Book Name:Faisla karnay kay Madani Phool

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیصلہ کرنے کے مدنی  پھول[1]

درود شریف کی فضیلت

مدینے کے سلطان، رَحمتِ عالَمِیان، سروَرِ ذیشانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنَّت نشان ہے : ’’جو مجھ پر جمعہ کے دن اور رات 100 مرتبہ دُرُود شریف پڑھے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے گا، 70 آخرت کی اور 30 دُنیا کی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ ایک فِرِشتہ مقرر فرما دے گا جو اُس دُرُودِ پاک کو میری قبر میں یوں پہنچائے گا جیسے تمہیں تحائف پیش کئے جاتے ہیں، بِلاشبہ میرا علم میرے وِصال کے بعد وَیسا ہی ہوگا جیسا میری حیات میں ہے ۔ ‘‘ (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ، الحدیث۲۲۳۵۵، ج۷، ص۱۹۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ

حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایک لشکر حضرتِ سَیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سربراہی میں روانہ فرمایا جس میں حضرتِ سَیِّدُنا عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی شریک تھے ۔ جن لوگوں سے جہاد کرنا تھا جب ان کا علاقہ قریب آیا تو رات ہو جانے کے سبب لشکر ٹھہر گیا اور ذُو الْعُیَیْنَتَیْن نامی ایک شخص نے جا کر قومِ کفار کو اسلامی لشکر کے حملے کی خبر دیدی ۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کے حملے سے آگاہ ہوتے ہی راتوں رات اپنا مال و متاع اور اہل و عیال لے کر بھاگ کھڑے ہوئے مگر ایک شخص نہ بھاگا بلکہ اپنا سامان اور بال بچوں کو جمع کیا اور بھاگنے سے پہلے چھپ کر لشکر ِ اسلام میں آیا، یہاں آ کر حضرتِ سَیِّدُنا عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے متعلق پوچھا اور جب ان سے ملاقات ہوئی تو عرض کی کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہاللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی قوم حملے کی خبر پا کر بھاگ گئی ہے اور یہاں صرف وہی رہ گیا ہے اور کیا اس کا اسلام لانا کچھ مفید ہو گا؟ اگر اس کی جان اور مال محفوظ رہے تو یہاں ٹھہرا رہے ورنہ وہ بھی بھاگ جائے ۔ تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ تمہارا ایمان ضرور تمہیں نفع دے گا، تم اطمینان سے رہو،  میں تمہیں امان دیتا ہوں ۔ وہ شخص مطمئن ہو کر لوٹ گیا اور صبح کو جب لشکر ِ اسلام نے اس بستی پر حملہ کیا تو دیکھا کہ سوائے ایک گھر کے باقی سارے خالی پڑے ہیں ۔ حضرتِ سَیِّدُنا خالد بن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس شخص کو بال بچوں سمیت قید کر لیا اور اس کے مال پر بھی قبضہ کر لیا، حضرت سَیِّدُنا عماررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ حضرت سَیِّدُنا خالد بن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اسے چھوڑ دیں میں اسے امان دے چکا ہوں اور یہ مسلمان بھی ہو چکا ہے ۔ حضرت سَیِّدُنا خالدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں لشکر کا امیر ہوں آپ کو امان دینے کا کیا حق تھا؟

اس پر ان دونوں ہستیوں میں شکر رنجی (معمولی سی رنجش) ہو گئی، اس حال میں یہ حضرات مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور یہ مقدمہ بارگاہِ نبوت میں پیش ہوا تو حضور نبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ عمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی امان کو جائز رکھا اور اس شخص کو مع اس کے مال و اسباب اور اہل و عیال چھوڑ دیا، پھر حضرتِ سَیِّدُنا عماررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو تاکید فرمائی کہ وہ آئندہ بغیر اجازت کسی کو امان نہ دیا کریں ۔ حضرتِ خالد نے عرض کی: یا یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ عمار جیسے غلام کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ میرا مقابلہ کرے ؟ تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے )

 



[1]    مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگران مرکزی مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری سَلَّمَہُ الْبَارِی نے بروز اتوار ۲۱ ربیع الغوث ۱۴۳۲؁ھ بمطابق ۲۷ مارچ ۲۰۱۱ءکو تبلیغ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں وکلا و ججز کے سنتوں بھرے اجتماع میں یہ بیان بنام ’’وکیل کو کیسا ہونا چاہیے ؟‘‘ فرمایا ۔ اس کا ایک حصہ ’’فیصلہ کرنے کے مدنی پھول‘‘ ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیا جا رہا ہے ۔



Total Pages: 19

Go To