Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

دولتِ دنیا کے پیچھے تو نہ جا                             آخِرت میں مال کا ہے کام کیا

دل  سے  دنیا   کی   مَحَبَّت دور         کر                         دل نبی کے عِشق سے معمور کر

لندن و پیرس کے سپنے چھوڑ دے                 بس مدینے ہی سے رِشتہ جوڑ لے

روح کی درد ناک باتیں

            منقول ہے کہ روح جب جسم سے جدا ہوتی ہے اور اُس پر سات دن گزرتے ہیں تو    اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کرتی ہے:  ’’ اے ربّ! عَزَّوَجَلَّ مجھے اجازت عطا فرما کہ میں اپنے جسم کا حال دریافت کروں تو اسے اجازت مل جاتی ہے۔ پھر وہ اپنی قبر کی طرف آتی ہے، اسے دور سے دیکھتی اور اپنے جسم کو  ملاحَظہ کرتی ہے کہ وہ مُتَغَیَّر (یعنی بدلا ہوا)ہے اور اس کے نَتھنوں ،  منہ، آنکھوں اور کانوں سے پانی رَواں ہے، وہ اپنے جسم سے کہتی ہے:  ’’ بے مثال حسن و جمال کے بعد اب تو اس حال میں ہے!  ‘‘  یہ کہہ کر چلی جاتی ہے۔

            پھر سات دن کے بعد اجازت لے کر دوبارہ قبر پر آتی اور دور سے دیکھتی ہے کہ مردے کے منہ کا پانی خون ملی پیپ، آنکھوں کا پانی خالص پیپ اور ناک کا پانی خون بن چکا ہے تو اس سے کہتی ہے:  ’’ اب تو اس حال پرپہنچ چکا ہے!‘‘  یہ کہہ کر پرواز کر جاتی ہے۔

            پھر سات روز کے بعد اجازت لیکر اسی طرح دور سے دیکھتی ہے تو حالت یہ ہوتی ہے کہ آنکھوں کی پتلیاں چہرے پر ڈھلک چکی ہیں ،  پیپ کیڑوں میں تبدیل ہو چکی ہے، کیڑے اُس کے منہ سے داخل ہو کر ناک سے نکل رہے ہیں ،  تب وہ جسم سے کہتی ہے:  ’’ تو ناز ونِعَم میں پلنے کے بعد اب اِس حال کو پہنچ گیا ہے!    اللہ       عَزَّوَجَلَّکی قسم!  تقویٰ ونیک عمل کے علاوہ کسی چیزنے قبر میں کسی کو فائدہ نہ پہنچایا۔ ‘‘  (الروض الفائق، فی ذکر الموت والتفکر فیہ،ص۲۸۳)

جنت کا باغ

            نبی کریم، رؤوف رحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عبرت نشان ہے: قبر یا تو جہنم کا گڑھا ہے یا جنَّت کے باغوں میں سے ایک باغ۔(سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،الحدیث:۲۴۶۸،ج۴، ص۲۰۹)

قبر کی یاد!

            حضرتِ  سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :  ’’ جو شخص قبر کا ذِکر زیادہ کرے وہ اسے جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ پاتا ہے اور جو اس کی یاد سے غافل ہوتا ہے وہ اسے جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا پاتا ہے۔ ‘‘    (احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،الباب الثالث ۔۔۔الخ،ج۲،ص۲۶۴)

بے شمارلوگ مغموم ہیں

            حضرتِ  سیِّدُنا ثابِت بُنانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : میں قبرِستان میں داخل ہوا جب وہاں سے نکلنے لگا تو بلند آواز سے کسی نے کہا: اے ثابت!  ان قبر والوں کی خاموشی سے دھوکہ نہ کھانا ان میں بے شمار لوگ مغموم ہیں۔(المرجع السابق،کتاب ذکرالموت ومابعدہ،بیان حال القبر۔۔۔الخ،ج۵،ص۲۳۸)

قبر کی ڈانٹ

            حضرت سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن عُبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے: جب مُردے کے ساتھ آنے والے لَوٹ کر چلتے ہیں تو مُردہ بیٹھ کر ان کے قدموں کی آواز سنتا ہے اور قبر سے پہلے کوئی اُس کے ساتھ ہم کلام نہیں ہوتا، قبر کہتی ہے کہ اے آدَمی!  کیا تو نے میرے حالات نہ سنے تھے؟  کیا میری تنگی، بدبو، ہولناکی اور کیڑوں سے تجھے نہیں ڈرایا گیا تھا؟  اگر ایسا تھاتو پھر تو نے کیا تیاری کی۔ (شرح الصدور،باب فی مخاطبۃ القبر للمیت،ص۱۱۴)

بیکسی کا دن

            حضرتِ  سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری       رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’  کیا میں تمہیں اپنی بے کسی کا دن نہ بتاؤ ں ؟  یہ وہ دن ہے جب مجھے قبر میں تنہا اتار دیا جائے گا۔    (احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،الباب الثالث ۔۔۔الخ،ج۲، ص۲۶۴)

گریۂ عثما   نی

            حضرتِ  سیِّدُنا ذُوا لنُّورَین جامعُ الْقرآن عثمانِ غنی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ جب کسی قبر کے قریب کھڑے ہوتے تو اِس قدر روتے کہ آپ کی داڑھی مبارَک تَر ہو جاتی، اِس بارے میں آپ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے اِستِفسار کیا گیا کہ آپ جنّت و دوزخ کے تذکرہ پراتنا نہیں روتے مگر جب کسی قبر کے قریب کھڑے ہوتے ہیں تو اس قدر گریہ و زاری فرماتے ہیں اس کا کیا سبب ہے؟  حضرتِ  سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: میں نے سیِّدُ الْمُرسَلین، شفیعُ المُذْنِبِین، رحمۃٌ لِّلْعالَمِین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو فرماتے ہو ئے سنا ہے کہ ’’  بے شک آخِرت کی سب سے پہلی منزل قبر ہے، قبر والے نے اس سے نَجات پائی تو بعد کا مُعامَلہ آسان ہے اور اگر اِس سے نَجات نہ پائی تو بعد کامُعامَلہ زیادہ سخت ہے۔ ‘‘

(سنن ابن ماجہ،کتاب الزہد،باب ذکر القبروالبلی،الحدیث:۴۲۶۷،ج۴،ص۵۰۰)

سب سے ہولناک منظر

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  خدا کی قسم!  قبر کا اندرونی مُعاملہ انتہائی تشویش ناک ہے کوئی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا؟   اللہ     عَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب

Total Pages: 194

Go To