Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

میں دیکھا کہ فِرِشتے اس شاگرد کو جہنم میں گھسیٹ رہے ہیں ،  آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُس سے اِستِفسار فرمایا: کس سبب سے    اللہ       عَزَّوَجَلَّنے تیری مَعرِفَت سَلْب فرمالی؟  میرے شاگردوں میں تیر اتو مقام بہت اونچا تھا!  اس نے جواب دیا: تین عُیوب کے سبب سے، {1} چغلی کہ میں اپنے ساتھیوں کو کچھ بتاتا تھا اور آپ کو کچھ اَور {2} حسد کہ میں اپنے ساتھیوں سے حسد کرتا تھا {3}  شراب نوشی کہ ایک بیماری سے شِفاپانے کی غرض سے طبیب کے مشورہ پر ہر سال شراب کا ایک گلاس پیتا تھا۔(منھاج العابدین،الباب الخامس،الاصل الثالث فی ذکرما وعد۔۔۔الخ،ص۱۶۵)

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے!  گناہوں کی نُحوست کس قدر بھیانک ہے۔ آہ !  چُغلی، حسد اور شراب نَوشی کے سبب ولئی کامل کا شاگرد کُفریہ کلمات بول کر مرا!  الامان والحفیظ۔ یہاں یہ ضروری مسئلہ ذہن نشین فرما لیجئے کہ صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّفرماتے ہیں :   ’’ مرتے وقت مَعاذَ اللّٰہ اس کی زبان سے کَلِمَۂ کفر نکلا تو کفر کا حکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عقل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میں یہ کَلِمَہ نکل گیا۔ ‘‘ (بہارشریعت،موت آنے کا بیان، مسئلہ۹، حصہ۴،ج۱، ص۸۰۹ والدرالمختار و رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ،ج۳،ص۹۶)

            نیز کسی کے بارے میں بُرا خواب دیکھنا بیشک باعث ِتشویش ہے تاہم غیرِ نبی کا خواب شریعت میں حجت یعنی دلیل نہیں اور فقط خواب کی بنیاد پر کسی مسلمان کو کافر نہیں کہا جا سکتا نیز مسلمان میِّت پرخواب میں کوئی علامتِ کفر دیکھنے یا خود مرنے والے مسلمان کا خواب میں اپنے ایمان کے سَلب (برباد) ہونے کی خبر دینے سے بھی اس کو  کافر نہیں کہہ سکتے۔

ایک شیخ کا بُرا خاتِمہ

      حضرتِ  سیِّدنا سُفیان ثَوری اور حضرتِ  سیِّدُنا شَیْبانراعی رَحِمَہُمَا اللّٰہُ الْقَوِی دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوئے ،  سیِّدنا سفیان ثَوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیساری رات روتے رہے۔ سیِّدنا شیبان راعی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھادِینے سبب گریہ دریافت کیا تو فرمایا: مجھے بُرے خاتمے کا خوف رُلا رہا ہے، آہ!  میں نے ایک شیخ سے چالیس سال عِلم حاصل کیا، اس نے ساٹھ سال تک مسجدُ الحرام میں عبادت کی مگر اس کا خاتِمہ کفر پر ہوا، سیِّدنا شیبان راعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّ نے کہا: اے سفیان!  وہ اس کے گناہوں کی شامت تھی آپ    اللہ       عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی ہرگز مت کرنا۔ (سبع سنابل،ص۳۴)

فرشتوں کا سابِقہ استاذ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اللہ    عَزَّوَجَلَّبے نیاز ہے اس کی خفیہ تدبیر کو کوئی نہیں جانتا، کسی کو بھی اپنے علم یا عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہئے،شیطان نے ہزاروں سال عبادت کی، اپنی ریاضت اور علمیّت کے سبب مُعَلِّمُ الْمَلَکُوت یعنی فرشتوں کا استاذ بن گیا تھا لیکن اس بدبخت کو تکبُّر لے ڈوبا اور وہ کافر ہوگیا، اب بندوں کو بہکانے کیلئے وہ پورا زور لگاتا ہے، زندگی بھر تو وسوسے ڈالتا ہی رہتا ہے مگر مرتے وقت پوری طاقت صَرف کردیتا ہے کہ کسی طرح بندے کا بُراخاتِمہ ہو جائے۔

شیطان والدین کے روپ میں

            چُنانچِہ منقول ہے:جب انسان نَزع کے عالَم میں ہوتا ہے دو شیطان اس کے دائیں بائیں آکر بیٹھ جاتے ہیں ،  دائیں طرف والا شیطان اس کے والد کا روپ دھار کر کہتا ہے:  ’’ بیٹا!  دیکھ میں تیرا مہربان و شفیق باپ ہوں میں تجھے نصیحت کرتاہوں کہ تونصاریٰ کا مذہب اختِیار کرکے مرنا کیوں کہ وہی سب سے بہترین مذہب ہے۔ ‘‘  بائیں جانب والا شیطان مرنے والے کی ماں کی صورت میں آتا ہے اور کہتا ہے:  ’’ میرے لال! میں نے تجھے اپنے پیٹ میں رکھا، اپنا دودھ پلایا اور اپنی گود میں پالا ہے پیارے بیٹے!  میں نصیحت کرتی ہوں یہودی مذہب اِختیار کرکے مرنا کہ یہی سب سے اعلیٰ مذہب ہے۔ ‘‘ (التذکرۃ للقرطبی، باب ماجاء ان الشیطان۔۔۔الخ،ص۳۸)

موت کی تکالیف کا ایک قطرہ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  واقعی بے حد تشویش ناک معامَلہ ہے بندہ جب بخار یا دردِ سر وغیرہ میں مبتَلا ہوتا ہے تو اس سے کسی بات میں فیصلہ کرنا دشوار ہوجاتا ہے، پھر نزع کی تکالیف توبہت ہی زیادہ ہوتی ہیں ۔  ’’ شرح الصُّدور ‘‘  میں ہے:  ’’ اگر موت کی تکالیف کا ایک قطرہ تمام آسمان وزمین میں رہنے والوں پر ٹپکا دیا جائے تو سب مرجائیں ۔ ‘‘

(شرح الصدور،باب من دنا اجلہ وکیفیۃ الموت وشدتہ،ص۳۲)

        اب ایسی نازک حالت میں جب ماں باپ کے روپ میں شیاطین بہکاتے ہوں گے اسوقت انسان کو اسلام پر ثابت قدم رہنا کس قدر دشوار ہو جاتا ہوگا۔  ’’ کیمیائے سعادت  ‘‘  میں ہے:  ’’ حضرتِ  سیِّدُنا ابودَرداء  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے تھے: خدا کی قسم!  کوئی شخص اس بات سے مطمئن نہیں ہوسکتا کہ مرتے وقت اس کا اسلام باقی رہے گا یا نہیں ۔ ‘‘



Total Pages: 194

Go To