Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ذَرِیعے آخِرت کی تیاری کرو اوراِس لئے عطا نہیں فرمائی کہ تم اسی کے ہوکر رَہ جاؤ، بے شک دنیا مَحْض فانی اور آخِرت باقی ہے۔ تمہیں فانی (دنیا) کہیں بَہکا کر باقی (آخرت)سے غافِل نہ کر دے،فناہوجانے والی دنیا کو باقی رہنے والی آخِرت پرتَرجیح نہ دوکیونکہ دنیا مُنْقَطِع ہونے والی ہے اور بے شک   اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی طرف لَوٹنا ہے۔  اللہ          عَزَّوَجَلَّ   سے ڈرو کیونکہ اس کا ڈر اس کے عذاب کیلئے (رَوک اور) ڈھال اور اُس تک پہنچنے کا ذَرِیْعہ ہے۔ ‘‘ (الزہد و قصر الامل، ازہد الناس و اجود الناس، ص۶۱)

ہے یہ دنیا بے وفا آخِر فنا

نہ رہا اس میں گدا نہ بادشہ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  عقْل مند کو چاہئے کہ وہ اپنی گُزَشتہ زندگی کا جائزہ لے، اپنے گناہوں پر نادِم ہو کر ان سے سچّی توبہ کرے، زِیادہ دیر زِندہ رہنے کی اُمّید کے دھوکے میں نہ پڑے بلکہ قبرو آخِرت کی تیاری کے لئے فوراً نیک اَعمال میں لگ جائے، دَولت و مال اور اَہل وعِیال کی مَحَبَّت میں نہ نیکیاں چھوڑے نہ گناہوں میں پڑے کہ ان سب کا ساتھ تو دم بھر کاہے اور نیکیاں قَبْرو آخِرت بلکہ دنیامیں بھی کام آئیں گی۔ نیکیوں کا جذبہ پانے، دنیا کی محبت سے جان چھڑانے اور  اللہ           عَزَّوَجَلَّو رسول  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی محبت بڑھانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، سنّتوں کی تربیت کے لئے مدنی قا   فِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے اور کامیاب زندگی گزارنے اور آخِرت سنوارنے کیلئے مدنی انعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مدنی ماہ کی 10   تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمّے دار کو جمع کروایئے۔ آپ کی ترغیب کے لئے ایک مدنی بہار گوش گزار کرتا ہوں چنانچہ

            ایک مبلِّغِ دعوتِ اسلامی کا بیان ہے کہ جُمَادَ ی الاخریٰ   ۱۴۲۹؁ ھ، جون 2008؁ء میں ہمارا    مدنی قا    فِلہ اوکاڑہ (پنجاب ۔پاکستان) پہنچا۔ وہاں پر ایک بارِیش (یعنی داڑھی والے) عمر رسیدہ اسلامی بھائی سے میری مُلاقات ہوئی۔ ان کے سر پر سبز سبز عمامہ شریف اپنے جلوے لُٹا رہا تھا۔ دوران گفتگو انہوں نے انکشاف کیا کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں اپنے علاقے کا نامی گرامی بدمَعاش تھا ۔میں شراب کا ایسا رَسیا تھا کہ جب کہیں جاتا تو شراب کے کنستر میری گاڑی میں دھرے ہوتے ۔ میں اپنے ساتھ گن مین رکھتا اورخود بھی مُسلح رہتا تھا۔ میرے کالے کرتُوتوں کی وجہ سے لوگ مجھ سے اس قدر نفرت کرتے کہ میرے قریب سے گزرنا پسند نہ کرتے تھے۔

            میں  ’’  مدنی ماحول ‘‘  میں کیسے آیا، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہمارے عَلاقے میں نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے والے دعوتِ اسلامی کے مُبَلِّغین مجھے بھی نیکی کی دعوت دینے کے لئے آیا کرتے،مگر میں غفلت کی گہری وادیوں میں گم تھا اس لئے ان کی دعوت توجُّہ سے سننے کے بجائے ان کا ہاتھ پکڑ کر بولتا:  ’’ میرے ساتھ بیٹھ کر شراب پیو۔ ‘‘  اُن کو کبھی ڈانٹتا تو کبھی جھاڑتامگر وہ موقع پاکر پھر اِنفرادی کوشش کے لئے آجایا کرتے۔ یوں ایک طویل عرصہ وہ مجھ پر اِنفرادی   کوشش کرتے رہے اورمیں سُنی ان سُنی کرتا رہا۔ ایک روز میرے دل میں خیال آیا کہ یہ بے چارے اتنے عرصے سے مجھ پر کوششیں کر رہے ہیں کیوں نہ آج ان کی بات توجّہ سے سن لی جائے دیکھوں تو سہی آخر یہ کہتے کیا ہیں !  اب کی بار اسلامی بھائی  ’’ نیکی کی دعوت ‘‘  دینے آئے تو میں نے بڑی توجُّہ سے اُن کی دعوت سُنی   اللہ         عَزَّوَجَلَّ کی شان کہ ان کی دعوت میرے     دل میں اُتر گئی اور لَبَّیْک (یعنی میں حاضر ہوں ) کہتے ہوئے اُن کے ساتھ مسجد کی طرف چل دیا، غالباً ہوش سنبھالنے کے بعد زندگی میں پہلی بار میں مسجد کے اندر داخِل ہوا۔ عاشقانِ رسول کی صُحبت اور مسجِد میں ہونے والے سنّتوں بھرے بیان نے میرے دل کی کیفیّتکو بدل کر رکھ دیا۔ میں نے اسلامی بھائیوں کے پاس آنا جانا شروع کر دیا اور پھر سرکارِ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے سلسلے میں مرید بن گیا۔ مرید تو کیا ہوا میرے انداز بدلتے چلے گئے۔ میں نے سب گناہوں سے توبہ کرلی، شراب پینا چھوڑ دی، نَمازی بن گیا ،     سنَّت کے مطابِق داڑھی اور سر عمامہ شریف سے  ’’ سر سبز ‘‘  ہوگیا۔ لوگ میری اس تبدیلی پر حیران تھے۔ بعضوں کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس قدر بگڑا ہوا انسان بھلا کیسے سدھر سکتا ہے!  ایک روز عجیب چُٹکُلہ ہوا کہ دو اخباری نمائندے میرے قریب سے گزرے تو ایک نے میری طرف اشارہ کرکے دوسرے کو بتایا یہ وُہی شخص ہے، میرا تبدیل شدہ حُلیہ دیکھ کر دوسرے کو یقین نہ آیا اور اُس نے مجھ سے باقاعِدہ تصدیق کی کہ کیا آپ واقِعی  ’’ وہی ‘‘  ہیں ؟  میرے ہاں کرنے پر وہ دم بخود رہ گیا اور کہنے لگا کہ اپنی تبدیلی کا راز بتائیے ہم اخبار میں آپ کی خبر چھاپیں گے۔ مگر میں نے منع کردیا ۔

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّیہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرَکتیں ہیں کہ مجھ جیسا رُسوائے زمانہ انسان بھی صلوٰۃ وسنّت کی راہ پر چلنے لگا اور مُعاشرے کا ایک باعزت فرد بن گیا۔

اللہ      ! کر م ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں

اے دعوتِ اسلامی تری دُھوم مچی ہو

(غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۳۲) 

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی  فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔

              تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطفی جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،  نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

Total Pages: 194

Go To