Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

آیا جو آپ   رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مبارَک عمر کے ایام تھے پھر اپنے آپ سے مُخاطِب ہو کر فرمانے لگے: ’’ اگرمجھ سے روزانہ ایک گناہ بھی سرزد ہوا ہو تو اب تک اکیس ہزار چھ سو گناہ ہوچکے، جبکہ اس مدت میں ایسے ایام بھی شامل ہوں گے جن میں یومیہ ایک ہزار تک بھی گناہ ہوئے ہوں گے، ‘‘  یہ کہنا تھا کہ خوفِ خداسے لرزنے لگے ! پھر یکایک ایک چیخ ان کے منہ سے نکل کر فَضا کی پَہنائیوں میں گم ہوگئی اور آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ زمین پر تشریف لے آئے، دیکھا گیا تو طائرِروح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کرچکا تھا۔(کیمیائے سعادت، اصل ششم درمحاسبہ ومرا قبہ، مقام سوم درمحاسبات، ج۲،ص۸۹۱) اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔

مُحاسَبَہ کسے کہتے ہیں

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اپنے سابِقہ اعمال کا حساب کرنا مُحاسَبَہ کہلاتا ہے۔ غور فرمائیے کہ ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کس طرح اپنا محاسبہ فرماتے، ان کا اندازِ فکر ِمدینہ  ([1]) کتنا اعلیٰ تھا ہر دم نیکیوں میں مصروف رہنے کے

باوجود خود کو گنہگار تصور کرتے حالانکہ ان کی شان تو یہ ہے کہ وہ  مُسْتَحَبَّات کے ترک کوبھی اپنے لئے  سَیِّئَات(یعنی برائیوں )میں سے جانتے، نفلی عبادات میں کمی کو بھی جرم تصوُّر کرتے اور بچپن کی خطا کو بھی گناہ شمار کرتے حالانکہ نابالِغی کے گناہ محسوب(شمار)نہیں کئے جاتے۔

بچپن کی خطا یادآگئی

        چُنانچِہ ایک مرتبہ حضرتِ  سیِّدنا عُتْبَہ غلام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ السَّلام ایک مکان کے پاس سے گزرے تو کانپنے لگے اور پسینہ آگیا!  لوگوں کے اِستِفسار پر فرمایا: یہ وہ جگہ ہے جہاں میں نے چھوٹی عمر میں گناہ کیا تھا۔(تنبیہ المغترین،خوفہم مما للعباد علیہم،ص۵۷)    اللہ    عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔

نیکی کرکے بھول جاؤ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  عقل مند وہی ہے جو نیکیوں کے حُصول کی سعادت پاکر انہیں بھول جائے اور گناہ صادِر ہو جائیں تو انہیں یاد رکھے اوراپنی اصلاح کے لیے ان پر سختی سے اپنا مُحاسَبَہ کرتا رہے بلکہ نیک اعمال میں کمی پر بھی خود کو سرزَنِش (یعنی ڈانٹ ڈپٹ ) کرے اور ہر لمحہ خود کو  اللّٰہ واحِد قَہَّار کے قہرو غَضَب سے ڈراتا رہے یہی ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کا معمول رہا ہے ۔

آج  ’’ کیا کیا  ‘‘ کیا؟

            چُنانچِہامیر المؤمنین حضرتِ  سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُروزانہ اپنا اِحتِساب فرمایا کرتے اور جب رات آتی تو اپنے پاؤں پر دُرَّہ مار کر فرماتے:  بتا!  آج تو نے ’’ کیا کیا ‘‘ کیا ہے؟ (احیاء علوم الدین،کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، المرابطۃ الرابعۃ فی معاقبۃ النفس علی تقصیرہا،ج۵،ص۱۴۱)  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔

فاروقِ اعظمرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی عاجِزی

          پیارے اسلامی بھائیو!  آپ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    عشرۂ مُبشَّرہ([2]) یعنی جن دس صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے جنّت کی بشارت سنائی اُن میں شامل اور سیِّدنا      صدّیقِ اکبررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے بعدسب سے افضل ہونے کے باوُجود بہت اِنکِساری فرمایا کرتے تھے چُنانچِہ حضرتِ  سیِّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ایک بار میں نے حضرتِ  سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکوایک باغ کی دیوار کے قریب دیکھاکہ وہ اپنے نفس سے فرما رہے تھے:  ’’ واہ!  لوگ تجھے امیر المؤمنین کہتے ہیں  (پھر بطورِ عاجِزی فرمانے لگے) اور تو (وہ ہے کہ)    اللہ       عَزَّوَجَلَّسے نہیں ڈرتا!  (یاد رکھ! ) اگر  تو نے   اللہ عَزَّوَجَلَّکا خوف نہیں رکھا تو اس کے عذاب میں گرفتار ہو جائے گا۔ ‘‘  (کیمیا ئے سعادت،اصل ششم درمحاسبہ ومراقبہ،مقام سوم درمحاسبات،ج۲،ص۸۹۲) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  حضرتِ  سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کا اِس طرح اپنے نفس کوملامت کرنا اور  اللہ عَزَّوَجَلَّکا خوف دلاکر اس کا  مُحاسَبَہ کرنا ہماری تعلیم کے لئے بھی تھا۔

قیامت سے پہلے حساب

             ایک موقع پر حضرت سیِّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اے لوگو!  اپنے اعمال کا اس سے پہلے محا سَبَہ کر لو کہ قیامت آجائے اور ان کا حساب لیا جائے۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین،کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ،المقام الاوّل ۔۔۔الخ،ج۵، ص۱۲۸)

چراغ پرانگوٹھا

        بہت بڑے عالم

Total Pages: 194

Go To