنی قافلہ سفر بھی کروائے۔

(۲)مدنی قافلے میں سفر کرنے والوں میں سے ہر ایک کا ذہن یہ بن جائے کہ

 مجھے کم از کم ہر ماہ تین دن مدنی قافلے میں سفر کرنا ہے ۔

(۳) مدنی قافلے والے جب واپس علاقے میں جائیں تو وہاں بھی مدنی کام کی دھوم مچ جائے۔

(2)    ’’ دعوت اسلامی ‘‘  کے کام کی جان ’’  مدنی قافلہ  ‘‘ اور مدنی قافلے کی جان  ’’ ملاقات یعنی انفرادی کوشش ‘‘  اور انفرادی کوشش کی جان ’’  خوش اخلاقی ‘‘  کو ہر وقت پیش نظر رکھا جائے۔

(3)    تین دن کے مدنی قافلے میں پہلے دن مختلف اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش کر کے انہیں مدنی قافلے کا مسافر بننے کی بھرپور ترغیب دلائی جائے اور نیت کروانے کے بعد ان کے نام بھی لکھ لئے جائیں ۔پھر دوسرے دن گھر وں پر ملاقات کرکے اسلامی بھائیوں کو مدنی قافلے میں سفر کے لئے ترغیب دی جائے۔ اسی دوران مدنی قافلے کے شرکاء میں سے کوئی مبلغ ذہنی طور پر تیار رہے پھرجیسے ہی دوسرے مدنی قافلے کی ترکیب بنے وہ اس قافلے کو لے کر وہاں سے روانہ  ہوجائے اور اگر مبلغ کی ترکیب نہ بن پائے تو نئے تیار ہونے والے اسلامی بھائیوں کو ہاتھوں ہاتھ مدنی تربیت گاہ میں پیش کر دیجئے۔

(4)    پہلے دن سرکار دوعالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سُنّتوں کے موضوع پر بیان کیا جائے تاکہ لوگوں کے ذہنو ں میں سُنّتوں کی اہمیت بیٹھ جائے۔ دوسرے دن حُسنِ اخلاق پر بیان ہو اور تیسرے دن خوف الٰہی  اور عشقِ رسول پر بیان ہو۔

            حُسنِ اخلاق کے بیان سے شوق بیدار ہوگا ،  خوف الٰہی عَزَّوَجَل سے دل نرم ہونگے، عشقِ رسول کے بیان میں آنکھوں سے اشکوں کی برسات ہوگی تو راہ خدا میں سفر کروانے میں آسانی ہوگی۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ پہلے دن مدنی قافلوں کی نیت، راہِ خدا   میں سفر کی اہمیت اور نیت کے فضائل پر بیان ہو۔ دوسرے دن نام لکھوانے کی ترغیب دلائیں اور نام لکھے جائیں اور تیسرے دن بزرگانِ دین    رَحِمَہُمُ اللّٰہ تعالٰی کی دین کی خاطر قربانیاں بتا کر سفر کی ترغیب دلائیں اور ہاتھوں ہاتھ سفر کی ترکیب بنائیں ۔

(5)    جس مسجد میں مدنی قافلہ ٹھہرے ، قافلے میں شریک اسلامی بھائی اُس مسجد کے ذمہ دار سے مل کر وہاں کے نمازی حضرات یا دیگر اسلامی بھائیوں کی مصروفیات کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں ۔نیز علاقے کے اسلامی بھائیوں سے مدنی قافلہ سفر کروانے کے سلسلے میں بھر پور تعاون کی درخواست بھی کریں ۔

(6)    انفرادی کوشش کے حلقے(۲۱:۱۱تا۰۰:۱۲)میں دواسلامی بھائی مساجد کے ائمہ کرام ، علمائے دین اورمشائخ عظام کی بارگاہ میں حاضرہوں اوران سے مدنی کام اور مدنی قافلوں میں اضافے کے لئے دعا کی درخواست کریں اوراحسن اندازمیں مدنی قافلے میں سفرکی التجاکریں ۔

(7)    اگر مدنی قافلہ کسی گاؤں یا گوٹھ میں جائے تو انفرادی کوشش کے حلقے میں وہاں کے وڈیرے یا چودھری صاحب اورشہرمیں جائے توشخصیات کے گھروں وغیرہ پر جاکرنیکی کی دعوت دیں ۔اگر وہ قافلے میں سفر کے لئے تیار ہوگئے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہاں سے قافلہ خود ہی تیار ہوجائے گا۔ان شخصیات کو انتہائی محبت سے پہلے مسجد میں آنے کی دعوت دیں پھر



Total Pages: 194

Go To