Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

والعالم،الحدیث:۳۲۶،ج۱، ص۱۰۷)

(7)     حضرتِ  سیدنا ابو اُمامہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنبی کریم،رؤوفُ رَّحیمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کرتے ہیں ،  آپصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’ عنقریب فتنے ہوں گے صبح انسان مومن ہوگا اورشام کوکافر سوائے اس شخص کے جسے اللّٰہ تعالٰینے علم کے ساتھ زندہ رکھا۔  ‘‘  (المرجع السابق ،  الحدیث: ۳۳۸،ج۱، ص ۱۰۹)

(8)     حضرت سیدناابو ہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ میں شب قدر میں شبِ بیداری کرنے سے زیادہ یہ پسند کرتاہوں کہ ایک ساعت دین کے مسائل سیکھنے کے لیے بیٹھوں ۔ ‘‘  (الترغیب والترھیب،کتاب العلم،الترغیب فی العلم۔۔۔إلخ، الحدیث:۳۸،ج۱،ص۵۸)

اقوالِ بزرگان د ین رَحِمَھُم اللّٰہُ تَعالٰی

(1)    حضرت سیدناابو عبدالرحمن حُبُلیرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ  ’’  تو اپنے بھائی کو جو کلمۂ حکمت تحفے میں دے اس سے افضل کوئی تحفہ نہیں ۔ ‘‘ (سنن دارمی،المقدمہ،باب فضل العلم والعالم،الحدیث:۳۵۱،ج۱،ص۱۱۲)

(2)   حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ جو شخص علم حاصل کرنے کیلئے صبح وشام سفر کو جہاد نہیں سمجھتا اس کی عقل اوررائے ناقص ہے ۔ ‘‘ (جامع بیان العلم و فضلہ،باب تفضیل العلماء علی الشھدائ، رقم: ۱۴۳،ص۴۹)

(3)   حضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’  میں مدینہ منورہ سے شام کا سفر۳۰ دن میں کرکے پہنچا ایک حدیث شریف سننے کیلئے ۔ ‘‘ (اُسُدُ الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،عبداللّٰہ بن اُنَیس،ج۳،ص۱۷۸)

(4)   امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’  جب تک قبر میں نہ چلا جاؤ ں علم حاصل کرنا نہ چھوڑوں گا۔ ‘‘

واقعات

(1)    امام بخاری     رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکے والد بہت بڑے سرمایہ دار تھے، امام بخاری رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ان کا دیا ہوا سارا مال طلبِ حدیث میں صرف کرڈالا۔

(2)    حضرت امام یحییٰ بن معین رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے علمِ دین کی طلب میں اپنا کل سرمایہ ۸۰ ہزار دینار بھی صرف کرڈالا یہاں تک کہ جوتا تک نہ خرید پائے اور ننگے پیر چلتے تھے۔

(3)   حضرت عبداللّٰہبن مبارک  رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے علمِ دین کی راہ میں اپنی پونجی یعنی چالیس ۴۰ہزار دینار صرف کرڈالے ۔سرکار ِمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ جس نے کسی کی صحبت اختیار کی اگرچہ لمحہ بھرکے لیے ہو، بروزِ قیامت سوال ہوگا کہ اس میں  اللہ  عَزَّوَجَلَّکا حق قائم کیا یا اسے ضائع کردیا ۔ ‘‘ (احیاء العلوم،کتاب اداب الالفۃ...الخ ،  الباب الثانی فی حقوق الاخوہ۔۔۔الخ ج۲، ص۲۱۸)

 ٭٭٭٭٭

 (3) 31 فرامینِ امیر اہلسنَّت  مَدَّ ظِلُّہ ُالْعَالی

            بانیٔ دعوتِ اسلامی ، مرشدِ گرامی امیر اہلسنت شیخِ طریقت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار ؔقادری دامَت برکاتُہُمُ العالِیَہ فرماتے ہیں :

(1)     دعوت ِ اسلامی کی بقاء مدنی قافلوں میں ہے۔

(2)     مدنی قافلے دعوتِ اسلامی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

(3)     ہر اسلامی بھائی زندگی میں یکمشت ۱۲ماہ اور ہر ۱۲ما ہ میں ایک ماہ اور عمر بھر ہر ماہ ۳ دن کے مدنی قافلوں میں سفرکرے اور اس سفر کے معمول کو اپنے اوپر نافذ کرکے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔

(4)    ایک ماہ کے مدنی قافلوں کی کامیابی کیلئے ذمہ داران کا سفر بے حد ضروری ہے۔

(5)    مجھے ایسے ذمہ داران چاہئیں جومدنی قافلوں میں سفر کرنے والے ہوں ۔

(6)    میراپسندیدہ اسلامی بھائی وہ ہے جولاکھ سستی ہو مگر تین دن مدنی قافلے میں سفر کرتاہو ، جو داڑھی اور زلفوں سے آراستہ اور سنت کے مطابق مدنی لباس وعمامہ شریف سے مزیّن ہو ۔ مجھے کماؤ  بیٹے پسند ہیں (یعنی جومدنی قافلے میں سفر اور مدنی انعامات پر عمل کرتے ہوں ) ۔

(7)     مدنی قافلے میں سفرکے بغیرکوئی بھی دعوتِ اسلامی والامیرا پسندیدہ نہیں بن سکتا۔

(8)    میر ی نظر میں حقیقی معنوں میں دعوتِ اسلامی والا وہ ہے جو کم از کم ان پانچ مدنی انعامات کا عامل ہو:

     (۱)ہر ماہ پابندی سے ۳دن مدنی قافلے میں سفر کرتا ہو ۔(تین دن کے مدنی قافلے کا مسافر وہ مانا جائے گا جویہ تین دن مکمل جدول کے مطابق گزارتا ہو)

     (۲) ہفتہ وار اجتماع میں اول تا آخر شرکت کرتا ہو۔

     (۳) ہر ہفتے عَلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں اول تا آخرشرکت کرتا ہو۔

    (۴) روزانہ فکر مدینہ کرتے ہوئے مدنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مدنی ماہ کی یکم تاریخ کو اپنے ذم



Total Pages: 194

Go To