Book Name:Aankhon ka Tara

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودشریف کی فضیلت

       شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت،بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فیضانِ سنّت جلد2کے باب ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘صفحہ301پرحدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم،نُورِمُجَسَّم،شاہِ بنی آدم،نبیِّ مُحتَشَم،شافعِ اُمَمصَلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلہٖ وَسلَّمکافرمانِ مُعَظَّم ہے’’جس نے مجھ پرسومرتبہ درودِپاک پڑھااللّٰہ تَعَالٰی اس کی دونوں آنکھوں  کے درمیان لکھ دیتاہے کہ یہ نفاق اورجہنم کی آگ سے آزادہے اور اسے بروزِقیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا‘‘۔(مجمع الزوائدج۱۰ص ۲۵۳حدیث ۱۷۲۹۸)

صَلُّواعَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیکی کی دعوت ایک ایساعظیم الشّان کام ہے کہ جس کے لیے اللّٰہتبارک و تَعَالٰی مختلف ادوارمیں مختلف انبیاء کرام ورُسلِ عظام عَلَیْھِم الصّلٰوۃوَالسَّلام کومبعوث فرماتارہا۔حتی کہ خاتَمُ النَّبِیِّین،صاحِبِ قراٰنِ مُبین محبوبِ ربُّ العٰلَمِین،جنابِ صادِق وامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمایااورآپ پرسلسلہ نبوت ختم فرمادیا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعدیہ ذمہ داری آپصَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اُمت بالخصوص علمائِ کرام کے حوالے کردی گئی۔جیسا کہ صدرُالْاَفاضِلحضرت علّامہ مولاناسیِّدمحمدنعیم الدّین مُرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الھادِی خَزائِنُ العِرفانمیں فرماتےہیں’’حضرت موسیٰ علَیہ السّلام کے زمانہ سے حضرت عیسیٰعلَیہ السّلام  تک متواترانبیاء آتے رہے ان کی تعداد چارہزاربیان کی گئی ہے یہ سب حضرات شریعتِ موسوی کے محافظ اوراس کے احکام جاری کرنے والے تھے چونکہ خاتم الانبیاء کے بعدنبوت کسی کونہیں مل سکتی اس لئے شریعت محمدیہ کی حفاظت واشاعت کی خدمت ربانی علماء اورمجدّدینِ ملت کوعطا ہوئی‘‘۔(خَزائِنُ العِرفان پارہ 1 سورۃ البقرہ آیت 87صفحہ24)

         نیکی کی دعوت دینے والوں  کی کامیابی کی ضمانت توخودقراٰن نے دی ہے جیساکہ پارہ 4سورۂ اٰلِ عمران آیت۱۰۴میں ارشادہوتاہے:   

وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ

ترجمۂ کنزالایمان:اورتم میں ایک گروہ ایساہوناچاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اوراچھی بات کاحکم دیں اوربُری سے منع کریں اوریہی لوگ مُرادکوپہنچے۔

        مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّتحضرت ِ مفتی احمدیارخانعَلَیہ رحمۃُ الرّحمٰنمذکورہ آیت کے تحت’’نورالعرفان‘‘میں تحریرفرماتے ہیں :اس سے معلوم ہواکہ تبلیغِ دین کرنے والاعالم بہت کامیاب ہے۔(نورالعرفان صفحہ۹۹مطبوعہ پیربھائی کمپنی مرکزالاولیاء لاہور)

        حضرتِ مالک بن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشادفرمایا:مجھے یہ خبرپہنچی ہے کہ قیامت کے دن علماء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سے انبیائ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی طرح تبلیغِ دین کے بارے میں پوچھاجائے گا۔(حلیۃالاولیاء حدیث  ۸۸۶۹ج۶ص۳۴۸دارالکتب العلمیہ بیروت)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرہم تاریخِ اسلام کی ورق گردانی کریں توہم پریہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہمارے علمائِ کرام کَثَّرَہُمُ اللہُ تَعَالٰی نے ہردورمیں احیائِ سنّت ونیکی کی دعوت کے اس فریضہ کوخوب سرانجام دیا۔ ماضی کے اوراق پراگرہم نظرکریں توہردورمیں علمائِ اسلام چاندستاروں کی مانندچمکتے نظر آتے ہیں ۔کہیں امامِ اعظمعَلَیْہِ رَحْمۃ اللّٰہ الاکرم علمِ دین کی رعنائیاں بکھیرتے ہیں تو کہیں  غوث ِپاک عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہ الرزّاق نورِعلم سے قلوب کومنوّرکرتے ہیں ۔کہیں  امامِ غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللّٰہ الوَالِیتلقینِ اُمتِ مسلمہ میں مصروف ہیں  تو کہیں  امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنلوگوں  کے دلوں میں عشقِ مصطفی کی شمعیں جلاتے ہیں ۔الغرض ان مقدس ہستیوں نے تقریر،تصنیف،تحریر،تدریس،نیکی کی دعوت وغیرہ کے ذریعے اپنی اپنی ذمہ داری کوخوب نبھایا۔آج بھی علمائِ کرامکَثَّرَہُمُ اللّٰہ تَعَالٰینیکی کی دعوت کے اس فریضہ کوبخوبی سرانجام دے رہے ہیں ۔انہی علماء میں شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  بھی ہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے تحریروتقریرکے ذریعے نیکی کی دعوت کوخوب عام کیا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ جرم وعصیاں کی دنیاکوچھوڑکرقراٰن وسنّت کی تعلیمات کے پابندبن گئے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے جہاں بیانات کے ذریعے نیکی کی دعوت کو عام کیا وہیں  آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے تحریرکے ذریعے بھی نیکی کی دعوت کے ڈنکے بجائے یوں توآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تالیفات وتصنیفات کافی ہیں ۔لیکن ان میں  ’’فیضانِ سنّت‘‘کوایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔اسی کتاب سے دنیابھرکی بے شمارمساجد،گھروں ،بازاروں اوردیگرمقامات میں روزانہ بے شماراسلامی بھائی درس دے کرنیکی کی دعوت کے پیغام کوعام کرتے ہیں ۔اس کامطالعہ کرکے علمِ دین سیکھنے اوراس کی بَرَکتیں لوٹنے والوں



Total Pages: 7

Go To