Book Name:Qatil Imamat kay Musalle par

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودِ پاک کی فضیلت

        شیخِ طریقت،ا میرِ اہلسنّت ، با نیٔ دعوتِ اسلامی ، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بیان کے تحریری گلدستے ’’سیاہ فام غلام‘‘ میں منقول ہے کہ امامُ الصّابِرین، سیّدُ الشّاکِرین، سلطانُ الْمُتَوَکِّلِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے: جبریل علیہ السلام  نے مجھ سے عرض کی کہ رب  تَعَالٰی فرماتا ہے: اے مـحـمد! علیہ الصلوٰۃ والسّلام کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا امتی تم پر ایک بار دُرود بھیجے، میں اُس پر دس رَحمتیں نازل کروں اور آپ کی امت میں سے جو کوئی ایک سلام بھیجے، میں اُس پر دس سلام بھیجوں ۔ (مِشْکوٰۃُ الْمَصَابِیح ،ج۱ص۱۸۹، الحدیث ۹۲۸، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : رب کے سلام بھیجنے سے مُراد یا تو بذرِیعۂ ملائکہ اسے سلام کہلوانا ہے یا آفتوں اور مصیبتوں سے سلامت رکھنا۔

 (مراۃ المناجیح،ج۲،ص۱۰۲،ضیائُ القراٰن مرکزالاولیاء لاہور)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(1)قاتل،امامت کے مُصَلّے پر

        دادو (بابُ الاسلام سندھ،پاکستان) میں دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قراٰن (جیل خانہ جات) کے ذمہ دار کا بیان کچھ اس طرح ہے: ایک شخص قتل کے مقدمہ میں دادو کی جیل میں بطورِ قیدی لایا گیا ۔ خوش قسمتی سے وہاں اس کی ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں سے ہوئی جو جیل میں مدنی کام کرتے، قیدیوں کو قراٰن مجید پڑھاتے اور سنّتیں سکھاتے تھے چنانچہ ان اسلامی بھائیوں نے اس قیدی پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے اسے دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قراٰن کے تحت مدرسہ (فیضانِ قراٰن) میں درست تلفظ کے ساتھ قراٰن مجید پڑھنے اور سنّتیں سیکھنے کی دعوت دی، چنانچہ اس نے مدرسہ میں داخلہ لے لیا اور یوں نیک صحبت کی برکت سے اُن میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ، قراٰنِ پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پابندی سے نمازیں پڑھنے، حقوق اللّٰہ ادا کرنے اور عشقِ مصطفٰی کی نورانیت اپنے دل میں بسانے لگے۔ کل تک جس کی آنکھوں میں دہشت و بربریت کی سرخی تھی آج اس کی آنکھوں میں خوفِ خدا کے آنسو تھے، جس کی گفتگومیں شرارت تھی اب اس کی زباں پر نیکی کی دعوت ہے، جس کی گردن غرور و تکبر سے اکڑی رہتی تھی اب خدا عَزَّوَجَلَّ کے روبرو عبادت میں جھکی رہتی ہے۔ بالاخر انہوں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر اپنے سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سنّتوں کے سانچے میں ڈھل گئے، نیز اس عظیم مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘پر کاربند ہو گئے۔ ربیعُ الغوث ۱۴۲۷ھ بمطابق مئی2006ءکو جب یہ اسلامی بھائی رِہاہوکر باہر نکلنے لگے تو جیل کا عملہ اور قیدیوں کی ایک تعداد تھی جن کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ واہ! ایک مجرم، گناہوں کے دلدادہ کو دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول نے عاشقِ رسول اور نیکوکار بنا دیا، مسلمانوں پر ناجائز ظلم وستم کرنے والے کو ان کا خیر خواہ بنا دیا۔ آج اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّتادمِ تحریر وہ خوش نصیب اسلامی بھائی دادو کی ایک مسجد کے امام ہیں اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہے ہیں ۔

وہ کہ اس در کا ہوا خلقِ خدا اس کی ہوئی

وہ کہ اس در سے پھر ا  اللّٰہ اس  سے پھر گیا

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

عظیم خیرخواہ

        تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا آغاز شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے رفقاء کے ساتھ ۱۴۰۱ھ بمطابق 1981ء میں کیا۔ اس کی برکتیں جہاں لاکھوں لاکھ اسلامی بھائیوں کو نصیب ہوئیں اور وہ صلوٰۃ و سنّت کی راہ پر گامزن ہو گئے وہیں اسلامی بہنوں کو بھی گناہوں سے توبہ کرنے اور اپنی زندگی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ و رسول صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰٰلہٖ وسلَّمکے احکامات کے مطابق گزارنے کی سعادت ملی۔ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی پیغام دیکھتے ہی دیکھتے بابُ الاسلام (سندھ)، پنجاب ، سرحد، کشمیر، بلوچستان اور پھر ملک سے باہر ہند، بنگلہ دیش، عرب امارات، سی لنکا، برطانیہ، آسٹریلیا، کوریا، جنوبی افریقہ یہاں تک کہ تادمِ تحریر دنیا کے تقریباً 72 ممالک میں پہنچ گیا اور آگے سفر جاری ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آج (۱۴۳۱ھ میں ) دعوتِ اسلامی 43 سے زائد شعبوں میں سنّتوں کی خدمت میں مشغول ہے۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عموماً قراٰن و سنّت کی تعلیم سے بے بہرہ لوگ ہی نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر قتل وغارت گری، دہشت گردی، توڑپھوڑ، چوری، ڈکیتی، زناکاری، منشیات فروشی اور جوا وغیرہ جیسے گھناؤنے جرائم میں مبتلا ہو کر بالآخر جیل کی چار دیواری میں مقید ہو جاتے ہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّقیدیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے جیل خانوں میں بھی دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قراٰن کے ذَریعے مَدَنی کام کی ترکیب ہے۔

        جیل خانہ جات میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ چند سال قبل ایک قیدی جیل سے رِہائی پانے کے بعد شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ یوں عرض کی کہ آزاد دنیا کی طرح ہماری جیلوں کا بھی ماحول کچھ ایسا ہے کہ قیدی سدھرنے اور توبہ کرنے کے بجائے گناہوں کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جاتا ہے لہٰذا جیل کے اندر نیکی کی دعوت عام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اس کے یہ جذبات سن کر امّت کے عظیم خیر خواہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے آزاد اسلامی بھائیوں کی طرح قیدیوں میں بھی دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام شروع کرنے کافیصلہ فرمایا چنانچہ دعوتِ



Total Pages: 7

Go To