Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

جبرئیلعَلیہ السلامنے عرض کی: اے رب  عَزَّوَجَلَّ!  ان لوگوں میں تیرا ایک فلاں نیک بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کی مقدار بھی تیری نافرمانی نہیں کی۔  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  َ  نے فرمایا : ’’  شہر ان پر اُلٹ دو کیونکہ اس کا چہرہ میری نافرمانیاں دیکھ کر کبھی متغیر نہیں ہوا۔ ‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۹۷ حدیث۷۵۹۵)

            اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں اعمالِ صالحہ سے تعلق اور برائیوں سے اجتناب ضروری ہے وہاں دین و ملت کے خلاف سازشوں اور مسلمانوں پر ظلم و ستم نیز معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے پریشان ہونا بھی ایمان کا تقاضا ہے جو لوگ اللّٰہ تعالٰیکی رضا جوئی کی خاطر معاشرتی برائیوں کے اِزالے کے لیے کوشاں نہیں رہتے اور عدمِ طاقت کی صورت میں اس پر پریشان بھی نہیں ہوتے ان کا تقویٰ کس کام کا!  لہٰذا اپنی اصلاح اور عبادتِ خداوندی میں مشغولیت کے ساتھ ساتھ ملک و ملت اور مسلمانان عالم کی زبوں حالی کے خاتمے اور معاشرے کو غیر شرعی حرکات و سکنات سے پاک کرنے کے لیے کوشاں رہنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔(مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۵۱۶ )

نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لئے ہر اسلامی بھائی اپنا یہ ذہن بنائے کہ ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  ابھی دعا کے بعد َمسجد سے باہر جاکر نیکی کی دعوت پیش کی جائے گی آپ بھی ہمارے ساتھ شرکت فرمائیں اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ڈھیروں نیکیاں حاصل ہوں گی۔علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میرے سیدھے ہاتھ کی طرف تشریف لے آ ئیں  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ درس و بیان کے ثواب کا بھی کیا کہنا !

جنت کی کیاریاں

            حضرت ِسیدنا ابن عباسرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم اسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمان عالیشان ہے:  ’’  جب تم جنت کی کیاریوں سے گزراکرو تو اس میں سے کچھ پھول چن لیا کرو۔ ‘‘  صحابہ کرام علیھم الرضوان  نے عرض کیا: ـ ’’ یارسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْکَ وَسلَّم !  جنت کی کیاریاں کونسی ہیں ؟  ‘‘ فرمایا، ’’  علم کی محفلیں ۔ ‘‘ ( طبرانی کبیر ،  رقم: ۱۱۱۵۸، ج ۱۱ ،  ص ۷۸ )

        اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

بیان نمبر6:

نیکی کی دعوت

          شیخ ِطریقت، امیراہلسنّت، بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلا ل محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’  جنتی محل کا سودا ‘‘ میں درود شریف کے متعلق حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ شاہِ بحر وبر، مدینے کے تاجور، رسولِ انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ بخشش نشان ہے :  ’’  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مُصَافَحَہ کریں اور نبی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر درُودِ پاک بھیجیں تو اُن کے جُدا  ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔ ‘‘  (مسند ابی یعلٰی، مسند انس بن مالک، الحدیث:۲۹۵۱،ج۳،ص۹۵)

َصلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ               صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تین مَد َنی فیسیں

          حضرتِ  سَیِّدُنا حَاتِمِ اَصَمّ   عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم کو ایک امیر شخص نے دعوتِ طَعَام دی ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہنے انکار فرمادیالیکن وہ شخص نہ مانا جب اُسکا اِصرار بڑھا تو آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ اگر تُومیری یہ تین شرطیں مانے تو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آؤ  نگا(۱) میں جہاں چاہوں گا بیٹھوں گا(۲)جو چاہونگا کھاؤ ں گا (۳)جو کہوں گا وہ تمہیں کرنا پڑیگا۔ ‘‘ اُس مالدار نے وہ تینوں شرطیں منظور کرلیں ۔ وَلِیُّ اللّٰہ کی زیارت کیلئے بَہُت سارے لوگ جمع ہوگئے ، پُر تکَلُّف طعام کا اہتمام تھا۔وقتِ مقرّرہ پر حضرت بھی تشریف لے آئے اور آتے ہی جہاں جوتے پڑے تھے وہیں تشریف فرماہو گئے ۔چُونکہ شرط تھی  ’’ جہاں چاہونگا بیٹھونگا،‘‘  لہٰذا میزبان نے کچھ نہ کہا۔ کچھ دیر بعد کھانا شروع ہوا ، لوگوں نے مرغِ مُسلَّم پر ہاتھ صاف کرنے شروع کردیئے لیکن ولیُّ اللّٰہ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی جھولی میں ہاتھ ڈال کر سوکھی روٹی کا ٹکڑا نکالا اور تناوُل فرمانے لگے۔جب طَعَام کا سلسلہ خَتْم ہوا تو آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے میزبان سے فرمایا : ’’ انگیٹھی (یعنی چُولہا)  لاؤ  اور اس پر تَوَا رکھو، ‘‘  حکم کی تعمیل ہوئی،جب آگ کی تَپَش سے تَوا  سُرخ انگارہ بن گیا تو آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ننگے پاؤ ں اُس پر کھڑے ہوگئے۔ لوگوں کی آنکھیں حیرت کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ اب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’  میں نے آج کے کھانے میں سُوکھی روٹی کھائی ہے ‘‘ یہ فرما کر تَوَے سے نیچے اُتر آئے اور حاضِرین سے فرمایا : ’’  اب آپ حضرات اِس تَوے پر کھڑے ہوکرجو کچھ کھایا ہے اسکا باری باری حساب دیجئے۔ ‘‘ یکبارگی لوگوں کی چیخیں نکل گئیں  بَیَک زَبان بول اُٹھے:یاسیِّدی! آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ تووَلِیُّاللّٰہ ہیں اور یہ آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کرامت ہے ، کہاں یہ گرم گرم تَوَا اور کہاں ہمارے نازُک قدم!  ہم تو گناہگار، دنیا دار لوگ ہیں ،  ‘‘  آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:  ’’ اے لوگو! اُس وقت کو یاد کروجب سورج صِرف ایک میل دُور ہوگا، آج سورج  ہم سے کروڑوں میل دور ہے ، اِسوقت سورج کا پچھلا رُخ ہماری طرف ہے جبکہ اُس وقت اُس کا اگلا رُخ ہماری جانِب ہوگا،زمین آگ کی ہوگی ، اُس آگ کی زمین پر غور کرو اور اِس گرم تَوے کے بارے میں سوچو! یہ تَوا جو دُنیوی آگ میں گرم ہوا ہے اِسکی تَپَش خدا کی قسم!  اس آگ کی زمین کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔اس آگ کی زمین پر تمہیں کھڑا ہونا پڑیگا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

 { ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)} (پ۳۰ التکاثر:۸)

ترجَمۂ کنزالایمان :پھر بے شک ضَرور اُس دن تم سے نعمتوں سے پُرسِش ہوگی۔

 



Total Pages: 194

Go To