Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

تمام طلبہ درس چھوڑ کر ہاتھی دیکھنے کے لیے دوڑ پڑے مگر امام یحییٰرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہسکون و اطمینان کے ساتھ اپنے سبق میں مشغول رہے ،   حضرت امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِقْ نے فرمایا : یحییٰ !  تمہارے ملک اُ نْدُ  لُسمیں ہاتھی نہیں ہوتا تم بھی جاکر دیکھ آؤ !  امام یحییٰ نے عرض کیا کہ حضرت میں اُ نْدُ  لُس سے آپ کو دیکھنے اور علم حاصل کرنے کے لیے یہاں آیا ہوں ہاتھی دیکھنے کے لیے میں نے اپنا وطن نہیں چھوڑا۔ (وفیات الاعیان،حرف الیاء،۷۹۲۔ابومحمد یحییٰ بن یحییٰ،ج۵،ص۱۱۷)

          پیارے اسلامی بھائیو!  آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ حضرت امام یحییٰ بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعالٰی عَلَیْہکو      طلبِ علمِ دِین کا کیسا زبردست جذبہ اور اس کی اہمیت کا کتنا احساس تھا۔  اللہ     عَزَّوَجَلَّان کے صدقے میں ہمیں بھی علمِ دین سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

جنَّت کے باغات

            حضرت ِ ابن عباسرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم اسے روایت ہے کہ نبی کریم رؤوفُ رَّحیم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ جب تم لوگ جنت کے باغات میں گزرو تو میوہ چنا کرو !  اس پر کسی نے کہا کہ جنت کے باغات کیا ہیں ؟  تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا  ’’  علم کی مجلسیں ۔ ‘‘ (المعجم الکبیرللطبرانی،مجاھد عن ابن عباس،الحدیث:۱۱۱۵۸،ج۱۱،ص۷۸)

بہتر ین عباد ت

            حضرت ِسیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی مکرّم ،  رسولِ محتشم ،  شاہِ بنی آدم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عظمت نشان ہے : اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ طَلَبُ الْعِلْم  بہترین عبادت علم کا حاصل کرنا ہے ۔ (فردوس الاخبار للدیلمی،  باب الالف،الحدیث:۱۴۲۹، ج۱،ص۲۰۷)

افضل صَدَ قَہ

            حضرت ِسیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شمار، دو عالَم کے مالک و مختار ،  حبیبِ پروردگار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’ سب سے افضل صدَقہ یہ ہے کہ مسلمان علم سیکھے پھر اپنے بھائی کو سکھائے ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب ثواب معلم الناس الخیر، الحدیث:۲۴۳،ج۱،ص۱۵۸)

وہ جنَّتی ہے

            حضرتِ  سیِّدنا ابو سعیدخُدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہنبی مکَرَّم،شفیعِ مُعَظَّم،رسولِ محتشم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’  جو اپنے دین کا علم سیکھنے کیلئے صبح یا شام کو چلا وہ جنّتی ہے ۔  ‘‘  (حلیۃ الاولیاء، مسعر بنکدام ،  الحدیث:۱۰۵۸۱،ج۷،ص۲۹۵)

گزشتہ گناہوں کا کفّارہ

      سرکارِ مدینہ ،  راحتِ قلب و سینہ ،  فیض گنجینہ ،  صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  جو شخص علم کی طلب کرتا ہے تو وہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہو جا تا ہے۔ ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب العلم،باب فضل طلب العلم،الحدیث:۲۶۵۷،ج۴،ص۲۹۵)

دو حریص

            حضرت ِسیدنا انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شمار، دو عالَم کے مالک و مختار حبیبِ پروردگار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’  دو حریص آسودہ نہیں ہوتے ایک علم کا حریص کہ علم سے کبھی اس کا پیٹ نہیں بھرے گا اور ایک دنیا کا لالچی کہ یہ کبھی آسودہ نہیں ہوگا۔ ‘‘

(شعب الایمان،باب في الزھدوقصرالامل،الحدیث:۱۰۲۷۹،ج۷،ص۲۷۱)

بروزِ مَحشر سب سے زیادہ حسرت

          بروزِ قیامت سب سے زیادہ حسرت اُس کو ہوگی جس کو دنیا میں ( دینی) علم حاصل کرنے کا موقع ملا مگر اُس نے حاصل نہ کیا اور اُس شَخص کو ہوگی جس نے علم حاصل کیا اور اِس سے سن کر دوسروں نے تو نفع اُٹھایا مگر خود اِس نے ( اپنے علم پر عمل کرتے ہوئے) نفع نہ اُٹھایا ۔  ( تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، حرف المیم، ذکرمن اسمہ محمد، محمد بن احمد بن محمد بن جعفر،ج۵۱، ص۱۳۷)

شہداء تمنا کریں گے

              حضرت ِسیدنا ابن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : علم کو لازم پکڑو!  اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللّٰہ عَزَّوَجلَّ کی راہ میں قتل کئے جانے والے شہداء جب علمائے کرام کی عزت اور مرتبہ دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش!   اللہ    عَزَّوَجَلَّانہیں اس حال میں اٹھاتا     کہ وہ عالم ہوتے اور بیشک کوئی شخص پیدائشی عالم نہیں ہوتا بلکہ علم تو سیکھنے سے آتا ہے ۔   (المتجرالرابح فی ثواب العمل الصالح، ابواب العلم،ثواب العلم والعلماء وفضلہم، فصل، ص۱۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ان روایات سے علم اور علماء کی قدر و منزلت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے لیے  اللہ عَزَّوَجَلَّکے کیسے کیسے انعامات و اکرامات ہیں پہلے کے دور میں ہمارے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام نے علمِ دین حاصل کرنے کے لئے بڑی سے



Total Pages: 194

Go To