Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ص۱۴۲)

                                                 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

بیان نمبر9:

نیکی کی دعوت

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ العَالِیَہاپنے رسالے  ’’ کفن چوروں کے انکشافات ‘‘ میں حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں کہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّکے محبوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ دلنشین ہے: ’’ جب جُمعرات کا دن آتا ہے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ     فِرشتوں کو بھیجتاہے جن کے پاس چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں وہ لکھتے ہیں ، کون یومِ جُمعرات اورشبِ جُمُعہ مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھتاہے۔                      (کنزالعمال،ج۱،ص۲۵۰،حدیث:۲۱۷۴)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          پیارے اسلامی بھائیو!   اَلْحَمْدُ  للّٰہ عَزَّوَجَلَّہم مسلمان ہیں اورمسلمان کا ہر کام  اللہ   عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی خوشنودی کے لئے ہونا چاہئے ۔ مگر بدقسمتی سے آج ہماری اکثریت نیکی کے راستے سے دور ہوتی جارہی ہے۔ شاید اسی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی پریشانیوں کاسامنا ہے۔ کوئی بیمار ہے تو کوئی قرضدار ،  کوئی گھریلو ناچاقیوں کا شکار ہے تو کوئی تنگدست و بے روزگار ،  کوئی اولاد کا طلبگار ہے تو کوئی نافرمان اولاد کی وجہ سے بیزار۔

            الغرض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے ۔ یقینا یہ سب پریشانیاں ہماری شامتِ اعمال کا نتیجہ ہیں ، نجات تمام جہانوں کے پالنے والے  اللہ  رَبُّ العٰلمینجَلَّ جَلالُہ کی اطاعت اور مؤمنین پر رحم و کرم فرمانے والے رسول کریم رؤ وف رحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی سنتوں کی اتباع میں ہے۔

بُرائی سے روکنے کا عظیم جذبہ

             اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں جن اعمال کے کرنے کا حکم فرمایا ان اعمال میں سے بہت ہی اہم ترین عمل نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا ہے۔ جو خوش نصیب اس عمل کو کرتے ہیں  اللہ  عَزَّوَجَلَّان کی کیسی مدد فرماتاہے جیسا کہ والی ٔ مصر احمد بن طولون بڑاہی سفاک اور خونریز بادشاہ تھا۔ مگر اسکے باوجود اس کو مقدمات میں ظالم ومظلوم کے درمیان عدل کرنے کا بڑاجذبہ تھا۔ ایک دن اس کا لڑکا عباس ایک گانے والی عورت کے ساتھ چلاجارہا تھا اور اس کا غلام ہاتھ میں ستار لئے جارہا تھا۔ ایک عالِمِ باعمل نے یہ منظر دیکھا تو ایک دم نیکی کی دعوت پیش کرنے کا عظیم جذبہ سینے میں بیدار ہوگیاغضب و جلال میں بے قرار ہوکر دوڑ پڑے اور غلام کے ہاتھ سے ستار چھین کر زمین پر اسطرح پٹخ دیا کہ وہ چور چور ہوکر بکھر گیا۔عباس نے غضب ناک ہوکر اپنے باپ احمد بن طولون کی کچہری میں اس حقانی عالم     رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ پر مقدمہ دائر کردیا جب یہ پیکر ِ علم وعمل کچہری میں پہنچا تو احمد بن طولون نے سوال کیا، کیا واقعی تم نے ستار کو توڑا ہے ؟  آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:  ’’ جی ہاں !   احمد بن طولون نے تیور بدل کر بڑے غصے میں پوچھا ،  کیا تمہیں علم تھاکہ وہ ستا ر کس کا ہے؟   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہنیفرمایا :جی ہاں !   وہ آپ ہی کے فرزند عباس کا تھا۔ احمد بن طولون نے پوچھا کہ پھر بھی تم نے میرے اعزاز کا کچھ بھی خیال نہیں رکھا؟  عالم صاحب نے نہایت ہی بے خوفی کے ساتھ جواب دیا عالیجاہ!  یہ کیوں کر ممکن ہو سکتاہے؟  کہ میں ایک گناہ ہوتے ہوئے دیکھوں اور آپ کے اعزاز کے خوف سے خاموش رہوں ۔ جبکہ  اللہ  عَزَّوَجَلَّ           َّ  کا فرمان عالیشانِ ہے :

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ(پ۱۰،التوبۃ:۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اور مسلمان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ،  بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں ۔

             میٹھے میٹھے مصطفی ، شبِ اسرا ء کے دولہا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا ارشاد مبارک ہے : ’’   اللہ    عَزَّوَجَلَّ   کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ ‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند علی بن أبی طالب، الحدیث:۱۰۹۵،ج۱،ص۶۷۸ )

            اس محترم عالم صاحب رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ حق نما تقریر تاثیر کا تیر بن کر احمد بن طولون کے دل میں پیوست ہوگئی ۔ ایک دم اُس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور اُس نے یہ کہہ دیا کہ میں آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو مجاز بناتاہوں کہ آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ پورے شہر میں جو بات بھی خلاف شرع دیکھیں اُس کو برباد اور تہس نہس کردیں ۔

غیر حق کے سامنے مومن کا سر جھکتا نہیں                        وہ طوفاں ہے پہاڑوں سے بھی جو رکتا نہیں

          پیارے اسلامی بھائیو!   اس حکایت سے ہمیں یہ درس ملا کہ اگر کوئی جذبۂ           اِخلاص کے ساتھ نیکی کی دعوت عام کرتا ہے تو  اللہ    عَزَّوَجَلَّاُس کے کلام میں ایسی تاثیر پیدا فرماتاہے کہ سامنے والے چاہے کتنے ہی سخت دل کیوں نہ ہوں اُن کے سخت دل بھی پگھل کر موم بن جاتے ہیں ۔ نیکی کی دعوت کی برکت سے  اللہ    عَزَّوَجَلَّاُن کے دلوں میں جوش ایمانی پیدا فرما دیتاہے ۔ اور وہ اسلامی بھائی جو پہلے مسجدوں کے قریب تک نہیں آتے تھے ،  نمازیں پڑھنے میں ان کا دل نہیں لگتا تھا۔

سنتوں پر عمل کرنے کا ان کو شوق تک نہیں ہوتا تھا ۔  اَلْحَمْدُ  للّٰہعَزَّوَجَلَّ  نیکی کی دعوت کی برکت سے ان کے اندر نمازوں کا بھی جذبہ پیدا ہوجاتا ہے اور سنتوں پر عمل کرنے کا ذہن بھی بن جاتاہے۔

          یاد رکھئے کہ اگر ہمارے نیکی کی دعوت دینے پر کوئی شخص گناہوں سے تائب ہوکر نمازی بن گیا ، سنتوں کا آئینہ دار بن گیا تووہ ہمارے لئے ثواب جاریہ کا عظیم ذریعہ بن جائے گا کیونکہ حدیث پاک میں ہے:ـ  ’’ اِنَّ الدَّالَّ عَلَی الْخَیْرِکَفَاعِلِہٖ۔ یعنی نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘  (سنن الترمذی،کتاب العلم، باب ماجاء الدال علی



Total Pages: 194

Go To