Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

دیکھنے سے بھی بچو کہ اِس سے بھی دل پر اثر پڑتا ہے اور تمہارا ذہن اس طرف مائل ہو سکتا ہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان معنی سوء الخاتمۃ،ج۴،ص۲۱۹،۲۲۱ملخصًا)

مسلماں ہے عطارؔ تیری عطا سے

ہو ایمان پر خاتِمہ یاالٰہی!

          پیارے اسلامی بھائیو!     اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کی رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہوں !   آپ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رہیں گے تو  اللہ  عَزَّوَجَلَّ ایمان کی حفاظت کاذہن بھی بنتا رہے گا اور اس ماحول کی برکتیں بھی نصیب ہوں گی۔ آئیے!  میں آپ کو ایک مدنی بہار سناتاہوں :

مدنی چینل کی مدنی بہار

            چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے  ’’ مکتبۃ المدینہ ‘‘ کی مطبوعہ 504 صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  صفحہ 95 پر ہے:صِدّیق آباد (باب المدینہ کراچی )کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ 20 اپریل 2009ء بروز پیر شریف باب المدینہ کراچی(پاکستان) کے رہائشی تقریباً 50 سالہ ایک غیر مسلم  نے جب مدنی چینل پر اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سنا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  مُتأَثِّر ہوکر اسلام قبول کرلیا ،  ان کا اسلامی نام محمد صدّیق رکھاگیا،وہ جمعرات کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوئے اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ ہاتھوں ہاتھ عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیت کے 12 دن کے مدنی قافلے کے مسافر بھی بن گئے، مدنی قافلے سے واپس آنے کے دوسرے یا تیسرے روز ککری گراؤنڈ باب المدینہ کراچی کے نزدیک ایک گاڑی نے اِنہیں

کچل دیا،یہ حادثہ جان لیوا ثابت ہوا، یوں وہ اسلام کی انمول دولت سے مالامال ہونے کے تقریباً 17 یا18دن بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

          اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  

مدنی چَینل کی مُہِم ہے نفس و شیطاں کے خلاف

جو بھی دیکھے گا کرے گا اِنْ شَائَ اللّٰہاِعتراف

نفسِ اَمَّارہ پہ ضَرب ایسی لگے گی زور دار

کہ ندامت کے سبب ہوگا گنہگار اشکبار

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔

          تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطفی جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: ’’  جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ‘‘ ( تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک ،  ج۹ ،  ص۳۴۳ )

            لہٰذا تیل ڈالنے اور کنگھا کرنے کے 10مدنی پھول قبول فرمائیے، (اس کتاب کے صفحہ نمبر 603سے بیان کریں )

٭٭٭٭٭٭

مومنوں پر تین احسان کرو

        حضرتِ  سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الھادی فرماتے ہیں : تم سے مؤمِنوں کواگر تین فوائد حاصِل ہو ں تو تم مُحسِنِین ( یعنی احسان کرنے والوں )  میں شمارکئے جاؤ  گے(۱) اگر انہیں نَفع نہیں پہنچا سکتے تو نقصان بھی نہ پہنچاؤ  (۲) انہیں خوش نہیں کر سکتے تو رنجیدہ بھی نہ کرو(۳) ان کی تعریف نہیں کر سکتے تو بُرائی بھی مت کرو۔(تنبیہ الغافلین،باب الغیبۃ،ص۸۸)

بیان نمبر6:

مُحاسَبَۂ نَفْس

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہلسنَّت، بانیء     دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’ میں سدھرنا چاہتا ہوں  ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیث پاک بیان فرماتے ہیں کہ حضرتِ  سَیِّدُنا امام سخاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّ نقل فرماتے ہیں : سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک بھیجا  اللہ         عَزَّوَجَلَّ اُس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور جو مجھ پر دس بار دُرُودِ پاک بھیجے  اللہ    عَزَّوَجَلَّاُس پر سو رحمتیں نازِل فرماتا ہے اور جو مجھ پر سو بار دُرُودِ پاک بھیجے  اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ بندہ نفاق اور دوزخ کی آگ سے بَری ہے اور قِیامَت کے دن اُس کو شہیدوں کے ساتھ رکھے گا۔  ‘‘ (القول البدیع،الباب الثانی،ص۲۳۳)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

انوکھا حساب

          حجۃ الاسلام حضرت سیِّدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرتِ  سیِّدنا اِبن الصِّمَّہ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک باراپنا محاسَبہ کرتے ہوئے اپنی عمر شمار کی تو وہ (تقریباً) ساٹھ برس بنی، ان ساٹھ برسوں کو بارہ سے ضرْب دینے پر سات سو بیس