Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

             ’’ جب تم آج اس دُنیوی تَوے پر کھڑے ہوکر صِرف ایک وقت کے کھانے کا حساب نہیں دے سکتے تو کل بروزِ قِیامت تم میں کونسی کرامت پیدا ہو جائے گی کہ آگ کی زمین پر کھڑے ہوکر زِندَگی بھر کی نعمتوں کا حساب چُکاؤ  گے! ‘‘ یہ رِقّت انگیز بیان سن کر لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے او ر گناہوں سے توبہ کرنے لگے۔ (مُلخّصاًتذکرۃ الاولیاء  الجزء الاول ص۲۲۲)

صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب

بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی کو نیکی کی دعوت دینا یقینا ہمارے لئے دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ۔جیسا کہ سرورِ عالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  اللہ    عَزَّوَجَلَّکے ذکر اورنیکی کی دعوت کے سوا بنی آدم کے ہر کلام کے بارے میں اس کی پر سش کی جائے گی ۔ ‘‘ (الترمذی ،  کتاب الزھد ،   رقم الحدیث۲۴۲۰، ج۴، ص۱۸۵)

نیکی کی دعوت دینا صدقہ ہے

            حضرت ِ سیدنا ابوذر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن،شَفِیْعُ المُذْنِبِین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے عرض کیا:یارسولَ اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !  مال دار لوگ اجر لے گئے حالانکہ وہ بھی ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں ؟  ‘‘  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’  کیا  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  نے تمہارے لئے کوئی ایسی چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کر سکو ؟  بیشک ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر تکبیر صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور اَمْربِالْمَعْرُوْف(یعنی نیکی کی دعوت دینا) صدقہ ہے اور نَہْی عَنِ الْمُنْکَر(یعنی برائی سے منع کرنا )صدقہ ہے۔ ‘‘   (صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ، باب بیان اسم الصدقۃ، رقم ۱۰۰۶ ، ص ۵۰۳)

نیک لوگوں کی ہلاکت کی وجہ

 اللّٰہ تعالٰینے حضرتِ  سیِّدُنا یوشع بن نون عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے ایک لاکھ آدمی عذاب سے ہلاک کئے جائیں گے جن میں چالیس ہزار نیک لوگ ہیں اور ساٹھ ہزار بد عمل۔آپ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی:یا رب عَزَّوَجَلَّ!  بدکرداروں کی ہلاکت کی وجہ تو ظاہر ہے لیکن نیک لوگوں کیوں ہلاک کیا جا رہا ہے ؟  ارشاد فرمایا:  ’’  یہ نیک لوگ بھی ان بد کرداروں کے ساتھ کھاتے اور پیتے تھے۔ میری نافرمانیاں اور گناہ دیکھ کر کبھی ان کے چہروں پر ناگواری کا اثر تک نہ آیا۔ ‘‘  (شعب الایمان ج۷ ص۵۳ رقم۹۴۲۸)

کیا ہم  ناگواری محسوس کرتے ہیں ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اپنے ضمیر سے سوال کیجئے کہ کسی کو گناہ کرتا دیکھ کر کتنی ناگوار ی محسوس کی ،  بچوں کی امّی کھانا پکانے میں تاخیر کردے ،  کھانے میں نمک تیز ہوجائے ، بیٹا اسکول سے چھٹی کر لے توناگوارگزرے لیکن گھر والوں کی روزانہ پانچوں نمازیں قضا ہورہی ہوں تو ہمارے ماتھے پر بل نہ آئے ۔ ہم انہیں سمجھانے کی کوئی کوشش نہ کریں ، آپ ہی کہیے کیا یہ روش درست ہے ؟

مالک بن دینار علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الغَفَّار کی فکر مندی

حضرتِ  سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الغَفَّار فرماتے ہیں :  ’’ ہم نے دنیا کی محبت پر آپس میں صلح کرلی ، پس ہم آپس میں نیکی کی دعوت نہیں دیتے اور نہ ایک دوسرے کو بُرائیوں سے منع کرتے ہیں ،   اللہ     عَزَّوَجَلَّہمیں اِس حال پر نہ رکھے ورنہ نہ جانے ہم پر کون سا عذاب نازل کیا جائے۔ ‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۹۷ رقم۷۵۹۶)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہمیں اپنا ذہن بنانا چاہیے کہ ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے          ‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ۔ ابھی دعا کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّمسجد سے باہر جاکر نیکی کی دعوت پیش کی جائے گی آپ بھی ہمارے ساتھ شرکت فرمائیں ۔   اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّڈھیروں نیکیاں حاصل ہوں گی، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میری سیدھی جانب تشریف لے آئیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ۔ درس و بیان کے ثواب کا بھی کیا کہنا !

قبر کی روشنی

          حضرتِ  علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی  ’’  شَرحُ الصُّدور ‘‘ میں نقل کرتے ہیں ،  اللّٰہ     تَبارَکَ وَتَعالٰینے حضرتِ  سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی طرف وحی فرمائی:  ’’ بھلائی کی باتیں خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ ، میں بھلائی سیکھنے اور سکھانے والوں کی قبروں کو روشن فرماؤں گا تاکہ ان کو کسی قسم کی وَحشت نہ ہو۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء،۳۲۵-کعب الاحبار،الحدیث:۷۶۲۲،ج۶،ص۵)

                                                 اللہ     عَزَّوَجَلہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  

٭٭٭٭٭

بیان نمبر7:

نیکی کی دعوت

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء      دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال  محمد الیاس عطار قادری رضوی     دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ          ’’ باحیا نوجوان  ‘‘  میں بیان فرماتے ہیں کہ حضرتِ  سیِّدنا ابو دَرداء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے : میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  جو شَخص صبح وشام مجھ پر دس دس بار درُود شریف پڑھے گا



Total Pages: 194

Go To