Book Name:Main Naik kesay bana?

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

    پہلے اسے پڑھ لیجئے!

          اِس پُر فِتن دور (یعنی پندرھویں صدی ہجری)میں کہ جب دُنیا بھر میں گناہوں کی یلغار، T.VاورV.C.R   پر فلموں ڈِراموں کی بھر مار اور فیشن پرستی کی پھٹکار مسلمانوں کی اکثریت کو بے عمل بناچکی تھی، نیز علمِ دین سے بے رغبتی اور ہر خاص و عام کارُجحان صرف دُنیاوی تعلیم کی طرف ہونے اوردینی مسائل سے نا واقفیت کی بنا پر ہر طرف جہالت کے بادل منڈلا رہے تھے، غیرمسلم قوتیں مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو بگاڑنے کی ناپاک سازشیں کر چکی تھیں ، مساجد کا تقدُّس پامال کیا جارہا تھا ، لادینیت و بدمذہبیت کا سیلاب ٹھا ٹھیں مار رہا تھا، ہر دوسراگھر سینما گھر بنتا چلا جارہا تھا، مسلمان موسیقی ،شراب اور جوئے کا عادی ہوکر تیزی کے ساتھ بد اَخلاقی کے عمیق گڑھے میں گرتا جا رہا تھا، گلشنِ اسلام میں خَزاں ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی، اِن نازُک حالات میں اللہ   عَزَّوَجَلَّ نے اپنے ایک ’’ولیِٔ کامل‘‘ کواُمّتِ محمدیہ کی اِصلاح کے لئے منتخب فرمایا ، جنہیں دُنیا’’ امیرِاَہلسنّت‘‘(دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ) کے نام سے پکارتی ہے۔

        شَیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت ،بانیِٔ دعوتِ اسلامی ،حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   وہ یادگار سَلَف شخصیت ہیں جو کہ کثیرُالکرامات بُزُرگ ہونے کے ساتھ ساتھ عِلماً و عَمَلاً، قولاً و فِعلاً ، ظاہِراًو باطِناً اَحکاماتِ الہٰیہ کی بجاآوری اور سُنَنِ نَبَوِیَّہ کی پَیرَوی کرنے اور کروانے کی بھی روشن نظیر ہیں ۔ آپ اپنے بیانات ،تالیفات، ملفوظات اورمکتوبات کے ذریعے اپنے متعلقین و دیگر مسلمانوں کو اصلاحِ اعمال کی تلقین فرماتے رہتے ہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ آپ کے قابلِ تقلید مثالی کردار اور تابع شَرِیْعت بے لاگ گُفتار نے ساری دُنیا میں لاکھوں مسلمانوں بالخُصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب بَرپا کردیا ہے۔

        قبلہ شیخِ طریقت ،امیرِ اَہلسنّت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی ، حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے نیکی کی دعوت عام کرنے کی ذِمَّہ داری مَحسوس کرتے ہوئے ایک ایک اسلامی بھائی پر اِنفرادی کوشش کر کے مسلمانوں کو عَمَلی طور پر سنّتیں اپنانے کی طرف راغب کرنا شروع کردیا،یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے آپ نے ’’دعوتِ اسلامی‘‘ جیسی عظیم اورعالمگیر تحریک کے مَدَنی کام کا آغاز فرما دیا۔الغرض جہاں امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے دیگر کئی مدنی کاموں کے ذریعے نیکی کی دعوت کو عام کیا اسی طرح اَلْحَمْدُلِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ آپ نے سُنّتِ اِعتکاف پر عمل کرنے اور کروانے کا بھی ذِہن دیا ہے۔

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رَمَضانُ المُبارَک کی بَرَکتوں کے کیا کہنے ! یوں تواس کی ہرہرگھڑی رَحمت بَھری اورہرہرساعت اپنے جِلَومیں بے پایاں بَرَکتیں لئے ہوئے ہے۔ مگراس ماہِ مُحْتَرَم میں شبِ قَدْرسب سے زیادہ اَہمیت کی حامِل ہے۔اسے پانے کے لئے ہمارے پیارے آقا،مدینے والے مصطَفٰے صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ماہِ رَمَضان کاپورامہینہ بھی اعتِکاف فرمایاہے اورآخِری دس دن کابَہُت زیادہ اہتِمام تھا۔یہاں تک کہ ایک بار کسی خاص عُذْرکے تَحت’’آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رَمَضانُ الْمبارَک میں اعتِکاف نہ کرسکے توشَوّالُ الْمکرَّمکے آخِری عَشرہ میں اعتِکاف فرمایا۔‘‘ (صَحِیح بُخارِی ج۱ ص ۶۷۱حدیث۲۰۳۱ دار الکتب العلمیۃ بیروت) ’’ایک مرتبہ سفرکی وَجہ سے آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اعتِکاف رہ گیاتواگلے رَمَضان شریف میں بیس دن کااعتِکاف فرمایا۔‘‘ (سُنَن ترمِذی ج۲ ص۲۱۲حدیث۸۰۳ دارالفکر بیروت)

       اَلْحَمْدُلِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ دُنیا کے مختلف ممالِک کے جُدا جُداشہروں میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی کی جانب سے ہونے والے  اِجتِماعی اِعتِکاف میں کی جانے والی مُعتکفین کی تربیّت سے ہر سال مُعاشَرہ کے نہ جانے کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد گناہوں سے تائب ہو کر  اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے کا جذبہ لے کر اٹھتے ہیں اپنی اور دوسروں کی اِصلاح کی کوششوں میں مشغول ہو جاتے ہیں ، نیز کئی مُعْتَکِفِین  چاند رات ہی سے عاشقانِ رسُول کے ساتھ سُنّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافِلوں کے مسافِر بن جاتے ہیں ۔ بعض اوقات ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی عنایات سے اِیمان افروزواقِعات کابھی ظُہُور ہوتا ہے مثلاًمریضوں کو شفا ملی ، بے اولادوں کو اولاد نصیب ہوئی ، آسیب زدہ کو خَلاصی ملی ، وغیرہا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِعتکاف کی متعدّد بہاریں ہیں ،یہ رِسالہ ’’اِعتکاف کی مدنی بہاریں ‘‘ حصّہ اوّل ’’میں نیک کیسے بنا؟ ‘‘کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔جبکہ سینکڑوں بہاریں ترتیب کے مرحلے میں ہیں ۔

         ہمیں چاہئیے کہ اِس رِسالے کو پڑھنے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرلیں ،نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان



Total Pages: 8

Go To