Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔

          نبیِّ پاک ، صاحبِ لولاک،سیاحِ افلاک صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے:  ’’ جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے  مَحَبَّتکی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ۔  ‘‘ ( تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک ،  ج۹ ،  ص۳۴۳ )

لہٰذا بات چیت کے 12مدنی پھول قبول فرمائیے،(اس کتاب کے صفحہ نمبر 554سے بیان کریں )

٭٭٭٭٭٭

بیان نمبر3:

دنیا کی مَذَمَّت

          شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء     دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ’’ بیاناتِ عطاریہ ‘‘  (حصہ اوّل) صَفْحَہ 288 پر حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں کہ    اللہ     عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے مجھ پر دن بھر میں ایک ہزار مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا وہ اُس وقت تک نہیں مَرے گا جب تک جنت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الذکروالدعاء ، الترغیب فی اکثارالصلاۃ ۔۔۔الخ، الحدیث:۲۵۹۱، ج۲، ص۳۲۶)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

وِیران مَحَل

          حضرتِ  سَیِّدُنا جُنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی  بیان فرماتے ہیں کہ میرا ایک بار ُکوفہ جانا ہوا،وہاں ایک سرمایہ دار کے عالیشان مَحَل پر میری نَظَر پڑی جس سے عیش وتَنَعُّم خوب جَھلک رہاتھا، دروازے پر غُلاموں (نوکروں ) کا جُھرمَٹ تھااور دَرِیْچے میں ایک خو ش گُلو کنیز یہ نغمہ اَلاپ رہی تھی:

اَ لَا یَا دَارُ لا یَدْخُلْکِ حُزْنٌ                         وَ لا یَعْبَثْ بِسَاکِنِکِ الزَّمَانُ

            یعنی اے مکان!  تجھ میں کبھی غم نہ داخل ہو!  اور تیرے اندر رہنے والوں کو زمانہ کبھی بھی پامال نہ کرے۔

            کچھ عرصہ بعد میرا پھر اُس مَحَل سے گزر ہوا تو اُس کے دروازے پر سیاہی

چھا رہی تھی، نوکر چاکر غائِب تھے اور اُس وِیران مَحَل پر بَوسِیدَگی وشِکَستگی کے آثار نُمایاں تھے۔ زَبانِ حال ، مَرُورِ زمانہ کے ہاتھو ں اس کی ناپائیداری ظاہِر کررہی تھی۔ فنا کے قلم نے اُس کی دیواروں پر آرائش وزَیبائش کی جگہ بربادی وعبرت کو عبارت کر دیا تھا اور اب وہاں خوشی و مسرت کے بجائے فنا کی لَے میں رنج و وَحْشت کا نغمہ گونج رہا تھا۔

          میں نے اُس محَل کی وَحشت انگیز وِیرانی کے بارے میں دریافْتْ کیا تو معلوم ہوا کہ سرمایہ دار مرگیا، خُدّام رخصت ہوگئے،بھرا گھر اُجڑ گیا، عظیم الشّان مَحَل وِیران ہوگیا، جہاں ہر وقْت لوگوں کی آمَد ورَفْت سے رونق رَہتی تھی اب وَہاں سنّاٹا چھاگیا۔

              حضرتِ  جُنید بغدادی     عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں :’ ’میں نے اُس وِیران مَحَل کادروازہ کَھٹکَھٹایا تو ایک کنیزکی نَحِیف(یعنی کمزور) آوازآئی ،  میں نے اُس سے پوچھا: اِس محل کی شان وشوکت اوراس کی چمک دمک کہاں گئی؟  اس کی روشنیاں ،  اِس کے جگمگ جگمگ کر تے قمقمے کیا ہوئے؟  اور اِس میں بسنے والوں پر کیا بِیتی؟  میرے اِسْتِفْسار پر وہ بوڑھی کنیزاشکبار ہوگئی اور اس نے وِیران مَحَل کی داستانِ غم نِشان سنانا شروع کی اور کہا: اِس کے مکین (یعنی رہنے والے) عارِضی طور پر یہاں رہائش پذیر تھے، ان کی تقدیر نے ان کو       قصرسے قَبْر میں منتقل کردیا۔ اِس ویران مَحَل میں رہنے والے ہر فردِ خوش حال اوراس کے سارے اسباب ومال کو زَوَال لگ گیا،اور یہ کوئی نئی بات نہیں ،  دنیا کا تویِہی دستور ہے کہ جو بھی اس میں آتا اور خوشیوں کا گنج پاتا ہے باِلآخِر وہ موت کا رنج پاتا اور وِیران قبرِستان میں پَہُنچ جاتا ہے۔جو اِس دنیا سے وفا کرتا ہے یہ اُس کے ساتھ بے وَفائی ضرور کرتی ہے۔ میں نے اُس کنیز سے کہا: ایک بار میں یہاں سے گزرا تھا تواِس دَرِیچے میں ایک کنیز یہ نغمہ گارہی تھی:

اَ لَا یَا دَارُ لا یَدْخُلْکِ حُزْنٌ                                                                         وَ لا یَعْبَثْ بِسَاکِنِکِ الزَّمَانُ

            یعنی اے مکان!  تجھ میں کبھی غم نہ داخل ہو! اور تیرے اندر رہنے والوں  کو زمانہ کبھی بھی پامال نہ کرے۔

      وہ کنیز      بِلک بِلک کر رونے لگی اوربولی: وہ بد نصیب گُلوکارہ میں ہی ہوں ،  اِس وِیران مَحَل کے مَکینوں میں سے میرے سِوا اب کوئی زِندہ نہیں رہا۔ پھراُس نے ایک آہِ سرد دلِ پُردرد سے کھینچ کر کہا: افسوس ہے اُس پر جو یہ سب کچھ دیکھ کر بھی (فانی)        دنیا کے دھوکے میں مُبْتَلا رَہتے ہوئے اپنی موت سے غافِل ہوجائے ۔  

(روض الریاحین،الحکایۃ الرابعۃ عشرۃ بعد المئتین،ص۲۰۴)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عبرت ہی عبرت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  وِیران مَحَل کی حِکایت اپنے مَکِینَوں کے فَنا کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتَرنے کا کیسا عبرت ناک منظر پیش کر رہی ہے!  آہ!  وہ لوگ فانی دنیا کی آسائشوں کے باعِث مسرور وشاداں ،  زَوال و فنا سے بے خوف، مو ت کے تصور سے نا آشنا، لذّاتِ دنیا میں بد مست تھے۔اِس دارِ ناپائیدار میں یکایک موت سے ہمکَنار ہونے کے اَندیشے



Total Pages: 194

Go To