Book Name:Huquq Ul Ibad Ki Ehtiyatain

پہلے اسے پڑھ لیجئے                       

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ بُزُرگان دین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی کتابِ حیات کے ہر صفحے میں ہمارے لئے رَہنمائی کے مَدَ نی پھول ہوتے ہیں ۔یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے شام وسَحر اپنے رَبّ  عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا پانے کی کوشش میں گزرتے ہیں ۔ان نفوسِ قدسیہ کی سیرت کا تذکرہ کرنا، سننا، سنانا اور اس کی اشاعت کرنا عین سعادت اور  اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا پانے کا عظیم ذریعہ ہے۔ غالباً اسی مقدس جذبے کے تحت مؤلفین ومؤرخین نے ان بزرگوں کے حالاتِ زندگی قلمبند کئے ہیں مگر چند ایک مثالوں کو چھوڑ کردیکھا جائے توہم اپنے اَکابرین کی حیات وخدمات کو ان کی ظاہری زندگی میں محفوظ کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔

       اعلیٰ حضرت مجدِّدِ دین وملت الشاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنے دوسرے سفرِ حج کے واقعات بیان کرتے ہوئے اس طرف توجہ دلائی ہے ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں :اِس قسم کے وقا ئع(یعنی واقعات) بہت تھے کہ یادنہیں ۔ اگر اسی وقت مُنْضَبَط کرلیے جاتے(یعنی لکھ لیے جاتے)، محفوظ رہتے ،مگر اس کا ہمارے ساتھیوں میں سے کسی کو احساس بھی نہ تھا۔ (ملفوظات ِ اعلیٰ حضرت4حصے صفحہ 209مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ) ایک اور جگہ سفرِ حج کے واقعات بیان کرتے ہوئے اس طرح توجہ دلائی :’’یہ تمام وقائع(یعنی واقعات) ایسے نہ تھے کہ ان کو میں اپنی زبان سے کہتا ، ہمراہیوں کو توفیق ہوتی اور آتے اور جاتے اور ایامِ قیام ہر سرکار کے واقعات روزانہ تاریخ وار قلم بند کرتے تو  اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیشمار نعمتوں کی یادگار ہوتی ،اُن سے رہ گیا اور مجھے بہت کچھ سہو ہوگیا ۔جو یاد آیا بیان کیا،نیت کو  اللہ    عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے۔(ملفوظات ِ اعلیٰ حضرت4حصے صفحہ225 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )

        ان سب باتوں کے پیشِ نظرضَروری تھا کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ ظاہری ہی میں ان کی زندگی کے گوشے کتابی شکل میں مَحفوظ کر لئے جائیں ۔        

        اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے کرم سے شعبہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ     مجلس اَلْمَدِ یْنَۃُ الْعِلْمِیّہ کی طرف سے تادمِ تحریر5 رسائل شائع ہو چکے ہیں ۔

٭تذکرۂ امیرِاَہلسنّت(قسط1)،٭ابتدائی حالات (قسط2)، ٭سنّت ِ نکاح(قسط3)،٭شوقِ علمِ دین(قسط4)،٭علم و حکمت کے 125 مَدَنی پھول(قسط5) اوراس وقت’’تذکرۂ امیرِاَہلسنّت ‘‘کا رسالہ قسط6 بنام’’حقوق العباد کی احتیاطیں ‘‘ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔

      اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قسط 7 ’’امیرِاَہلسنّت اورفنِ شعری‘‘ کے نام سے عنقریب پیش کیا جائے گا ۔

         اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں قبلہ شَیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے زیرِ سایہ ’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کیلئے مَدَنی انعامات کے مطابق عمل اور مَدَنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول  مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہکو دن پچیسویں رات چھبیسو یں ترقی عطا فرمائے ۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مجلس اَلْمَدِ یْنَۃُ الْعِلْمِیّہ

                                 (دعو تِ اسلامی )

۲۶ رَمَضانُ المبارَک ۱۴۳۲ھ27 اگست2011ء   

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ  اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُ رُود شَریف کی فضیلت

        شَیخِ طریقت  ،امیرِ اَہلسنّت ،با نئیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْنقْل فرماتے ہیں ،’’جس نے دن اور رات میں میری طرف شوق ومحبَّت کی وجہ سے تین تین مرتبہ دُرُودِپاک پڑھا  اللہ   تَعَالٰی پر حق ہے کہ وہ اُس کے اُس دن اوراُس رات کے گناہ بخش دے‘‘۔      (الترغیب والترہیب ج۲ص۳۲۸)

         صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب        صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُفلِس کون؟

         حضرتِ سیِّدُنامُسلِم بن حَجّاج قُشَیری  عَلَیْہِ رَ حْمَۃُ اللّٰہِ  الْقَوِی اپنے مشہور مجموعۂ حدیث ’’صَحِیْح مُسْلِم‘‘ میں نَقل کرتے ہیں : سرکار ِنامدار، مدینے کے تاجدار ، رسولوں کے سالار، نبیوں کے سردار، ہم غریبوں کے غمگسار، ہم بیکسوں کے مددگار، شفیعِ روزشُمار جنابِ احمدِ مختار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ نے اِستفِسار فرمایا: کیا تم جانتے ہومُفلِس کون ہے؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ   ! ہم میں سے جس کے پاس دراہِم و سامان نہ ہوں وہ مُفلِس ہے۔ فرمایا: ’’میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزے اور زکوٰۃ لے کر آیا اور یوں آیا کہ اِسے گالی دی، اُس پرتُہمت لگائی، اِس کا مال کھایا، اُس کا خون بہایا، اُسے مارا تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اِس مظلوم کو دے دی جائیں اور کچھ اُس مظلوم کو ،پھر اگر اِس کے ذمّے جو حُقُوق تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اِس کی نیکیاں ختم ہوجائیں تو ان مظلوموں کی خطائیں لیکر اس ظالم پرڈال دی جائیں پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے۔‘‘

(صَحِیح مُسلِم ص۱۳۹۴ حدیث ۲۵۸۱ دار ابن حزم بیروت)

 



Total Pages: 15

Go To