Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

بروزِ قیامت میری شَفاعت اسے پہنچ کر رہے گی۔  ‘‘  (الترغیب والترہیب ج۱ص۳۱۲ حدیث۹۹۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے بول کی بَرَکت

          خُراسان کے ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو خواب میں حکم ہواکہ  ’’  تاتاری قوم میں اسلام کی دعوت پیش کرو!  ‘‘  اُس وَقت ہلا کو خان کابیٹا تگودار خان بَرسر اِقتِدار تھا وہ بُزُرگ   رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسفر کر کے تگودار خان کے پاس تشریف لے آئے۔ سنّتوں کے پیکر بارِیش مسلمان مبلِّغ کو دیکھ کراسے مسخری سوجھی اور کہنے لگا:  ’’ میاں !  یہ تو بتا ؤ  تمہاری داڑھی کے با ل اچھے یا میرے کُتّے کی دم ؟  ‘‘  بات اگرچِہ غصّہ دلانے والی تھی مگرچونکہ وہ ایک سمجھدار مبلِّغ تھے لہٰذا نہایت نرمی کے ساتھ فرمانے لگے: ’’  میں بھی اپنے خالقِ ومالِک  اللہ    عَزَّوَجَلَّکاکتّا ہوں اگر جاں نثاری  اور وفاداری سے اسے خوش کرنے میں کامیاب ہوجاؤ ں تو میں اچّھا ورنہ آپ کے کُتّے کی دُم مجھ سے اچھی ہے جبکہ وہ آپ کا فرمانبردار و وفادار رہے ۔ ‘‘  چُونکہ وہ ایک باعمل مُبلِّغ تھے غیبت وچُغلی، عیب جوئی اور بد کلامی نیز فُضول گوئی وغیرہ سے دُور رہتے ہوئے اپنی زَبان ذِکرُاللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ سے ہمیشہ تَر رکھتے تھے لہٰذا ان کی زَبان سے نکلے ہوئے  میٹھے بول تا ثیر کا تیر بن کر تگودار خان کے دل میں پَیوَست ہو گئے کہ جب اس نے اپنے  ’’ زہریلے کانٹے ‘‘  کے جواب میں اس باعمل مبلِّغ کی طرف سے  ’’ خوشبودار مدنی پھول ‘‘  پایا توپانی پانی ہوگیا اور نرمی سے بولا: آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہمیرے مہمان ہیں میرے ہی یہاں قِیام فرمایئے!  چُنانچِہ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس کے پاس مُقیم ہوگئے۔ تگودار خان روزانہ رات آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضِر ہوتا، آپ  رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نہایت ہی شفقت کے ساتھ اسے نیکی کی دعوت پیش کرتے۔آپ کی سَعیِ پیہم نے تگودار خان کے دل میں مدنی انقِلاب بر پا کردیا!  وہی تگودار خان جو کل تک اسلام کو صَفْحَۂ ہستی سے مٹانے کے درپے تھا آج اسلام کا شیدائی بن چکا تھا۔ اسی باعمل مبلِّغکے ہاتھوں تگودار خان اپنی پوری تاتاری قوم سمیت مسلمان ہوگیا۔ اس کا اسلامی نام  ’’ احمد ‘‘  رکھا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک مبلِّغ کے میٹھے بول کی بَرَ کت سے وسط ایشیا کی خونخوار تاتاری سلطنت اسلامی حکومت سے بدل گئی ۔(بیانات عطاریہ،حصہ۳،ص۳۸۸)اللہ  عَزَّوَجَلَّ  َ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو!

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے ؟  مبلّغ ہو تو ایسا!  اگر تگودار کے تیکھے جملے پروہ بُزُرگ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  غصّے میں آجاتے تو ہر گز یہ مدنی نتائج برآمد نہ ہوتے، لہٰذا ایسے موقعوں پر ہمیں اپنے آپ پر خوب قابو رکھنا چاہیے اور جب بھی نیکی کی دعوت پیش کریں پیار ومحبت بھرا  انداز ہونا چاہیے۔

          نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے روکنے کی فضیلتیں اور برکتیں بے شمار ہیں ۔ قرآنِ پاک میں  اللہ    عَزَّوَجَلَّنے نیکی کی دعوت دینے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳) (پ۲۴،حٰمٓ السجدۃ:۳۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللّٰہ کی طرف بُلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں ۔

         سرکارِ دو عالم،نُورِمجَسَّم ،  شَہَنشاہِ اُمم،محبوبِ ربِّ اکرم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’   اللہ   عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگراللّٰہ تعالٰی تمہارے ذَرِیعے کسی ایک کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لئے سُرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن ابی طالب،الحدیث:۲۴۰۶،ص۱۳۱۱)

                چونکہ نیکی کی دعوت دینے اوربُرائی سے منع کرنے والوں کے بے شمار فضائل وبَرَکات ہیں ، حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ  ’’ جو قدم راہ خدا  میں خاک  آ لود ہونگے ان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ‘‘   (المسند للامام احمد بن حنبل ،  حدیث ابی عبس، الحدیث ۱۵۹۳۵،ج۵، ص۳۹۶)

          ابھی دعا کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسجد سے باہر جاکر نیکی کی دعوتپیش کی جائے گی،چونکہ نیکی کی دعوت دینے والوں کا ساتھ دینا بھی عظیم نیکی ہے، لہٰذا آپ بھی ہمارے ساتھ اس نیک کام میں تعاون فرمائیں اور علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت فرمائیں اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ۔ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ درس و بیان کے ثواب کا بھی کیا کہنا !

جنَّت کی بشارت

          سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ جو شخص میری اُمت تک کوئی اسلامی بات پہنچائے تاکہ اس سے سُنت قائم کی جائے یا اُس سے بدمذہبی دُور کی جائے تو وہ جنتی ہے ۔  ‘‘ (حلیۃ الاولیاء ج۱۰ص۴۵ حدیث۱۴۴۶۶)

           اللہ    عَزَّوَجَلَّہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔  اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

بیان نمبر8:

نیکی کی دعوت

            شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ العَالِیَہ  ’’  رسائل ِعطاریہ ‘‘  (حصہ دوم) کے صَفْحَہ 15 پر حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں :  ’’   اللہ    عَزَّوَجَلَّکی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مُصَافَحَہ کریں اور نبی (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پر درود پاک بھیجیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘  (مسند ابی یعلٰی، مسند انس بن مالک، الحدیث:۲۹۵۱،ج۳،ص۹۵)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 194

Go To