Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

          مُفَسّرِ شہیر حکیم الامت حضرتمفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : عربی میں ستّرکا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اُسے بہت دفعہ مُعافی دو، یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاء ً   غلطی ہوجاتی ہے خباثتِ نفس سے نہ ہو اور قُصور بھی مالِک کا ذاتی ہو، شریعت کا یاقومی و ملکی قُصور نہ ہو کہ یہ قُصور مُعاف نہیں کیے جاتے ۔(مراٰۃ المناجیح،کتاب النکاح،باب نفقات کا بیان،ج۵،ص۱۷۰)

نمک زیادہ ڈال دیا

            کہتے ہیں ایک آدَمی کی بیوی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈالدیا، اسے غُصّہ تو بَہُت آیا مگر یہ سوچتے ہوئے وہ غُصّے کو پی گیا کہ میں بھی تو خطائیں کرتا رہتا ہوں اگر آج میں نے بیوی کی خطا پر سختی سے گرفت کی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ کل بروزِ قِیامت  اللہ عَزَّوَجَلَّبھی میری خطاؤ ں پر گرفت فرمالے!  چُنانچِہ اُس نے دل ہی دل میں اپنی زَوجہ کی خطا معاف کردی اِنتِقال کے بعد اس کو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا:   اللہ           عَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا ؟  اُس نے جواب دیا کہ گناہوں کی کثرت کے سبب عذاب ہونے ہی والا تھا کہ  اللہ           عَزَّوَجَلَّنے فرمایا : میری بندی نے سالن میں نمک زیادہ ڈال دیا تھا اور تم نے اُس کی خطا مُعاف کردی تھی، جاؤ  میں بھی اُس کے صلے میں تم کو آج مُعاف کرتا ہوں ۔(بیانات عطاریہ،حصہ۲،ص۱۶۴)

مُعاف کرنے سے عزّت بڑھتی ہے

             سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ رحمت نشان ہے : صَدَقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور بندہ کسی کا قُصُور مُعاف کرے تو  اللہ     عَزَّوَجَلَّاُس (مُعاف کرنے والے ) کی عزّت ہی بڑھائے گا اور جو  اللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے تواضُع ( یعنی عاجِزی) کرے  اللہ عَزَّوَجَلَّاسے بُلند فرمائے گا ۔ (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ، باب استحباب العفووالتواضع،الحدیث:۲۵۸۸، ص۱۳۹۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جوابی کار روائی پر شیطان کا آجانا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جب ہم سے کوئی اُلجھے یابُرا بھلا کہے اُس وَقت خاموشی میں ہی ہمارے لئے عافیّت ہے، تِرمِذی شریف میں ہے:  ’’ مَنْ صَمَتَ نَجَا ‘‘  یعنی جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی ۔ (سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب(ت:۱۱۵)،الحدیث:۲۵۰۹،ج۴،ص۲۲۵)

        اور یہ محاورہ بھی خوب ہے  ’’  ایک چُپ سو کوہَرائے  ‘‘  اگرچِہ شیطان لاکھ وَسوسے ڈالے کہ تو بھی اس کو جواب دے ورنہ لوگ تجھے بُزدل کہیں گے،میاں !     شرافت کا زمانہ نہیں ہے اِس طرح تو لوگ تجھ کو جینے بھی نہیں دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ میں ایک حدیث مبارکہ بیان کرتا ہوں غور سے سَماعت فرمائیے ،  سن کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ دوسرے کے بُرا بھلا کہتے وَقت خاموش رہنے والارحمتِ الٰہی کے کس قَدَر    نزدیک تر ہوتا ہے۔

            چُنانچِہ مُسنَد امام احمد میں ہے: کسی شخص نے سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مو جو دگی میں حضرت ِسیِّدُنا ابوبکر صدّیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو بُرا کہا تو  جب اُس نے بَہُت زِیادتی کی تو انہوں نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا (حالانکہ آپ کی جوابی کار روائی معصیَّت سے پاک تھی مگر)  سرکارِ نامدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  وہاں سے اُٹھ گئے، سیِّدنا ابوبکر صدّیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ حُضُورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے پیچھے پہنچے ،  عرض کی:  یارسولَ اللّٰہ!  وہ مجھے بُرا کہتا رہا آپ تشریف فرما رہے، جب میں نے اُس کی بات کا جواب دیا تو آپ اُٹھ گئے، فرمایا:  ’’ تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اُس کا جواب دے رہا تھا پھر جب تم نے خود اُسے جواب دینا شروع کیا تو شیطان درمیان میں آکودا۔(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، الحدیث:۹۶۳۰،ج۳، ص۴۳۴)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کربھلا ہو بھلا

            حضرت ِسیِّدناشیخ سعدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیْ بوستانِ سعدی میں نَقل کرتے ہیں : ایک نیک سیرت شخص اپنے ذاتی دشمنوں کا ذِکر بھی بُرائی سے نہ کرتا تھا، جب بھی کسی کی بات چِھڑتی اُس کی زبان سے نیک کلمہ ہی نکلتا۔ اُس کے مرنے کے بعد کسی نے اُسے خواب میں دیکھا تو سُوال کیا : مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنی  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا ؟  یہ سُوال سُن کر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ بُلبل کی طرح شِیریں آواز میں بولا : دنیا میں میری یِہی کوشِش ہوتی تھی کہ میری زَبان سے کسی کے بارے میں کوئی بُری بات نہ نکلے، نکیرین نے

بھی مُجھ سے کوئی سخت سُوال نہ کیا اور یوں میرا معامَلہ بَہُت اچّھا رہا ۔ (بوستان سعدی،باب۴درتواضع،ص۱۴۹)

نرمی زینت بخشتی ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  آپ نے مُلاحَظہ فرمایا نرمی اور عَفو و درگزر کرنے سے اللّٰہ رَبُّ الْعِزْت کی کس قَدَر رَحمت ہوتی ہے۔ کاش!  ہم بھی اپنی بے عزّتی کرنے والوں یا ستانے والوں کو مُعاف کرنااِختیار کریں مسلم شریف میں ہے :  ’’ جس چیز میں نَرمی ہوتی ہے اُسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے جُدا کرلی جاتی ہے اُسے عیب دار بنا دیتی ہے ۔ ‘‘  (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، الحدیث:۲۵۹۴،ص۱۳۹۸)

پیشگی مُعاف کرنے کی فضیلت

            احیاء العلوم،جلد3،صفحہ219 میں ہے : ایک شخص دُعا مانگ رہا تھا: یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!  میرے پاس صَدَقہ و خیرات کیلئے کوئی مال نہیں بس یِہی کہ جو مسلمان میری بے عزّتی کرے میں نے اُسے مُعاف کیا۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر وَحی آئی:  ’’ ہم نے اِس بندے کو بخش دیا۔ ‘‘  (شعب الایمان  للبیہقی، باب فی حسن الخلق، فصل فی التجاوز۔۔۔الخ،الحدیث:۸۰۸۲۔



Total Pages: 194

Go To