Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

۸۰۸۴،ج۶،ص۲۶۱،۲۶۲ والاستیعاب،کتاب الکنی،باب الضاد،ج۴،ص۲۵۷ )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب              صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بلا حساب جنَّت میں داخلہ

            حضرتِ  سیِّدُنا انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورسرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: قِیامت کے روز اعلان کیا جائے گا: جس کا اَجر  اللہ عَزَّوَجَلَّکے ذِمّۂ کرم پر ہے، وہ اُٹھے اورجنَّت میں داخِل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا: کس کے لیے اَجر ہے؟  وہ مُنادی (یعنی اعلان کرنے والا )کہے گا:  ’’ ان لوگوں کے لیے جو مُعاف کرنے والے ہیں ۔ ‘‘  تو ہزاروں آدَمی کھڑے ہوں گے اور بِلا حساب جنَّت میں داخِل ہو جائیں گے۔(جمع الجوامع للسیوطی،حرف الہمزۃ،الحدیث:۱۱۲۲،ج۱،ص۱۶۸)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  عفو ودرگزر یعنی دوسروں کو معاف کردینے بلکہ حسنِ اخلاق کی دولت پانے کے لیے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحو ل سے ہر دم وابَستہ رہئے ۔ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت فرمایئے، سنّتوں کی تربیت کیلئے مدنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے ،  کامیاب زندگی گزارنے اور آخِرت سنوارنے کیلئے مدنی انعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مدنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمّے دار کو جمع کروایئے۔  آپ کی ترغیب و تحریص کیلئے ایک مدنی بہار پیش کی جاتی ہے، شَاھْدَرَہ ( مرکز الاولیاء لاہور ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: میں اپنے والِدین کا اِکلوتا بیٹا تھا ،  زیادہ لاڈ پیار نے مجھے حددَرَجہ ڈھیٹ اور ماں باپ کا سخت نافرمان بنا دیا تھا، رات گئے تک آوارہ گردی کرتا اور صبح دیر تک سویا رہتا، ماں باپ سمجھاتے تو اُن کو جھاڑ دیتا ،  وہ بے چارے بعض اوقات رو پڑتے، دعائیں مانگتے مانگتے ماں کی پلکیں بھیگ جاتیں ۔

            اُس عظیم لمحے پر لاکھوں سلام جس لمحے میں مجھے دعوتِ اسلامی والے ایک عاشقِ رسول سے مُلاقات کی سعادت ملی اور اُس نے مَحبت اور پیار سے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھ پاپی و بدکار کو مدنی قافِلے میں سفر کیلئے تیار کیا چُنانچِہ میں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ 3دن کے مدنی قافِلے کامسافِر بن گیا نہ جانے ان عاشِقانِ رسول نے 3 دن کے اندر کیا گَھول کر پِلا دیا کہ مجھ جیسے ڈِھیٹ انسان کا پتّھر نُما دل جو ماں باپ کے آنسوؤ ں سے بھی نہ پِگھلتا تھا موم بن گیا، میرے قَلب میں مدنی اِنقِلاب برپا ہوگیااور میں مدنی قافِلے سے نَمازی بن کر لوٹا۔ گھر آ کر میں نے سلام کیا، والِد صاحِب کی دَست بوسی کی اور امّی جان کے قدم چومے ، گھر والے حیران تھے !  اس کو کیا ہو گیا ہے کہ کل تک جو کسی کی بات سننے کیلئے تیار نہیں تھا وہ آج اتنا با ادب بن گیا ہے!

             اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلّ مدنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کی صُحبت نے مجھے یکسر بدل کر رکھ دیا اور یہ بیان دیتے وقَت مجھ سابِقہ بے نَمازی کو مسلمانوں کو نَمازِ فَجر کیلئے جگانے (یعنی صدائے مدینہ لگانے) کی ذِمّہ داری ملی ہوئی ہے۔ (دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں مسلمانوں کو نَمازِ فَجر کیلئے اُٹھانے کو صدائے مدینہ لگانا کہتے ہیں ) (فیضانِ سنت،ج۱،ص۱۳۷۰)

گرچہ اعمالِ بد،اور اَفعالِ بد                          نے ہے رُسوا کیا ، قافِلے میں چلو

کر سفر آؤ  گے ، تم سُدھر جاؤ  گے                    مانگو چل کر دُعا، قافِلے میں چلو

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔

          تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطفی جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ( تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک ،  ج۹ ،  ص۳۴۳ )

            لہٰذا عمامہ کے 17مدنی پھول قبول فرمائیے،(اس کتاب کے صفحہ نمبر    644سے بیان کریں )

٭٭٭٭٭٭

بیان نمبر8:

علمِ د ین

         شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء    دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالہ  ’’  احترامِ مسلم  ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیثِ پاک بیان فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ    تَقَرُّبنشان ہے: ’’  قیامت کے روز لوگوں میں میرے نزدیک تر وہ ہوگا جس نے مجھ پر زِیادہ دُرود شریف پڑھے ہوں گے ۔ ‘‘  (سنن الترمذی،کتاب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبی، الحدیث:۴۸۴،ج۲،ص۲۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میں نے علم کے لیے وطن چھوڑا

            امام ابو محمد یحییٰ بن یحییٰ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک دن حضرت امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِقْ کے درس میں حاضر تھے کہ ایک دم یہ شور مچ گیا:  ’’  ہاتھی آیا ،  ہاتھی آیا،  ‘‘  غوغا سنتے ہی



Total Pages: 194

Go To