Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

الخیر،الحدیث ۲۶۷۹،ج۴،ص۳۰۵)

            ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ’’  جس نے ہدایت وبھلائی کی دعوت دی اسے اس بھلائی کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اوران کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی اورجس نے کسی کو گمراہی کی دعوت دی اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا اوران کے گناہوں میں کمی نہ ہوگی ۔ (صحیح مسلم،کتاب العلم،باب من سن سنۃ حسنۃ، الحدیث ۲۶۷۴،ص۱۴۳۸)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   ابھی دعا کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسجد سے باہر جاکر لوگوں کو نیکی کی دعوت پیش کی جائے گی اگر آپ بھی ہمارے ساتھ شرکت فرمائیں تو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  آپ کو ڈھیروں نیکیاں ملیں گی۔ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوتمیں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میری سیدھی جانب تشریف لے آئیں اور جو باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسجد میں بیٹھنے سے ڈھیروں نیکیاں حاصل ہوتی ہیں

اطمینان وسکون کا نزول

            چنانچہسرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰیعلیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے ارشاد

فرمایا:  ’’ جو قومکتاب اللّٰہ کی تلاوت کے لییاللّٰہ تعالٰی کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہواورایک دوسرے کے ساتھ درس کی تکرار کرے تو اُن پر (۱)سکینہ (اطمینان وسکون)نازل ہوتاہے (۲)رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے (۳)فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں (۴)اوراللّٰہ تعالٰیان کا ذکر فرشتوں کے سامنے فرماتاہے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الذکر والدعا۔۔۔الخ،باب فضل الاجتماع۔۔۔الخ،حدیث:۲۶۹۹،ص۱۴۴۷)

             اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔                                                                       اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامِینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

بیاناتِ مغرب

بیان نمبر1:

حِلْم وبُرْدْ باری

          شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت، بانیء       دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال  محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ’’ رسائل ِعطاریہ ‘‘  (حصہ دوم) کے صَفْحَہ 18 پر حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں کہپیارے آقا محمد مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ جسے یہ پسند ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں پیش ہوتے وقت    اللہ عَزَّوَجَلَّاُس سے را ضی ہو، اسے چاہئے مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھے۔ ‘‘  (فردوس الاخبار للدیلمی، الحدیث:۶۰۸۳،ج۲،ص۲۸۴)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                                                         صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  حلم وبردباری یعنی نرمی اختیار کرنے اورکوئی ہم پر ظلم وزیادتی کرے اس پر صبر کرنے کے فضائل قرآن وحدیث میں بے شمار بیان کئے گئے ہیں چنانچہ اللہ       عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ عظمت نشان ہے:

وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ۴،ال عمرٰن:۱۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللّٰہ کے محبوب ہیں ۔

            اس آیت ِمبارکہ کے تحت مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیتحریرفرماتے ہیں : ’’ اس آیت سے چند فائدے حاصل ہوئے  {1}  اللّٰہ تعالیٰ کے بندوں پر مہربانی کرنا بہترین عبادت ہے کہ رب تعالیٰ نے مُتَّقِینکی صِفَت میں پہلے اس کا ذکر کیا، شیخ سعدی  رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اگر خالق کی بخشش چاہتے ہو تو مخلوق سے بھلائی کرو {2} جن لوگوں کے ساتھ (حسنِ) سلوک کرنے سے نفس روکے ان سے (حسنِ) سلوک کرنا بڑی بہادری ہے {3} اپنے ذاتی معاملات میں لوگوں کو معافی دینا بہت محبوب ہے

 {4} جو خدا تعالیٰ کا محبوب بننا چاہے وہ نیک اعمال کرکے محسن بنے۔

بُرا ئی کے بدلے بھلائی

            تفسیر ِکبیر میں ہے کہ حضرت سیدنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں : ’’  احسان یہ نہیں کہ تو بھلائی کے عوض بھلائی کردے، یہ تو بدلہ چکانا ہے، احسان یہ ہے کہ جو تیرے ساتھ برائی کریں تو ان سے بھلائی کر۔ ‘‘  (التفسیر الکبیر، اٰلِ عِمْرٰن،تحت الآیۃ:۱۳۴،ج۳، ص۳۶۷)

            دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 743 صَفْحات پر مشتمل کتاب،  ’’  جنت میں لے جانے والے اعمال ‘‘  صَفْحَہ 559پر ہے:

عزت میں اضافہ

            حضرت ِ سیدنا ابو ہریرہ       رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ والا  تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پَروَرْدْگار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ صَدَقہ مال میں کچھ کمی نہیں کرتا اور  اللہ     عَزَّوَجَلَّ   بندے کے عفو ودرگزر سے کام لینے کی وجہ سے اسکی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے عاجزی



Total Pages: 194

Go To