Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ہے۔

 (الدرۃ الفاخرۃ فی کشف علوم الآخرۃ مع مجموعۃ رسائل الامام الغزالی،ص۵۱۱)

ایمان کی حفاظت کی فکر کرتے رہیے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   اللہ عَزَّوَجَلَّکی بے نیازی اور اس کی خفیہ تدبیر سے ہرمسلمان کو لرزاں وترساں رہنا چاہئے نہ جانے کون سی مَعصِیَّت (یعنی نافرمانی)    اللّٰہرَبُّ الْعِزَّتکے قَہر وغَضَب کو ابھاردے اور ایمان کیلئے خطرہ پیدا ہوجائے۔ بس ہر وقت اپنے رب عزَّوَجَلَّ کے آگے عاجِزی کا مُظاہَرہ کرتے رہیے سنجیدہ رہیے ، زَبان کو قابو میں رکھئے کہ زیادہ بولتے رہنے سے بھی بعض اوقات منہ سے کلماتِ کفر نکل جاتے ہیں اور پتا نہیں لگتا،ہروقت ایمان کی حفاظت کی فکر کرتے رہنا ضروری ہے، میرے آقا اعلیٰ حضرت اِمامِ اَہلسنّت مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا ارشاد ہے: عُلمائے کرام فرماتے ہیں : ’’ جس کو (زندگی میں )  سَلْب ِایمان کا خوف نہ ہو مرتے وقت اس کا ایمان سَلْب ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ ‘‘ ( الملفوظ،حصہ۴،ص۴۹۵)

ہمارا کیا بنے گا؟

           اللہ    عَزَّوَجَلَّہمارے حالِ زار پر کرم فرمائے نَزْع کے وقت نہ جانے ہمارا کیا بنے گا!  آہ!  ہم نے بہت گناہ کررکھے ہیں ،  نیکیاں نام کو نہیں ہیں ،  ہم دُعا کرتے ہیں : اے   اللہ    عَزَّوَجَلَّ!  نَزْع کے وقت ہمارے پاس شَیاطین نہ آئیں  بلکہرَحْمَۃٌ لِّلْعٰـلمین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کرم فرما ئیں ۔

نَزع کے وقت مجھے جلوئہ محبوب دکھا

تیرا کیا جائے گا میں شاد مروں گا یا رب

سرکارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی گریہ و زاری

          ذرا دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر سنئے!     اللہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ہم گنہگاروں کے ایمان کی سلامتی کی کتنی فکر ہے چُنانچِہ روح البیان جلد10 صفحہ315 میں ہے: ’’ ایک بار مدینے کے تاجدارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دربار میں شیطان مکّار روپ بدل کرہاتھ میں پانی کی بوتل لئے حاضر ہوا اور عرض کی:میں لوگوں کو نَزع کے وقت یہ بوتل ایمان کے بدلے فروخت کیاکرتا ہوں ،  یہ سن کر آقائے نامدار، شفیعِ روزِشمار، اُمّت کے غمخوار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اتنا روئے کہ اہلِ بیت اَطہار بھی رونے لگے۔  اللہ    عَزَّوَجَلَّنے وحی بھیجی اے میرے محبوب!  آپ غم مت کیجئے !  میں بحالت ِنزع اپنے بندوں کو شیطان کے مکر سے بچاتا ہوں ۔ ‘‘ (تفسیر روح البیان،النازعات، تحت الایۃ:۲،ج۱۰،ص۳۱۵)

ہر امّتی کی فکر میں آقا ہیں مُضطَرِب

غمخوار والدین سے بڑھ کر حضور ہیں

آگ کے صَنْدوق

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جس کسی بدنصیب کا کفر پر خاتمہ ہوگااس کو قبر اِس زور سے دبائے گی کہ اِدھر کی پسلیاں اُدھر اور اُدھر کی اِدھر ہو جائیں گی، اِسی طرح اور بھی دردناک عذاب ہونگے پھر قِیامت کا پچاس ہزار سالہ دن سخت ترین ہولناکیوں میں بسر ہوگا اور اسے اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا ،  پھر آخر میں کفّار کے لیے یہ ہوگا کہ اس کے قد برابر آگ کے صندوق میں اسے بند کریں گے، پھر اس میں آگ بھڑکائیں گے اور آگ کا قُفل(یعنی تالا)لگایا جائے گا، پھر یہ صندوق آگ کے دوسرے صندوق میں رکھا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان آگ جلائی جائے گی اور اس میں بھی آگ کا قُفل لگایا جائے گا، پھر اِسی طرح اس کو ایک اور صندوق میں رکھ کر اور آگ کا قفل لگا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔پھر موت کو ایک مَینڈھے کی طرح جنَّت اور دوزخ کے درمیان لاکر ذَبح کردیا جائے گا، اب کسی کو موت نہیں آئے گی، ہر جنّتی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنّت میں اورہر دوزخی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوزخ میں ہی رہے گا، جنّتیوں کیلئے مسرَّت بالائے مسرَّت ہو گی اور دوزخیوں کیلئے حسرت بالائے حسرت۔(بہارشریعت،دوزخ کا بیان،حصہ اوّل،جلد اوّل،ص۱۷۰،۱۷۱ ملخصاً)

          یا ربِّ مصطفی!  ہم تجھ سے ایمان وعافیَّت کے ساتھ مدینے میں شہادت، جَنَّتُ الْبَقِیع میں مدفن اور جَنَّت الفردوسمیں مدنی محبوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پڑوس کا سوال کرتے ہیں ۔

پایا ہے وہ الطاف و کرم آپ کے دَر پر

سب عرض و بیاں خَتْم ہے خاموش کھڑا ہے

مرنے کی دُعا کرتے ہیں ہم آپ کے در پر

آشُفْتہ ہے بدرؔ آنکھ ہے نَم آپ کے در پر

اچھے خا تِمے کیلئے مدنی پھول

          حُجَّۃُ الْاِسلامحضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیکا فرمانِ عالی ہے:  بُرے خاتِمے سے اَمن چاہتے ہو تو اپنی ساری زندگی اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کی اطاعت میں بسر کرو اور ہر ہر گناہ سے بچو، ضروری ہے کہ تم پر عارفین جیسا خوف غالب رہے حتّٰی کہ اس کے سبب تمہارا رونا دھونا طویل ہو جائے اور تم ہمیشہ غمگین رہو۔ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں : تمہیں اچھے خاتِمے کی تیاری میں مشغول رہنا چاہئے، ہمیشہ ذکراللّٰہ  میں لگے رہو، دل سے دنیا کی مَحَبَّت نکال دو، گناہوں سے اپنے اعضاء بلکہ دل کی بھی حفاظت کرو، جس قدر ممکن ہو بُرے لوگوں کو



Total Pages: 194

Go To