Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

فلاں کام کیوں کیا؟  اور فلاں چیز کیوں کھائی؟ یعنی اپنا مُحاسَبَہ کرتے کہ اگر میرے نفس نے غلطی کی ہو تو اس کو تَنبیْہ ہو کہ یہ چراغ کی لَو جو کہ بہت ہی ہلکی آگ ہے پھربھی ناقابلِ برداشت ہے توبھلا جہنم کی بھیانک آگ سہنا کیونکر ممکن ہوگا۔  (کیمیائے سعادت،اصل ششم، مقام چہارم درمعاقبت نفس،ج۲،ص۸۹۳)اللہ عَزَّوَجَلَّ کیان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یہ ان نُفوسِ قُدسِیَّہ کے حالات ہیں جو پروَرد ْگار    عَزَّوَجَلَّکے پرہیزگار بندے ہیں جن کے سروں پر  اللہ    عَزَّوَجَلَّنے وِلایت کے تاج سجائے ہیں ،  مُلاحَظہ فرمائیے کہبَاِیْں ہَمَہ شَرَف ومَرتَبَت(یعنی ولایت جیسا عظیم مرتبہ حاصل ہونے کے باوجود)کس طرح نفس کا مُحاسَبَہ فرماتے اور خود کو عاجِز و گنہگار تصوُّر کرتے کاش!  ہم بھی اپنا مُحاسَبَہ کرپاتے اور جیتے جی اپنے اعمال کا جائزہ لینے میں کامیاب ہو جاتے!

            ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم سر تا پاگناہوں میں ڈوبے ہیں ،  آخر کونسا گناہ ایسا ہے جو ہم نہیں کرتے؟  نیکیاں ہم سے نہیں ہوپاتیں اور اگر ہو بھی جائیں تو اِخلاص کا دور دور تک کوئی پتا نہیں ہوتا، لوگوں کو اپنے نیک اعمال سنا کر ریا کاری کی تباہ کاری کا شکار ہوجاتے ہیں ،  ہمارا نامۂ اعمال نیکیوں سے خالی اور گناہوں سے پُر ہوتا جارہا ہے لیکن افسوس!  ہمیں اس کے بُرے نتائج کا کوئی اِحساس نہیں اور اِس پر طُرّہ یہ کہ ہم خود کو بہت عقل مند گمان کرتے ہیں حتّٰی کہ اگر کوئی ہمیں بے وُقوف یا کم عقل کہہ دے تو اس کے دشمن ہی ہوجائیں ،  لیکن اب آپ ہی

بتائیے کہ اگر کسی مَفرُور مجرم کی پھانسی کا حکم نامہ جاری ہوچکا ہو، پولیس اسکو تلاش کررہی ہو اور وہ گرفتاری سے بے خوف، راہِ تحفّظ و اِحتِیاط تَرک کرکے آزادانہ گھوم رہا ہو تو کیا اس کو عقل مند کہیں گے؟  ہرگز نہیں !  ایسے آدَمی کو لوگ بے وُقوف ہی کہیں گے۔

جہنم کے دروازے پر نام

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جسے بتادیا گیا ہو کہ  ’’ جس نے قَصداًنماز چھوڑی اُس کا نامجہنم کے اُس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ ‘‘  (حلیۃ الاولیاء،۳۸۹ مسعر بن کدام، الحدیث:۱۰۵۹۰،ج۷،ص۲۹۹)

            اور یہ بھی خبر دے دی گئی ہو کہ  ’’ جو ماہِ رمَضان کا ایک روزہ بھی بلاعذرِشرعی ومرض قَضاء کردیتاہے تو زمانے بھر کے روزے اسکی قضاء نہیں ہو سکتے اگرچِہ بعد میں رکھ بھی لے۔  ‘‘  (سنن الترمذی،کتاب الصوم،باب ما جاء فی الافطار متعمداً،الحدیث:۷۲۳،ج۲،ص۱۷۵)

            اور یہ بھی خبر دے دی گئی ہو کہ ’’  جو شَخص حج کے زادِراہ (اَخراجات) اور سُواری پر قادر ہوا جو اُسے بیتُاللّٰہ تک پہنچا دے اسکے باوُجود حج نہ کرے وہ چاہے  یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔ ‘‘  (المرجع السابق،باب ما جاء من التغلیظ فی ترک الحج،الحدیث:۷۱۲،ج۲،ص۲۱۹)

            اگر تم نے بدنگاہی کی، کسی نامَحرم عورت کو دیکھا یا اَمْرد کو بنظرِ شَہوتدیکھا یاT.V،V.C.R،انٹرنیٹ اور سینماگھر وغیرہ پر فلمیں ،  ڈِرامے اور بے حیائی سے پُر مناظِر دیکھے تو یاد رکھو!  منقول ہے: جس نے اپنی آنکھ حرام سے پُر کی  اللہعَزَّوَجَلَّبروزِ قِیامت اُس کی آنکھ میں آگ بھر دیگا ۔(مکاشفۃ القلوب،الباب الاوّل فی بیان ا   لخوف،ص۱۰)

            اور جسے یہ سمجھا دیا گیا ہو کہ عنقریب تمہیں مرنا پڑے گا کیونکہ ہر جان کو موت سے ہمکنار ہونا ہے جب وقت پورا ہو جائے گا تو پھر موت ایک پل آگے ہوگی نہ پیچھے اور یہ بھی اطِّلاع دے دی گئی ہو کہ مرنے کے بعد اس قبر میں جانا ہے جو مجرموں پر تاریک اور وحشتناک ہوتی ہے، ان کیلئے کیڑے مکوڑے اور سانپ بچّھو بھی ہوتے ہیں اور اس میں ہزاروں سال رہنا ہوگا۔ آہ!  قبر ہر ایک کو دبائے گی، نیکوں کو ایسے دبائے گی جیسے ماں بچھڑے ہوئے لال کو شفقت کے ساتھ سینے سے چمٹا لیتی ہے اور جن سے  اللہ عَزَّوَجَلَّناراض ہوتا ہے اُن کو ایسے بھینچے گی کہ پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں اس طرح پَیوَست ہو جائیں گی جس طرح دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں ایک دوسرے میں مل جاتی ہیں ،  اسی پر اِکتِفاء نہیں بلکہ اس بات سے بھی مُتَنَبَّہیعنی خبردارکر دیا گیا ہو کہ قیامت کا ایک دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، اور سورج سوا میل پر رَہ کر آگ بر سا رہا ہوگا، حساب کتاب کا سلسلہ ہوگا، نیکوں کے لئے جنّت کی راحتیں اور مجرِموں کیلئے جہنم کی آفتیں ہوں گی۔

نادانی کی اِنتہا

          اتنا کچھ معلوم ہونے کے باوُجود اگر کوئی شَخص  اللہ عَزَّوَجَلَّسے کَمَاحَقُّہٗ نہ ڈرے، موت کی سختیوں ،  قبر کی وَحشت ناکیوں ،  قِیامت کی ہَولناکیوں اور جہنَّم کی سزاؤں کا صحیح معنوں میں خوف نہ رکھے، غفلت کی نیند سوتا رہے، نمازیں نہ پڑھے، رمَضان المبارَک کے روزے نہ رکھے، فرض ہونے کی صورت میں بھی اپنے مال کی زکوٰۃ نہ نکالے، فرض ہونے کے باوُجود حج ادا نہ کرے، وعدہ خلافی اس کا وتِیرہ رہے، جھوٹ، غیبت، چغلی، بدگمانی وغیرہ ترک نہ کرے، فلمے ڈِراموں کا شائق رہے، گانے سننا اس کا بہترین مَشغَلہ رہے، وا لدَین کی نافرمانی کرے، گالیاں بکنے اور طرح طرح کی بے حیائی کی باتوں میں مگن رہے، ا  لغَرَض خودکو بالکل بھی نہ سُدھارے مگر پھر بھی اپنے آپ کو عقل مند سمجھتا رہے تو ایسے شَخص سے بڑھ کر بے وُقوف اور کون ہوگا؟  اور بے وُقوفی کی انتِہا یہ ہے کہ جب  سُدھارنے کی خاطر سمجھایا جائے تو لاپرواہی سے یہ کہہ دے کہ بس جی کوئی بات نہیں  اللہ     

Total Pages: 194

Go To